
ڈاکٹر میر ساجد حسین
انگریزی سے ترجمہ:ماجد مجید ،کشمیر یونیورسٹی
اس منصوبہ کے تحت پہلے (حمایت کے علمبرداروں نے) یہاں کے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے حسین خواب دکھائے۔جبکہ اس منصوبہ کا مقصد ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا۔لیکن بدقسمتی سے منصوبہ کو بد انتظامی۔غیر شفافیت کا شکار ہونا پڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔وجوہات۔۔۔(1) ۔دین دیال اپا دھایا گرامین کو شالیا یوجنا کے زیر انتظام جموں و کشمیر اور لداخ کے لئے تیار کی گئی تجویز (حمایت) کا مقصد 18سے35سال کے دیہی نوجوان کو مفت تربیت اور روزگار فراہم کرنا تھا جس کے لئے ورلڈ بینک کی مالی امداد حاصل تھی۔۔۔ سال2011 سے2015 تک 67000 نوجوان مستفید ہوئے جن میں صرف 25000 نوجوانوں کو روزگار ملا یہ المیہ اس وقت کی ناقص تربیت اور مایوس کن نگرانی کے سبب ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔سال 2018 سے 2022 تک کی مدت میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیاں سامنے آگئیں اور (حمایتی کی گھوڑی عراقی کے لات مارنے لگی)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کئی ایجنسیوں کی جانب سےجعلی امیدوارں کا تقرر ۔جھوٹے روز گار کے دعوے اور حکومت وقت سے فرضی بلوں کی ادایئگی کروانا جیسے (حمایتی کی گھوڑی عراقی کے لات مارنے کے ) مثل ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سال 2023 میں( سی بی آئئ) کی تحقیقات کے مطابق تقریبأ 80 کروڑ روپیہ کا غلط استعمال ہوا ۔اصلاحات کے بجائےمنصوبہ پر قدغن لگائی گئی جس سے وہ ادارے بھی مفلوج ہوئے جو ایمانداری اور دیانتداری سے کام کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔( کپل شرما سے شیتل نندا تک)۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔کپل شرما( سابق مشن ڈائریکٹر) کے دور میں کرپٹ ایجنسیز اور اندرونی عملے کے درمیان ساز باز اور ملی بھگت عروج پر رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شیتل نندا( سیکریٹری دیہی ترقی) نے چھان بین کا آغاز کیا۔لیکن بہت جلد وہ بھی سراب ثابت ہوکر ایماندار درخواست گزاروں کو نطر انداز کرکے بدعنوان فریقوں کا راستہ صاف کرگئے۔
سال 2020 سے 2022 کے توسیعی مرحلے میں کئی مقامی غیر سرکاری ادارے اور نوجوان قیادت اداروں نے منصوبہ ( حمایت) میں شمولیت کے ٹی لئے عرضی دی اور 147000 روپیہ فی کس کی لازمی فیس اور قوانین کی پابندی مکمل کرکے آخری مرحلہ تک پہونچ گئے ۔پھر بد قسمتی سے بدعنوانیوں کا پھر سے عروج ہوا اور ان کی کشتی کنارے پر پہونچنے سے پہلے ہچکولے پرہچکولا کھاگے ڈوب گئی ۔۔
حمایت (0۔2) ایک نئی کرن۔۔۔۔۔۔ چند اہم اور معزز شخصیات مثلأ (1)محمد اعجاز (IAS .سیکریٹری دیہی ترقی۔۔) اور (2) راجنیش گپتا (JKAS چیف آپریٹنگ آفیسر HMMU )حمایتی منصوبہ کے لئے امید کی نئی کرن نظر آرہی ہیں ۔ان کی کامیابی کے لئے مندرجہ ذیل نقاط پر تبصرہ ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(1) مکمل شفافیت ۔وضاحت اور منصفانہ انتخاب کو یقینی بنانا ہوگا۔۔۔(2) ایسے مقامی تجربہ کار اور با صلاحیت شراکت داروں کو ترجیح دی جانی چاہئے جن کو جغرافیہ ۔ثقافت اور زمینی حقائق کا علم ہو۔(3) ۔پیشگی ادا کی گئی رقم واپس کردی جائے یا پھر اس نئے عمل کے لئے مدغم کی جائے۔(4) ماضی کے کئی دیانت دار ایجنسیوں کو دوبارہ اس منصوبے میں شامل کیا جائے یا انہیں معاوضہ دیا جائے۔(5) شکایتوں کے ازالہ کا انتظام ہو اور مقامی سطح پر موثر اداروں کی قیادت حاصل ہو ۔
لہذا اعجاز صاحب(IAS) اور راجنیش گپتا (JKAS)صاحبان سے مودبانہ التماس ہے کہ کمرشل مفاد سے بالا تر ہوکر سچے شراکت داروں کو ترجیح دی جائے اسکے علاوہ جو ادارے پہلے سے ہی منسلک اس میدان میں اپنے خدمات انجام دے چکے ہوں انہیں پھر سے اعتماد میں لیا جائے تاکہ کھویا ہوا اعتماد پھر سے بحال ہو۔اور یہی حکام کےلئے اپنی قابلیت اور نیت ثابت کرنے کا بہترین موقع ہے ۔۔
ززز


