
جاویدجمال الدین
سابق امریکی صدر براک اوباما نے حال میں ایک تقریب میں تقریرکرتے ہوئے ٹرمپ حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ آج امریکی حکومت چلا رہے ہیں وہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو کمزور کر رہے ہیں۔کیونکہ جمہوریت میں ضروری ہے کہ حکومت کے اندر اور باہر سے غلط باتوں کی مخالفت ہو، لیکن اب ایسا نہیں ہو رہا۔ اوباما نے کہا کہ تجارتی سودوں میں لوگوں کو ڈرایا جا رہا ہے جو نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی طور پر بھی خطرناک ہے۔ اپنے دور اقتدار کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کے باوجود اس نے ٹیرف جیسے اقدامات کو غیر ضروری طور پر استعمال نہیں کیا۔جبکہ موجودہ سیاسی صورتحال میں نوجوانوں کو چاہئیے کہ وہ ملک بچانے کے لیے آگے آئیں۔ایران پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر جس جانبداری کا مظاہرہ کیا،اور جنگ بندی کے لیے مجبور ہوناپڑا،اس کی وجہ سے امریکہ کی پوزیشن پر کافی بُرا اثر پڑا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سابق صدر اوباما کو اس بات کا اظہار کرنا پڑاہے۔دراصل مشرق وسطی کے حالات پر امریکہ کوسبکی اٹھانی پڑی ہے ۔
مشرق وسطیٰ کے موجودہ جنگی ماحول کے بعد امریکہ اور اسرائیل کے دعووں کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ ایران نے جنگ میں جو جرات دکھائی ہے،اُس نے اسے سرخروئی دلائی ہے۔دنیا ہی نہیں بلکہ امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی ایران کے حق میں بیان دیئے ہیں۔اورتب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں کہاہے کہ ان کے ملکنے اسرائیل پر فتح حاصل کی ہے۔ اس طرح ایران نے امریکہ کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ خامنہ ای نے یہ باتیں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں کہیں۔
ایران کے سپریم لیڈر نے کسی دوسرے امریکی حملے کے خلاف بھی خبردار کیا۔ 86 سالہ خامنہ ای نے تہران پر اسرائیلی افواج کی ہمباری کے بعد 12،روزہ جنگ کے دوران ایک خفیہ مقام پر پناہ لی تھی۔ خامنہ ای نے کہا کہ امریکہ نے جنگ میں صرف اس لیے مداخلت کی کہ اسے لگا کہ اگر اس نے مداخلت نہ کی تو یہودی حکومت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ تاہم انہوں نے دعوی کیا کہ امریکہ کو اس جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوا۔ خامنہ ای نے قطر میں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملے کا بظاہر حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہور یہ فتح یاب ہوا اور امریکہ کے منہ پر طمانچہ مارا ۔ خامنہ ای نے خبر دار کیا، مستقبل میں ایسی کارروائی دوبارہ برھائی جاسکتی ہے۔ ایران کو علاقے میں بڑے امریکی اڈوں تک رسائی حاصل ہے اور وہ جب بھی ضروری سمجھے گا، کارروائی کر سکتا ہے۔ اگر مستقبل میں ایران پرحملہ ہوا تو دشمن کو یقینا بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ 13 جون کو جنگ شروع ہونے کے بعد کسی خفیہ مقام پر پناہ لینے کے بعد سے خامنہ ای کو عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیاہے۔
اسرائیل نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا اور ابھی فوجی کمانڈروں اور سائنسدانوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں امریکہ نے 22 جون کوبنکر بسٹر جہازوں سے ایران کی جوہری تحصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کردیا،جوگزشتہ منگل سے نافذ العمل ہوا۔ واضح رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی وجہ سے دونوں ممالک کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کئی عمارتیں زمین بوس ہو گئیں، جب کہ کئی افراد لقمہ اجل بن گئے۔ تاہم جنگ کے بعد ہونے والے نقصانات کے عمل اعداد و شمار ابھی آنا باقی ہیں۔ جنگ کی وجہ سے اسپتالوں اور عمارتوں سمیت کئی اہم عمارتوں کو نقصان پہنچایاگیاہے۔ایران کے میزائل حملوں میں اسرائیل دہلی گیاہے۔
ایران کے وزیر خارجہ سعید عباس عراقی نے بھی وضاحت کی ہے کہ ایرانی سرزمین پر اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا کوئی انتظام یا عزم نہیں کیا گیا ہے۔ سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ، عراقی نے کہا کہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر غور کیا جا رہا ہے، لیکن سیاسی بات پر منحصر ہوگا کہ آیا تہران کے قومی مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے فیصلے صرف اور صرف ایران کے مفادات پر مبنی ہوں گے۔ اگر ہمارے مفادات مذاکرات کی طرف واپسی کا تقاضا کرتے ہیں تو ہم اس پر غور کریں گے۔ لیکن اس مرحلے پر کوئی معاہدہ یا وعدہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی بات چیت ہوتی ہے۔ عراقی نے 2015 کے جوہری معاہدے کو بحال کرنے اور امریکی پابندیاں بنانے کے بارے میں بات چیت کے پچھلے دور میں واشنگٹن پر ایران کو دھوکہ دینے کا الزام لگایاہے۔
اسرائیل میں وزیر اعظم نیتین یاہو نے ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے بعد اب امن کے امکانات بڑھ گئے ہیں اور اسرائیل ان مواقع کو ضائع نہیں کرے گا۔ نیتن یاہو نے کہا فتح اور کامیابی ملک کے لیے مواقع لاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں امن بھی پھیلے گا اور نئے معاہدات بھی ہوں گے۔ اس سلسلے میں پورے جوش اور جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ساتھ ہم غزہ میں حماس کی لمبی قید میں پڑے اپنے قیدیوں کی رہائی اور حماس کی شکست کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔ ہمارے لیے ایران کے ساتھ جنگ کے نتیجے میں امید پیداہوئی ہے۔ہم اس سلسلے میں ایک دن بھی ضائع کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایک اسرائیلی اخبار نے اپنے ذرائع سے رپورٹ کیا ہے کہ ٹرمپ اور نتین یا ہو کا باہم اتفاق ہوا ہے کہ وہ غزہ جنگ کو تیزی سے اختتام کی طرف لائیں گے۔ اخباری ذرائع کے مطابق یہ اتفاق ہی فون پر ہونے والی بات چیت میں کیا گیا ہے۔ اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ جنگ کے بارے میں ٹرمپ اور نتین یا ہو میں یہ اتفاق ممکنہ طور پر اگلے دوہفتوں میں جنگ بندی کرنے کے لیے ہے۔ اس جنگ بندی کے بدلے میں امکان ہے کہ اسرائیل کے حق میں ابراہم معاہدہ بھی ایک بار پھر آگے بڑھے اور اسرائیل کو ایک ریاست سمجھ کر اور عرب ملک تسلیم کریں۔ اگرچہ اسرائیلی وزیر اعظم کے بیان میں اشارنا اس امکان کو زیر بحث لایا گیا ہے لیکن ان کے دفتر نے اس بارے میں کھلے انداز سے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔جس طرح ٹرمپ نے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرائی ہے۔ اس انداز سے غزہ میں جنگ بندی کی توقع ہے۔ خیال رہے غزہ میں جنگ کے اکیس ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ ویسے اسرائیلی وزیر اعظم کا دعویٰ ہےکہ اسرائیل نے ایران کو کمزور کر دیا ہے۔ اب ہو سکتا ہے کہ مزید کئی ملک ابراہم معاہدے کے تحت بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں۔
اسرائیلی میڈیا میں شائع شدہ خبروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نے دو ہفتوں میں غزہ میں جنگ ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اسرائیلی روزنامے ’ دی ٹائمز آف اسرائیل ’ کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں امریکا کے ایران پر حملے کے بعد، اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گفتگو ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے غزہ میں جنگ کے فوری خاتمے اور ابراہیمی معاہدے کو توسیع دینے پر اتفاق کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، ایک ’ باخبر ذریعے’ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور نیتن یاہو نے فون پر اس بات پر اتفاق کیا کہ غزہ کی جنگ آئندہ دو ہفتوں میں ختم کر دی جائے گی، اس کے بعد چار عرب ممالک، جن میں متحدہ عرب امارات اور مصر بھی شامل ہیں، حماس کی جگہ غزہ پر مشترکہ طور پر حکومت کریں گے، اور حماس کی قیادت کو جلاوطن کر دیا جائے گا اور تمام یرغمالیوں کو رہا کر دیا جائے گا۔
تاہم، عرب اتحادی بارہا اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ وہ غزہ کی جنگ کے بعد اس کی تعمیرِ نو میں اُس وقت تک شریک نہیں ہوں گے جب تک اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کو غزہ میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں دیتا، تاکہ مستقبل میں دو ریاستی حل کی راہ ہموار ہو سکے، لیکن نیتن یاہو نے فلسطینی اتھارٹی کے کسی بھی کردار کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔اس لیے غزہ اور فلسطین کے بارے میں حتمی فیصلہ ہونے تک خطہ میں کشیدگی برقرار رہیگی۔


