کیا اہل بیتؑ سے محبت جرم ہے؟

ریاض فردوسی

مولانا طارق جمیل صاحب کو تبلیغی جماعت سے نکال دیا گیا ہے۔تبلیغی جماعت نے دیر آید لیکن درست آید کے مصداق میں اچھا اور بہترین کام کیا ہے؟کافی دنوں سے مولانا طارق جمیل صاحب اہل بیت کی حقیقی شان سے لوگوں کو روشناس کرا رہے تھے،مسلسل اہل بیت سلام اللہ علیہا کی مدح سرائی کرتے جارہے تھے،اور یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان اس خطرناک جرم کی طرف کسی نسل ابوجھل و ابو لہب کی نگاہ ہے نہیں جایے گی؟مولانا طارق جمیل صاحب بہت دنوں سے اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ سردار منافقین عبداللہ بن ابی کی نسل دنیا سے ناپید ہوگئ ہے،لیکن تبلیغی جماعت کے اراکین نے ان کی اور تمام محبان اہل بیت کی غفلت دور کر دی کہ جان لو کہ ابھی ہم زندہ ہیں؟ہمارے آباؤ اجداد نے نا گزشتہ اہل بیت کی تعریف سنی نا ہم ان کی تعریف سنے گیں،اگر تم یہ گناہ عظیم (معاذ اللہ)کروگے تو تمہاری پکڑ کی جایے گی،اور تمہیں تواریخ میں گم اور دنیا کی نظروں میں بدعتی،مشرک،دیوانہ اور مجنوں قرار دے دیا جایے گا۔تبلیغی جماعت کے اراکین نے بہت ہی قابل ستائش عمل کیا ہے،اس کے ذریعے انہوں نے دنیا کو روشناس کرایا کہ حب اہل بیت کل بھی جرم تھا اور آج بھی جرم ہے،اہل بیت سلام اللہ علیہا کی تعریف و توصیف بیان کرنا نا کل پسندیدہ عمل تھا نا آج ہے۔چند دن قبل مولانا طارق جمیل صاحب نے”من کنت مولاہ فعلی مولاہ”(او کما قال ﷺ)والی حدیث شریف اپنے تقریر میں بیان کی تھی،اس کے فوراً بعد سپاہ صحابہ(پاکستان) کی طرف سے ان کو قتل کی دھمکی ملی تھی کہ اور یہ کہا گیا تھا کہ اگرچہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن تم نے بیان کیسے کی؟
تاریخ کے اوراق پر نظر ثانی کیجیے۔
دنیا میں میرے آقا و روحانی مرشد سیدنا عمار ابن یاسر رضی اللہ عنہ کا حب اہل بیت اور حب مولی علی کرم اللہ وجہہ کی پاداش میں کیا انجام ہوا؟
رسالت مآب ﷺ کے گھر والوں کی محبت کی عوج میں سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کس گمنامی میں اللہ سے جاملے۔دشمنان اہل بیت نے سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟
سیدنا قنبر اور سیدہ جناب فضہ نوبیہ سلام اللہ علیہا سے کتنے لوگ واقف ہیں؟
بعض خلفاء بنو امیہ،بنو عباسیہ اور بعض عثمانیہ کے نذدیک علی کی محبت گناہ کا کام تھا،حب علی اور حب اہل بیت میں ہزاروں لوگوں پر ظلم کیا گیا،حتی کہ خاندان رسالت کے محترم افراد پر بھی ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے۔سیدنا موسی کاظم رضی اللہ عنہ کو حق بولنے کے جرم میں لوہا پگھلا کر منہ میں ڈال دیاگیا۔(واضح رہے کہ ان کو کاظم اس لیے ہی کہا جاتاہے)جو بھی اہل بیت اور مولی علی کرم اللہ وجہہ سے محبت کرے گا،وہ دشمنان اسلام کے نشانے پر ہوگا۔کیوں کہ اہل بیت تفسیر قرآن ہیں،تفسیر حدیث ہیں،تفسیر سیرت النبیﷺ ہیں،اگر کسی کو دنیا و آخرت بھی فلاح و بہبود سے ہم کنار ہوناہے تو اہل بیت کی محبت اور ان کی اتباع کرنی ہوگی۔
مولی علی کرم اللہ وجہہ کی فضیلت یوں سمجھے کہ مولی علی کرم اللہ وجہہ آنکھیں کھولتے ہیں تو نبی کریم ﷺ کی گود میں اور نبی ﷺ آنکھیں بند کرتے ہیں(دنیائے فانی سے رخصت ہوتے ہیں) تومولی علی کرم اللہ وجہہ کی گود میں۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں،نبی کریم ﷺ اور علی رضی اللہ عنہ مدینہ کے اطراف میں نکلے اور ایک باغ سے گزر ہوا۔علی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ باغ کتنا خوبصورت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: جنت میں تمہارا باغ اس سے بھی اچھا ہے،پھر اپنے ہاتھ سے علی کے سر اور داڑھی کی طرف اشارہ کیا اور پھر رونے لگے اور آپﷺ کا گریہ بلند ہوا۔آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ کو کیا چیز رلاتی ہے؟آپ ﷺ فرمایا: امت کے دلوں کا کینہ جسے وہ آپ(علی) کے بارے میں اس وقت تک ظاہر نہیں کریں گےجب تک میں اس دنیا سے چلا نہ جاؤں۔(او کما قال ﷺ)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جانے والا ہوں اور اگر تم ان کی اتباع کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ دو چیزیں کتاب اللہ اور میرے اہل بیت ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو میں مؤمنین کی جانوں سے بڑھ کر ان کو عزیز ہوں آپ ﷺ نے ایسا تین مرتبہ فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : ہاں یا رسول اللہ! تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کا مولی ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔(الحديث رقم 4 : أخرجہ الحاکم في المستدرک، 3 / 118، الرقم : 4577)
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے خصائص علی لکھی اور تمام دشمنان اہل بیت کے نشانے پر آگیے۔مصر اور اس کے اطراف میں ان پر شیعہ ہونے کا الزام دشمنان اہل بیت نے لگا دیا اور ہر طرف ان کے خلاف ایک فتنہ اور ہنگامہ برپا کر دیا۔امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ ہجرت کر کے دمشق پہنچ کر کچھ دن رُکے۔یہاں بھی فتنہ پھیل چکا تھا۔دمشق کی جامع مسجد میں امام نسائی نے اپنی کتاب خصائص علی رضی اللہ عنہ سنائی تو لوگوں نے پوچھا:حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اس پر راضی نہیں کہ ان کے متعلق سکوت کیا جائے؟یا یہ جواب دیا کہ میرے پاس ان کے مناقب کے لیے مستند روایت نہیں ہے۔
اس پر لوگوں نے انہیں پتھر مارے،انہیں کچلا اور‌ ان کے پہلو پر ضربیں لگائیں،جس سے وہ تین دن بعد فوت ہو گئے۔“(بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب لابن العدیم:2/786، ط دارالفکر)
امام نسائی کے متعلق پہلے بھی مفسدین محبت اہل بیت کے سبب شیعہ ہونے کا الزام لگا چکے تھے،لوگوں کے سوال پر ان کا سیدھا جواب سن کر امام نسائی رحمہ اللہ ان کے ظلم کا نشانہ بن کر شدید رخمی ہوکر وفات پاگئے۔چوں کہ مظلوم قتل ہونے والا حکماً شہید ہوتا ہے،لہٰذا اس قتل کو بعض علماء نے شہادت شمار کیا:وتوفی بھا مقتولا شہیدا۔(تہذیب الکمال:1/339)
واضح رہے کہ امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ بعض اوقات امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہم سے بھی زیادہ سخت معلوم ہوتے ہیں۔انہوں نے بعض ایسے مشہور راویوں کو بھی ترک کر دیا جن سے امام بخاری یا امام مسلم رحمہم اللہ علیہم نے روایات لی ہیں۔
اسی لیے امام معافری رحمہ اللہ فرماتے تھے:
”جس روایت کی تخریج امام نسائی نے کی ہو وہ دیگر محدثین کی روایات کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہو گی۔“ (مقدمۃ زھر الربی علی المجتبی(سنن النسائی بشرح السیوطی:1/5)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اہلِ بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی سی ہے، جو اس میں سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہوگیا۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی)
سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا!
"اگر کوئی شخص حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان نماز پڑھتا ہو، روزہ رکھتا ہو، لیکن مرتے وقت دل میں اہل بیت سے بغض ہوا، تو جہنم میں جائے گا۔”
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : 148/3۔149، ح 4712 وسندہ، صحیح)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے "امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح” کہا ہے۔
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو کوئی اہل بیت سے بغض رکھے گا اللّٰہ تعالیٰ اسے آگ میں داخل کرے گا۔(السلسلۃ الاحادیث الصحيحہ۔3611)
حضرت سعید ابن جبیر رضی اللہ عنھما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ جب آیت کریمہ
یہی ہے وہ جس کی اللہ اپنے ایمان والے اور اچھے اعمال کرنے والے بندوں کو خوشخبری دیتا ہے۔ تم فرماؤ: میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھادیں گے،بیشک اللہ بخشنے والا، قدر فرمانے والا ہے۔(سورہ الشوریٰ آیت۔53)
نازل ہوئی تو آپ ﷺسے پوچھا گیا!
’’یا رسول ﷲﷺ! آپ کی قرابت والے وہ کون لوگ ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: علی، فاطمہ، اور اس کے دونوں بیٹے (حسن اور حسین)‘‘سلام اللہ علیھما
(اخرجہ ابن أبي حاتم الرازي في تفسيرہ،10/ 3276، الرقم/18473)
امام احمد بن حنبل روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ(بحوالہ۔احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، 2: 669، رقم: 1141)
’’جب مذکورہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ اہل قرابت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت ہم پر واجب کی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے رضی اللہ عنہم‘‘۔
یعنی صحابہ کرام کے پوچھنے پر نبی کریم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی خود تفسیر کی اور امت پر واضح فرمادیا کہ ان پر کن کن کی مؤدت اور محبت واجب و فرض ہے۔
یہی معنی حضرت ابوالعالیہ التابعی، سعید بن جبیر، ابو اسحاق، عمرو بن شعیب، امام ترمذی، امام احمد بن حنبل، امام حاکم، امام بزار، امام طبرانی الغرض کتب احادیث اور کتب تفسیر میں کثرت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں!
یَا آلَ بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ حُبُّکُمُ
فَرضٌ مِّنَ اللہ فِی الْقُرْآنِ اَنْزَلَہُ
یَکْفِیْکُمْ مِنْ عَظِیمِ الْفَخْرِ اَنَّکُمْ
مَنْ لَمْ یُصَلِّ عَلَیْکُمْ لَا صَلَاۃَ لَہُ۔
اے اہل بیتِ کرام!تمہاری محبت اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرض قرار دی ہے۔ تمہیں یہ فخر کافی ہے کہ جو تم پر درود نہ بھیجے ، اس کی نماز نہیں۔(دیوان امام شافعی ، صفحہ : 142)
خُدایا بحقِ بنی فاطمہ
کہ برِ قولِ ایماں کُنی خاتمہ
(اے خدا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد کے صدقے میرا خاتمہ ایمان پر کرنا)
اگر دعوتَم رد کُنی،ور قبول
من و دست و دامانِ آلِ رسول
(چاہے تو میری دعا کو رد کر دے یا قبول کر،کہ میں آلِ رسول ﷺکے دامن سے لپٹا ہوا ہوں)
چہ وَصفَت کُنَد سعدیِ ناتمام
علیکَ الصلوٰۃ اے نبیّ السلام
(سعدی ناتمام و حقیر آپ ﷺ کا کیا وصف بیان کرے، اے نبی ﷺآپ پر صلوۃ و سلام ہو۔)
(شیخ سعدی شیرازی)
نوٹ : مذہبی و علمی آراء کو قارئین کے سامنے رکھنے کے تعلق سےـ’ ادارہ روزنامہ سرینگر جنگ ‘محض ایک سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے ۔اس لئے کسی بھی منفی بحث اور تنقیدسے احتراز کیجئے !اس مضمون کے حوالے سے مضمون نگار سے براہ راست رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

کیا اہل بیتؑ سے محبت جرم ہے؟

ریاض فردوسی

مولانا طارق جمیل صاحب کو تبلیغی جماعت سے نکال دیا گیا ہے۔تبلیغی جماعت نے دیر آید لیکن درست آید کے مصداق میں اچھا اور بہترین کام کیا ہے؟کافی دنوں سے مولانا طارق جمیل صاحب اہل بیت کی حقیقی شان سے لوگوں کو روشناس کرا رہے تھے،مسلسل اہل بیت سلام اللہ علیہا کی مدح سرائی کرتے جارہے تھے،اور یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ان اس خطرناک جرم کی طرف کسی نسل ابوجھل و ابو لہب کی نگاہ ہے نہیں جایے گی؟مولانا طارق جمیل صاحب بہت دنوں سے اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ سردار منافقین عبداللہ بن ابی کی نسل دنیا سے ناپید ہوگئ ہے،لیکن تبلیغی جماعت کے اراکین نے ان کی اور تمام محبان اہل بیت کی غفلت دور کر دی کہ جان لو کہ ابھی ہم زندہ ہیں؟ہمارے آباؤ اجداد نے نا گزشتہ اہل بیت کی تعریف سنی نا ہم ان کی تعریف سنے گیں،اگر تم یہ گناہ عظیم (معاذ اللہ)کروگے تو تمہاری پکڑ کی جایے گی،اور تمہیں تواریخ میں گم اور دنیا کی نظروں میں بدعتی،مشرک،دیوانہ اور مجنوں قرار دے دیا جایے گا۔تبلیغی جماعت کے اراکین نے بہت ہی قابل ستائش عمل کیا ہے،اس کے ذریعے انہوں نے دنیا کو روشناس کرایا کہ حب اہل بیت کل بھی جرم تھا اور آج بھی جرم ہے،اہل بیت سلام اللہ علیہا کی تعریف و توصیف بیان کرنا نا کل پسندیدہ عمل تھا نا آج ہے۔چند دن قبل مولانا طارق جمیل صاحب نے”من کنت مولاہ فعلی مولاہ”(او کما قال ﷺ)والی حدیث شریف اپنے تقریر میں بیان کی تھی،اس کے فوراً بعد سپاہ صحابہ(پاکستان) کی طرف سے ان کو قتل کی دھمکی ملی تھی کہ اور یہ کہا گیا تھا کہ اگرچہ یہ حدیث صحیح ہے لیکن تم نے بیان کیسے کی؟
تاریخ کے اوراق پر نظر ثانی کیجیے۔
دنیا میں میرے آقا و روحانی مرشد سیدنا عمار ابن یاسر رضی اللہ عنہ کا حب اہل بیت اور حب مولی علی کرم اللہ وجہہ کی پاداش میں کیا انجام ہوا؟
رسالت مآب ﷺ کے گھر والوں کی محبت کی عوج میں سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کس گمنامی میں اللہ سے جاملے۔دشمنان اہل بیت نے سیدنا مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا؟
سیدنا قنبر اور سیدہ جناب فضہ نوبیہ سلام اللہ علیہا سے کتنے لوگ واقف ہیں؟
بعض خلفاء بنو امیہ،بنو عباسیہ اور بعض عثمانیہ کے نذدیک علی کی محبت گناہ کا کام تھا،حب علی اور حب اہل بیت میں ہزاروں لوگوں پر ظلم کیا گیا،حتی کہ خاندان رسالت کے محترم افراد پر بھی ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے گئے۔سیدنا موسی کاظم رضی اللہ عنہ کو حق بولنے کے جرم میں لوہا پگھلا کر منہ میں ڈال دیاگیا۔(واضح رہے کہ ان کو کاظم اس لیے ہی کہا جاتاہے)جو بھی اہل بیت اور مولی علی کرم اللہ وجہہ سے محبت کرے گا،وہ دشمنان اسلام کے نشانے پر ہوگا۔کیوں کہ اہل بیت تفسیر قرآن ہیں،تفسیر حدیث ہیں،تفسیر سیرت النبیﷺ ہیں،اگر کسی کو دنیا و آخرت بھی فلاح و بہبود سے ہم کنار ہوناہے تو اہل بیت کی محبت اور ان کی اتباع کرنی ہوگی۔
مولی علی کرم اللہ وجہہ کی فضیلت یوں سمجھے کہ مولی علی کرم اللہ وجہہ آنکھیں کھولتے ہیں تو نبی کریم ﷺ کی گود میں اور نبی ﷺ آنکھیں بند کرتے ہیں(دنیائے فانی سے رخصت ہوتے ہیں) تومولی علی کرم اللہ وجہہ کی گود میں۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں،نبی کریم ﷺ اور علی رضی اللہ عنہ مدینہ کے اطراف میں نکلے اور ایک باغ سے گزر ہوا۔علی نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ باغ کتنا خوبصورت ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: جنت میں تمہارا باغ اس سے بھی اچھا ہے،پھر اپنے ہاتھ سے علی کے سر اور داڑھی کی طرف اشارہ کیا اور پھر رونے لگے اور آپﷺ کا گریہ بلند ہوا۔آپ ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ کو کیا چیز رلاتی ہے؟آپ ﷺ فرمایا: امت کے دلوں کا کینہ جسے وہ آپ(علی) کے بارے میں اس وقت تک ظاہر نہیں کریں گےجب تک میں اس دنیا سے چلا نہ جاؤں۔(او کما قال ﷺ)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے لوگو! میں تم میں دو چیزیں چھوڑ کر جانے والا ہوں اور اگر تم ان کی اتباع کرو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے اور وہ دو چیزیں کتاب اللہ اور میرے اہل بیت ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو میں مؤمنین کی جانوں سے بڑھ کر ان کو عزیز ہوں آپ ﷺ نے ایسا تین مرتبہ فرمایا۔ صحابہ کرام نے عرض کیا : ہاں یا رسول اللہ! تو حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کا میں مولی ہوں علی بھی اس کا مولی ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا ہے اور کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے۔(الحديث رقم 4 : أخرجہ الحاکم في المستدرک، 3 / 118، الرقم : 4577)
امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ نے خصائص علی لکھی اور تمام دشمنان اہل بیت کے نشانے پر آگیے۔مصر اور اس کے اطراف میں ان پر شیعہ ہونے کا الزام دشمنان اہل بیت نے لگا دیا اور ہر طرف ان کے خلاف ایک فتنہ اور ہنگامہ برپا کر دیا۔امام نسائی رحمۃ اللہ علیہ ہجرت کر کے دمشق پہنچ کر کچھ دن رُکے۔یہاں بھی فتنہ پھیل چکا تھا۔دمشق کی جامع مسجد میں امام نسائی نے اپنی کتاب خصائص علی رضی اللہ عنہ سنائی تو لوگوں نے پوچھا:حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اس پر راضی نہیں کہ ان کے متعلق سکوت کیا جائے؟یا یہ جواب دیا کہ میرے پاس ان کے مناقب کے لیے مستند روایت نہیں ہے۔
اس پر لوگوں نے انہیں پتھر مارے،انہیں کچلا اور‌ ان کے پہلو پر ضربیں لگائیں،جس سے وہ تین دن بعد فوت ہو گئے۔“(بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب لابن العدیم:2/786، ط دارالفکر)
امام نسائی کے متعلق پہلے بھی مفسدین محبت اہل بیت کے سبب شیعہ ہونے کا الزام لگا چکے تھے،لوگوں کے سوال پر ان کا سیدھا جواب سن کر امام نسائی رحمہ اللہ ان کے ظلم کا نشانہ بن کر شدید رخمی ہوکر وفات پاگئے۔چوں کہ مظلوم قتل ہونے والا حکماً شہید ہوتا ہے،لہٰذا اس قتل کو بعض علماء نے شہادت شمار کیا:وتوفی بھا مقتولا شہیدا۔(تہذیب الکمال:1/339)
واضح رہے کہ امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ بعض اوقات امام بخاری اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہم سے بھی زیادہ سخت معلوم ہوتے ہیں۔انہوں نے بعض ایسے مشہور راویوں کو بھی ترک کر دیا جن سے امام بخاری یا امام مسلم رحمہم اللہ علیہم نے روایات لی ہیں۔
اسی لیے امام معافری رحمہ اللہ فرماتے تھے:
”جس روایت کی تخریج امام نسائی نے کی ہو وہ دیگر محدثین کی روایات کے مقابلے میں زیادہ صحیح ہو گی۔“ (مقدمۃ زھر الربی علی المجتبی(سنن النسائی بشرح السیوطی:1/5)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میرے اہلِ بیت کی مثال حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کی سی ہے، جو اس میں سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جو اس سے پیچھے رہ گیا وہ غرق ہوگیا۔‘‘ (المعجم الکبیر للطبرانی)
سیدنا عبد اللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا!
"اگر کوئی شخص حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان نماز پڑھتا ہو، روزہ رکھتا ہو، لیکن مرتے وقت دل میں اہل بیت سے بغض ہوا، تو جہنم میں جائے گا۔”
(المستدرک علی الصحیحین للحاکم : 148/3۔149، ح 4712 وسندہ، صحیح)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے "امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح” کہا ہے۔
ابو سعید خدری‌رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو کوئی اہل بیت سے بغض رکھے گا اللّٰہ تعالیٰ اسے آگ میں داخل کرے گا۔(السلسلۃ الاحادیث الصحيحہ۔3611)
حضرت سعید ابن جبیر رضی اللہ عنھما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ جب آیت کریمہ
یہی ہے وہ جس کی اللہ اپنے ایمان والے اور اچھے اعمال کرنے والے بندوں کو خوشخبری دیتا ہے۔ تم فرماؤ: میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا مگر قرابت کی محبت اور جو نیک کام کرے ہم اس کے لیے اس میں اور خوبی بڑھادیں گے،بیشک اللہ بخشنے والا، قدر فرمانے والا ہے۔(سورہ الشوریٰ آیت۔53)
نازل ہوئی تو آپ ﷺسے پوچھا گیا!
’’یا رسول ﷲﷺ! آپ کی قرابت والے وہ کون لوگ ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: علی، فاطمہ، اور اس کے دونوں بیٹے (حسن اور حسین)‘‘سلام اللہ علیھما
(اخرجہ ابن أبي حاتم الرازي في تفسيرہ،10/ 3276، الرقم/18473)
امام احمد بن حنبل روایت فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ(بحوالہ۔احمد بن حنبل، فضائل الصحابۃ، 2: 669، رقم: 1141)
’’جب مذکورہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ اہل قرابت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت ہم پر واجب کی گئی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: علی، فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے رضی اللہ عنہم‘‘۔
یعنی صحابہ کرام کے پوچھنے پر نبی کریم ﷺ نے اس آیت مبارکہ کی خود تفسیر کی اور امت پر واضح فرمادیا کہ ان پر کن کن کی مؤدت اور محبت واجب و فرض ہے۔
یہی معنی حضرت ابوالعالیہ التابعی، سعید بن جبیر، ابو اسحاق، عمرو بن شعیب، امام ترمذی، امام احمد بن حنبل، امام حاکم، امام بزار، امام طبرانی الغرض کتب احادیث اور کتب تفسیر میں کثرت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں!
یَا آلَ بَیْتِ رَسُوْلِ اللّٰہِ حُبُّکُمُ
فَرضٌ مِّنَ اللہ فِی الْقُرْآنِ اَنْزَلَہُ
یَکْفِیْکُمْ مِنْ عَظِیمِ الْفَخْرِ اَنَّکُمْ
مَنْ لَمْ یُصَلِّ عَلَیْکُمْ لَا صَلَاۃَ لَہُ۔
اے اہل بیتِ کرام!تمہاری محبت اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں فرض قرار دی ہے۔ تمہیں یہ فخر کافی ہے کہ جو تم پر درود نہ بھیجے ، اس کی نماز نہیں۔(دیوان امام شافعی ، صفحہ : 142)
خُدایا بحقِ بنی فاطمہ
کہ برِ قولِ ایماں کُنی خاتمہ
(اے خدا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی اولاد کے صدقے میرا خاتمہ ایمان پر کرنا)
اگر دعوتَم رد کُنی،ور قبول
من و دست و دامانِ آلِ رسول
(چاہے تو میری دعا کو رد کر دے یا قبول کر،کہ میں آلِ رسول ﷺکے دامن سے لپٹا ہوا ہوں)
چہ وَصفَت کُنَد سعدیِ ناتمام
علیکَ الصلوٰۃ اے نبیّ السلام
(سعدی ناتمام و حقیر آپ ﷺ کا کیا وصف بیان کرے، اے نبی ﷺآپ پر صلوۃ و سلام ہو۔)
(شیخ سعدی شیرازی)
نوٹ : مذہبی و علمی آراء کو قارئین کے سامنے رکھنے کے تعلق سےـ’ ادارہ روزنامہ سرینگر جنگ ‘محض ایک سہولت کار کا کردار ادا کرتا ہے ۔اس لئے کسی بھی منفی بحث اور تنقیدسے احتراز کیجئے !اس مضمون کے حوالے سے مضمون نگار سے براہ راست رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں