
قیصر محمود عراقی
اخبار خبر ہی کی ایک شکل ہے، دبی اور چھپی ہوئی بات یا خبر کہیں، اخبارات کی ایک روپ ہے جو ریاست کی تعمیر وترقی میںقارئین کی مدد فراہم کرتی ہے۔ اخبارات کی اہمیت اور ہیت معاشرے کا فرد اپنے پاس رکھتا ہے اور جب بھی موقع ملے پڑھ سکتا ہے۔ اخبارات وزن میں ہلکی ہونے کی سبب اسے بندہ ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے لے جاسکتا ہے۔ اخبارات ہی کے ذرائع سے طلبا اپنے مارک سیٹ ، سرٹیفیکٹ کے غلط نام درست کرسکتے ہیں، اخبارات کرنٹ افیئر اور دیگر جنرل نالج سے لیز ہیں۔اخبارات صحافت کے ضابطہ اخلاق پر لکھی جاتی ہیں ، اخبارات مختلف سرخیوں ، فیچرز اور کالمز کا خاکہ پیش کرتی ہیںجس میں قارئین ، تجزیہ نگار ، مصنف اور بالا افسران کی ڈیمانڈز اور رائے موجود ہوتی ہے جو حقیقت کی پیش آرائی ہوتی ہے۔ اخبارات سے ہم تازہ معلومات کسی بھی صفحے سے حاصل کرسکتے ہیں گو کہ اخبار معلومات کا ایک اچھا اور بہترین ذریعہ ہے ۔ اخبار میں مختلف تجربہ کار ایڈیٹر کام کرتے ہیں اور مختلف رپورٹرزکام کرتے رہے ہوتے ہیں ۔ اخبارات کی حقیقت پر یقین رکھتے ہیںاور ثبوت کے ساتھ ہر دبی چھپی خبر آزادئی رائے سے پیش کرتی ہے، اخبارات موجودہ دور میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
ہمارے ملک میں مختلف قسم کے خبارات یا روزنامے قابل تعریف ہیںجس میں مغربی بنگال سے شائع ہونے والا روزنامہ ’’اخبارِ مشرق‘‘،’’عوامی نیوز‘‘،’’عکاس‘‘، ’’سیاسی تقدیر‘‘۔رانچی سے شائع ہونے والا اخبار’’روزنامہ الحیات‘‘، ’’جدید بھارت‘‘، ’’جمہوریت ٹائمز‘‘۔ پٹنہ بہار سے شائع ہونے والا اخبار’’قومی تنظیم‘‘، ’’فاروقی تنظیم‘‘، ’’تاثیر‘‘، ’’سہارا اکسپریس‘‘، ’’پندار‘‘، ’’سنگم‘‘، ’’خبرجنتا‘‘اور’’ہمارا سماج‘‘۔ بنگلور سے شائع ہونے والا اخبار’’سالار‘‘،’’پاسبان‘‘۔ گلبرگہ سے ’’انقلاب دکن‘‘، ممبئی سے ’’روزنامہ ہندوستان‘‘، ’’انقلاب‘‘ ، ’’اردو ٹائمز‘‘، ’’ممبئی اردو نیوز‘‘، ’’روزنامہ صحافت‘‘۔ لکھنؤ سے شائع ہونے والا اخبار’’اودھ نامہ‘‘، ’’روزنامہ آگ‘‘اور ’’قومی صحافت‘‘۔ حیدر آباد سے ’’منصف‘‘،’’صحافی دکن‘‘، ’’اعتماد‘‘، ’’سیاست‘‘،’’سہارا‘‘۔ دہلی سے ’’سماج نیوز‘‘، ’’ہمارا مقصد‘‘، ’’سچ کی آواز‘‘، ’’ میزائل ایسکپریس‘‘، ’’ الحباب‘‘، سدھارتھ نگر سے’’ شان سدھارتھ ‘‘۔ نانڈیر سے ’’یقین کامل‘‘، ’’نانڈیر ٹائمز‘‘، ’’تہلکہ ٹائمز‘‘اور کشمیر سے ’’ڈیلی نگران‘‘، ’’تعمیل ارشاد‘‘، ’’کشمیر عظمیٰ‘‘، ’’سری نگر میل‘‘، ’’جنگ‘‘، ’’اڑان‘‘ اس کے علاوہ اور بھی اخبارات شائع ہوتے ہیں جو قابل ذکر ہیں۔ یہ تمام اخبارات بیک وقت ملک کے تمام صوبوں اور ضلعوں میں چھپاکر عوام الناس کے سامنے پیش کئے جاتے ہیںکیونکہ یہ صنعت کاری روز گار کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔
قارئین محترم! اخبارات کے افسران ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرتے ہیں، جہاں امیر غریب نہیں دیکھا جاتا بلکہ اخبارت مساوات کا ذریعہ قائم کرتی ہیں، جہاں ہر غریب کی سنوائی آسانی سے ہوتی ہے اور ہر متعلقے ادارے کا افسر ہوں یا عوام الناس کم قیمت میں اچھی خاصی معلومات اخبارات کے ذریعہ ہی حاصل کرتے ہیں۔ بہر حال میں آخر میںاخبارات پڑھنے والے قارئین سے گذارش کرتا ہوں کہ اخبار پڑھنے کے بعد اس کو کسی سیف جگہ میں رکھیں کیونکہ اخبارات میں احادیث بھی لکھی جاتی ہیں ، اسلامی اقدار بھی شامل کئے جاتے ہیں، اس لئے اس کی حفاظت کریں تاکہ بے حرمتی نہ ہو۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جگہ جگہ اخبارات میں تندور والے روٹی لپیٹ کر دیتے ہیںاور لینے والا شخص اسے اپنے گھر یا برآمدے میں پھینک دیتا ہے اور کچھ روڈ میں پڑی رہتی ہیں اخبارات کے ٹکڑے جو آپ کو جگہ بہ جگہ مل جائینگے۔ خیر عاقل شخص ہی اس کا خیال رکھ سکتا ہے۔


