سیکولرزم سے خوفزدہ کیوں ہے سنگھ؟


سراج نقوی

آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے نے مطالبہ کیا ہے کہ آئین کے دیباچے سے ’سیکولرزم‘اور ’سوشلزم‘ کا لفظ ہٹا دیا جانا چاہیے۔سنگھ لیڈر جمعرات کے روز نئی دلّی میں ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ دراصل بی جے پی اور اس کی نظریاتی ’مائی باپ‘ تنظیم آر ایس ایس ہر سال 25جون یا اس کی قریبی تاریخوں میں عوام کو ایمرجنسی کی یاد دلانے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرتی ہے ۔ان پروگراموں کا مقصد ظاہری طور پر کچھ بھی بیان کیا جائے لیکن اصل مقصد عوام سے اپنی ناکامیوں اور آمرانہ پالیسیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا اوران پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ہوسبلے نے جس پروگرام میں شرکت کی اس میں بھی ایک طرف تو انھوں نے ایمرجنسی کے دور میں کانگریس حکومت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ،دوسری طرف سنگھ کے نظریے میں موجود سیکولرزم اور سوشلزم کے خلاف نفرت کا زہر بھی ان کی تقریر میں کھل کر سامنے آگیا۔مذکورہ مطالبہ اس کا ثبوت ہے۔
آنجہانی اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں ایمرجنسی کا نفاذ 25جون1975کوکیا گیا تھا،اور 21مارچ1977کوایمرجنسی ختم کرکے شہریوں کے تمام آئینی حقوق کو بحال کر دیا گیا تھا۔اسی دوران یعنی 1976میں حکومت نے آئین میں 42ویں ترمیم کرکے اس کے دیباچے میں ’سیکولرزم‘ اور ’سوشلزم‘کے الفاظ کو شامل کیا جس کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ ہندوستان کو ایک ’’خود مختار سوشلسٹ سیکولر جمہوریہ ‘قرار دیا جا سکے۔حالانکہ یہ بات بھی بہرحال درست ہے کہ چند استثنائی شقوں کے علاوہ ہمارے آئین کی روح اپنے نفاذ کے روزِ اول سے ہی سیکولر اور سوشلسٹ ہے۔کانگریس میں موجود آر ایس ایس کے مبینہ ’سلیپر سیل‘ کی بات چھوڑ دیں اور صرف پارٹی کے نظریاتی پہلو پر بات کریں تو یہ پارٹی روز اول سے ہی سیکولرزم اور سوشلزم کی حامی رہی ہے۔جبکہ دوسری طرف آر ایس ایس کے خمیر میں ہی ان نظریات کے خلاف نفرت کی حد تک مخالفت پائی جا تی ہے۔سنگھ پریوار مسلمانوں کی بات چھوڑیںہندوئوں کی مبینہ اعلیٰ ذاتوں کو چھوڑ کر باقی ذاتوں کے لیے جو جذبہ حقارت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیںہے۔’منوواد‘ کی علمبردار اس تنظیم میں سیکولرزم اور سوشلزم کے خلاف جو زہر ہے اس کا سبب بھی دراصل یہی ہے۔اس زہر میںگذشتہ ۱۱ برسوں میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا ہے اور اس کا سبب بھی واضح ہے۔اقتدار کے نشے میں سنگھ کے تربیت یافتہ حکمرانوں نے فرقہ پرست عناصر کو اس قدر آزادی دے دی کہ اب لوگوں کو نام اور مذہب پوچھ پوچھ کر ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ان کے خلاف سرکاری فیصلے صادر کیے جاتے ہیں،اور ہمارا آئین جو ہر شہری کو بلا تفریق مذہب و مسلک مساوی طور پر جینے اور اپنے جائز مذہبی و سیاسی نظریات پر قائم رہنے و عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے اسے غصب کیا جا رہا ہے۔سیکولرزم اور سوشلزم کا لفظ ہمارے آئین میں بھلے ہی کبھی بھی شامل کیا گیا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ مستثنات کے ساتھ اس کی روح سیکولر ہی رہی ہے۔البتہ ایمرجنسی کے دور میں آئین میں کی گئی ترمیم کے بہانے آر ایس ایس اس سیکولرزم کے تصور کو ہی ختم کرنے کے مواقع تلاش کر رہی ہے۔ ہوسبلے کا زیر بحث بیان یا مطالبہ سنگھ کی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
اپنی مذکورہ تقریر میں سنگھ کے جنرل سکریٹری نے کانگریس سے یہ مطالبہ کیا کہ’ اسے 50سال قبل لگائی گئی ایمرجنسی کے لیے معافی بھی مانگنی چاہیے ۔‘یہ درست ہے کہ کانگریس نے ایمرجنسی کے لیے کبھی بھی معافی نہیں مانگی ہے،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی اسے اپنی دادی کی ’’غلطی‘‘ بتا چکے ہیں۔یہاں موضوع بحث ایمرجنسی نہیں لیکن سنگھ اور بی جے پی کے لیڈروں کے ایمرجنسی کے تعلق سے رویے کو دیکھتے ہوئے ان سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ کانگریس نے اگر اپنے دور اقتدار میں نافذ کی گئی اعلانیہ ایمرجنسی کے لیے معافی نہیں مانگی ہے تو دوسری طرف مودی حکومت یا بی جے پی کے اقتدار والی کئی ریاستی حکومتیں جس طرح غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسے اور اندرا گاندھی کے دوراقتدار والی ایمرجنسی سے بھی کہیں بد تر حالات پیدا کیے ہیں تو کیا اس کے لیے سنگھ اور بی جے پی اور عوام سے معافی نہیں مانگنی چاہیے۔اس لیے کہ اعلانیہ ایمرجنسی کے دور میںآئینی ادارے آج کی غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے کہیں بہتر تھے،اور انھیں اتنی آزادی تو بہرحال حاصل تھی کہ اندرا گاندھی کو الہ آباد ہوئی کورٹ نے طلب کرکے انھیں تقریباً دو گھنٹے عدالتی کارروائی میں کھڑا رکھا،لیکن آج اس کا تصور وزیر اعظم یا کسی مرکزی وزیر،وزیر اعلیٰ یا بی جے پی و سنگھ کے بڑے لیڈر کے تعلق سے کرنا بھی عدالتوں نے شائد گناہ عظیم مان لیا ہے۔عدالتیں ای ڈی،سی بی آئی یا ایسے ہی اداروں کے خلاف کچھ بھی کہیں،لیکن ان اداروں پر کنٹرول رکھنے والی حکومت اور وزراء کو عدالت میں حاضر ہونے سے بہرحال غیر اعلانیہ آزادی حاصل ہے۔اس کا سبب بھی سب جانتے ہیں۔
سنگھ لیڈر نے اپنی زیر بحث تقریر میں کہا کہ’ ایمرجنسی کے دوران ہزاروں لوگوں کو جیل میں ڈالا گیا،تشد د کا نشانہ بنایا گیا اور عدلیہ و میڈیا کی آزادی کو سلب کر لیا گیا۔‘دراصل فاشزم کا سب سے موثر ہتھیار یہ ہے کہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا رخ اپنے مخالفین کی طرف اس طرح موڑ دیا جائے کہ لوگ الزامات کی اس بھول بھلیاں میں الجھ کر اس ملزم یا مجرم کو بھول جائیں۔سنگھ کے جنرل سکریٹری ایمرجنسی کے بہانے کس طرح عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بی جے پی کے زیر اقتدار حکومتوں کی آمرانہ پالیسیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیںاس کا ثبوت مذکورہ بیان ہے۔
یہ درست ہے کہ ایمرجنسی کے دور میں ہزاروں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ان میں بڑی تعداد اندرا گاندھی کے مخالف سیاسی لیڈروں کی تھی اور عام آدمی اتنی بڑی تعداد میں اس کا نشانہ نہیں بنے۔دوسری بات یہ کہ ایمرجنسی کے دور میں ہونے والے تشدد کی ذمہ داری پوری طرح پولیس اور دیگر سلامتی دستوں یا سرکاری ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے،لیکن آج عوام کے کچھ طبقات پر ہونے والے تشدد کی صورت مختلف ہے۔آج بی جے پی یا سنگھ مخالف تشدد نے ملک کی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات پر ہونے والے تشدد کی شکل اختیار کر لی ہے اور اس تشدد میں سرکاری ایجنسیوں یا پولیس دستوں کی ناانصافیوں سے کہیں زیادہ سنگھ اور بی جے پی کے پروردہ اور حمایت یافتہ عناصر شامل ہیں ،اور حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی تو درکنار لب کشائی تک کی زحمت نہیں کرتی۔بلکہ اس سے بھی آگے کی بات یہ ہے کہ تمام سرکاری عملہ ان عناصر کے ظلم و تشدد کا شکار ہونے والے اقلیتی یا پسماندہ طبقات کے فرقے کے افراد کو ہی اکثر جیل رسید کرکے اقلیتوں کی احتجاج کی آواز تک کو بے شرمی سے دبا دیا جاتا ہے۔ہوسبلے فرماتے ہیں کہ’ ایمرجنسی کے دور میں عدلیہ اور پریس کی آزادی کو سلب کر لیا گیا۔‘سنگھ لیڈر کے اس بیان پر انھیں صرف یہ بتانا کافی ہے کہ ایمرجنسی کے دور میں میڈیا کے ایک بڑے حصے کو’’گودی میڈیا‘،’درباری میڈیا‘ یا سرکاری بھونپو نہیں کہا گیا،لیکن آج کیا حالات ہیں،یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس تعلق سے حقائق دنیا کے سامنے ہیں۔دنیا بھر میں ہندوستانی میڈیا کی اس قدر توہین ایمرجنسی سمیت تاریخ کے کسی دور میں نہیں ہوئی۔
جہاںتک عدلیہ کی آزادی پر ایمرجنسی کے دور میں قدغن لگانے کا معاملہ ہے تو یہ بھی صرف جزوی طور پر سچ ہے۔ملک کی اب تک تاریخ میں شائد انگریزی دور اقتدار میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوا ہوگا کہ جب بہت سے سرکاری معاملات میں فیصلہ سنانے سے بچنے کے لیے ججوں نے مختلف اسباب بتا کر خود کو مقدمے کی سماعت سے الگ کر لیا ہو،اور جنھوں نے حکومت کے موقف کے خلاف موقف اپنانے کا اشارہ دیا ہے ان کا راتوں رات بے سبب تبادلہ کرکے کسی مقدمے کی سماعت سے الگ کر دیا گیا ہو۔ایسا بھی شائد کبھی نہیں ہوا ہو کہ کسی ہائی کورٹ کے جج نے ملازمت سے مستعفی ہو کر بی جے پی میںشمولیت اختیار کر لی ہو،کسی جج کو بی جے پی حکومت کے حق میں اور عدل و انصاف کے تقاضوں کا قتل کرنے کے انعام میں ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد کسی اعلیٰ عہدے پر تقرری دے دی گئی ہو۔اپنی پسند کے نوکو شاہوں کی ملازمت کو توسیع دینے کے معاملے میں تو مودی سرکارنے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود اگر سنگھ اور بی جے پی لیڈر ایمرجنسی کے نام پر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں تو دراصل یہ اپنی ناکامیاں اور ناقص کارکردگی کو چھپانے کی گھٹیا کوشش کے سوا کچھ نہیں۔گڑے مردے اکھڑنے کی یہ کوشش دراصل سیاست میں مردہ ضمیری کا ہی ثبوت ہے۔سیکولرزم اور سوشلزم سے بھی دراصل سنگھ اور بی جے پی اسی لیے خوفزدہ ہیں کہ یہ تصور ان کی ناکامیوں اور نظریاتی گمراہیوں کی پول کھولتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

سیکولرزم سے خوفزدہ کیوں ہے سنگھ؟


سراج نقوی

آر ایس ایس کے جنرل سکریٹری دتاتریہ ہوسبلے نے مطالبہ کیا ہے کہ آئین کے دیباچے سے ’سیکولرزم‘اور ’سوشلزم‘ کا لفظ ہٹا دیا جانا چاہیے۔سنگھ لیڈر جمعرات کے روز نئی دلّی میں ایک پروگرام سے خطاب کر رہے تھے۔ دراصل بی جے پی اور اس کی نظریاتی ’مائی باپ‘ تنظیم آر ایس ایس ہر سال 25جون یا اس کی قریبی تاریخوں میں عوام کو ایمرجنسی کی یاد دلانے کے لیے مختلف پروگرام منعقد کرتی ہے ۔ان پروگراموں کا مقصد ظاہری طور پر کچھ بھی بیان کیا جائے لیکن اصل مقصد عوام سے اپنی ناکامیوں اور آمرانہ پالیسیوں سے عوام کی توجہ ہٹانا اوران پر پردہ ڈالنا ہوتا ہے۔ہوسبلے نے جس پروگرام میں شرکت کی اس میں بھی ایک طرف تو انھوں نے ایمرجنسی کے دور میں کانگریس حکومت کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ،دوسری طرف سنگھ کے نظریے میں موجود سیکولرزم اور سوشلزم کے خلاف نفرت کا زہر بھی ان کی تقریر میں کھل کر سامنے آگیا۔مذکورہ مطالبہ اس کا ثبوت ہے۔
آنجہانی اندرا گاندھی کے دور اقتدار میں ایمرجنسی کا نفاذ 25جون1975کوکیا گیا تھا،اور 21مارچ1977کوایمرجنسی ختم کرکے شہریوں کے تمام آئینی حقوق کو بحال کر دیا گیا تھا۔اسی دوران یعنی 1976میں حکومت نے آئین میں 42ویں ترمیم کرکے اس کے دیباچے میں ’سیکولرزم‘ اور ’سوشلزم‘کے الفاظ کو شامل کیا جس کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ ہندوستان کو ایک ’’خود مختار سوشلسٹ سیکولر جمہوریہ ‘قرار دیا جا سکے۔حالانکہ یہ بات بھی بہرحال درست ہے کہ چند استثنائی شقوں کے علاوہ ہمارے آئین کی روح اپنے نفاذ کے روزِ اول سے ہی سیکولر اور سوشلسٹ ہے۔کانگریس میں موجود آر ایس ایس کے مبینہ ’سلیپر سیل‘ کی بات چھوڑ دیں اور صرف پارٹی کے نظریاتی پہلو پر بات کریں تو یہ پارٹی روز اول سے ہی سیکولرزم اور سوشلزم کی حامی رہی ہے۔جبکہ دوسری طرف آر ایس ایس کے خمیر میں ہی ان نظریات کے خلاف نفرت کی حد تک مخالفت پائی جا تی ہے۔سنگھ پریوار مسلمانوں کی بات چھوڑیںہندوئوں کی مبینہ اعلیٰ ذاتوں کو چھوڑ کر باقی ذاتوں کے لیے جو جذبہ حقارت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیںہے۔’منوواد‘ کی علمبردار اس تنظیم میں سیکولرزم اور سوشلزم کے خلاف جو زہر ہے اس کا سبب بھی دراصل یہی ہے۔اس زہر میںگذشتہ ۱۱ برسوں میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا ہے اور اس کا سبب بھی واضح ہے۔اقتدار کے نشے میں سنگھ کے تربیت یافتہ حکمرانوں نے فرقہ پرست عناصر کو اس قدر آزادی دے دی کہ اب لوگوں کو نام اور مذہب پوچھ پوچھ کر ان پر تشدد کیا جاتا ہے۔ان کے خلاف سرکاری فیصلے صادر کیے جاتے ہیں،اور ہمارا آئین جو ہر شہری کو بلا تفریق مذہب و مسلک مساوی طور پر جینے اور اپنے جائز مذہبی و سیاسی نظریات پر قائم رہنے و عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے اسے غصب کیا جا رہا ہے۔سیکولرزم اور سوشلزم کا لفظ ہمارے آئین میں بھلے ہی کبھی بھی شامل کیا گیا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ مستثنات کے ساتھ اس کی روح سیکولر ہی رہی ہے۔البتہ ایمرجنسی کے دور میں آئین میں کی گئی ترمیم کے بہانے آر ایس ایس اس سیکولرزم کے تصور کو ہی ختم کرنے کے مواقع تلاش کر رہی ہے۔ ہوسبلے کا زیر بحث بیان یا مطالبہ سنگھ کی اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
اپنی مذکورہ تقریر میں سنگھ کے جنرل سکریٹری نے کانگریس سے یہ مطالبہ کیا کہ’ اسے 50سال قبل لگائی گئی ایمرجنسی کے لیے معافی بھی مانگنی چاہیے ۔‘یہ درست ہے کہ کانگریس نے ایمرجنسی کے لیے کبھی بھی معافی نہیں مانگی ہے،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ کانگریس لیڈر راہل گاندھی اسے اپنی دادی کی ’’غلطی‘‘ بتا چکے ہیں۔یہاں موضوع بحث ایمرجنسی نہیں لیکن سنگھ اور بی جے پی کے لیڈروں کے ایمرجنسی کے تعلق سے رویے کو دیکھتے ہوئے ان سے یہ سوال پوچھا جانا چاہیے کہ کانگریس نے اگر اپنے دور اقتدار میں نافذ کی گئی اعلانیہ ایمرجنسی کے لیے معافی نہیں مانگی ہے تو دوسری طرف مودی حکومت یا بی جے پی کے اقتدار والی کئی ریاستی حکومتیں جس طرح غیر اعلانیہ ایمرجنسی جیسے اور اندرا گاندھی کے دوراقتدار والی ایمرجنسی سے بھی کہیں بد تر حالات پیدا کیے ہیں تو کیا اس کے لیے سنگھ اور بی جے پی اور عوام سے معافی نہیں مانگنی چاہیے۔اس لیے کہ اعلانیہ ایمرجنسی کے دور میںآئینی ادارے آج کی غیر اعلانیہ ایمرجنسی سے کہیں بہتر تھے،اور انھیں اتنی آزادی تو بہرحال حاصل تھی کہ اندرا گاندھی کو الہ آباد ہوئی کورٹ نے طلب کرکے انھیں تقریباً دو گھنٹے عدالتی کارروائی میں کھڑا رکھا،لیکن آج اس کا تصور وزیر اعظم یا کسی مرکزی وزیر،وزیر اعلیٰ یا بی جے پی و سنگھ کے بڑے لیڈر کے تعلق سے کرنا بھی عدالتوں نے شائد گناہ عظیم مان لیا ہے۔عدالتیں ای ڈی،سی بی آئی یا ایسے ہی اداروں کے خلاف کچھ بھی کہیں،لیکن ان اداروں پر کنٹرول رکھنے والی حکومت اور وزراء کو عدالت میں حاضر ہونے سے بہرحال غیر اعلانیہ آزادی حاصل ہے۔اس کا سبب بھی سب جانتے ہیں۔
سنگھ لیڈر نے اپنی زیر بحث تقریر میں کہا کہ’ ایمرجنسی کے دوران ہزاروں لوگوں کو جیل میں ڈالا گیا،تشد د کا نشانہ بنایا گیا اور عدلیہ و میڈیا کی آزادی کو سلب کر لیا گیا۔‘دراصل فاشزم کا سب سے موثر ہتھیار یہ ہے کہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا رخ اپنے مخالفین کی طرف اس طرح موڑ دیا جائے کہ لوگ الزامات کی اس بھول بھلیاں میں الجھ کر اس ملزم یا مجرم کو بھول جائیں۔سنگھ کے جنرل سکریٹری ایمرجنسی کے بہانے کس طرح عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک کر بی جے پی کے زیر اقتدار حکومتوں کی آمرانہ پالیسیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کررہے ہیںاس کا ثبوت مذکورہ بیان ہے۔
یہ درست ہے کہ ایمرجنسی کے دور میں ہزاروں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،لیکن یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ ان میں بڑی تعداد اندرا گاندھی کے مخالف سیاسی لیڈروں کی تھی اور عام آدمی اتنی بڑی تعداد میں اس کا نشانہ نہیں بنے۔دوسری بات یہ کہ ایمرجنسی کے دور میں ہونے والے تشدد کی ذمہ داری پوری طرح پولیس اور دیگر سلامتی دستوں یا سرکاری ایجنسیوں پر عائد ہوتی ہے،لیکن آج عوام کے کچھ طبقات پر ہونے والے تشدد کی صورت مختلف ہے۔آج بی جے پی یا سنگھ مخالف تشدد نے ملک کی اقلیتوں اور پسماندہ طبقات پر ہونے والے تشدد کی شکل اختیار کر لی ہے اور اس تشدد میں سرکاری ایجنسیوں یا پولیس دستوں کی ناانصافیوں سے کہیں زیادہ سنگھ اور بی جے پی کے پروردہ اور حمایت یافتہ عناصر شامل ہیں ،اور حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی تو درکنار لب کشائی تک کی زحمت نہیں کرتی۔بلکہ اس سے بھی آگے کی بات یہ ہے کہ تمام سرکاری عملہ ان عناصر کے ظلم و تشدد کا شکار ہونے والے اقلیتی یا پسماندہ طبقات کے فرقے کے افراد کو ہی اکثر جیل رسید کرکے اقلیتوں کی احتجاج کی آواز تک کو بے شرمی سے دبا دیا جاتا ہے۔ہوسبلے فرماتے ہیں کہ’ ایمرجنسی کے دور میں عدلیہ اور پریس کی آزادی کو سلب کر لیا گیا۔‘سنگھ لیڈر کے اس بیان پر انھیں صرف یہ بتانا کافی ہے کہ ایمرجنسی کے دور میں میڈیا کے ایک بڑے حصے کو’’گودی میڈیا‘،’درباری میڈیا‘ یا سرکاری بھونپو نہیں کہا گیا،لیکن آج کیا حالات ہیں،یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ اس تعلق سے حقائق دنیا کے سامنے ہیں۔دنیا بھر میں ہندوستانی میڈیا کی اس قدر توہین ایمرجنسی سمیت تاریخ کے کسی دور میں نہیں ہوئی۔
جہاںتک عدلیہ کی آزادی پر ایمرجنسی کے دور میں قدغن لگانے کا معاملہ ہے تو یہ بھی صرف جزوی طور پر سچ ہے۔ملک کی اب تک تاریخ میں شائد انگریزی دور اقتدار میں بھی کبھی ایسا نہیں ہوا ہوگا کہ جب بہت سے سرکاری معاملات میں فیصلہ سنانے سے بچنے کے لیے ججوں نے مختلف اسباب بتا کر خود کو مقدمے کی سماعت سے الگ کر لیا ہو،اور جنھوں نے حکومت کے موقف کے خلاف موقف اپنانے کا اشارہ دیا ہے ان کا راتوں رات بے سبب تبادلہ کرکے کسی مقدمے کی سماعت سے الگ کر دیا گیا ہو۔ایسا بھی شائد کبھی نہیں ہوا ہو کہ کسی ہائی کورٹ کے جج نے ملازمت سے مستعفی ہو کر بی جے پی میںشمولیت اختیار کر لی ہو،کسی جج کو بی جے پی حکومت کے حق میں اور عدل و انصاف کے تقاضوں کا قتل کرنے کے انعام میں ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد کسی اعلیٰ عہدے پر تقرری دے دی گئی ہو۔اپنی پسند کے نوکو شاہوں کی ملازمت کو توسیع دینے کے معاملے میں تو مودی سرکارنے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔
ان تمام باتوں کے باوجود اگر سنگھ اور بی جے پی لیڈر ایمرجنسی کے نام پر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں تو دراصل یہ اپنی ناکامیاں اور ناقص کارکردگی کو چھپانے کی گھٹیا کوشش کے سوا کچھ نہیں۔گڑے مردے اکھڑنے کی یہ کوشش دراصل سیاست میں مردہ ضمیری کا ہی ثبوت ہے۔سیکولرزم اور سوشلزم سے بھی دراصل سنگھ اور بی جے پی اسی لیے خوفزدہ ہیں کہ یہ تصور ان کی ناکامیوں اور نظریاتی گمراہیوں کی پول کھولتا ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں