اشفاق پرواز
ٹنگمرگ، کشمیر
ذی الحجہ کی آٹھویں شب کو حضرتِ ابراہیم ؑنے خواب میں دیکھا کہ بیٹے کو اللہ کی راہ میں ذبح کر رہے ہیں ۔پھر نویں شب میں بھی ایسا ہی دیکھا ۔۔۔حتیٰ کہ دسویں کی رات میں بھی ویسا ہی خواب دیکھا ۔ بہت فکر مند ہوئے ۔جب اس کی تعبیر سمجھ میں نہ آئی تو اپنے بیٹے اسماعیل ؑکے پاس گئے اور انہیں سارا ماجرہ کہہ سنایا۔اس وقت حضرت اسماعیل ؑ کی عمر نو برس کی تھی ۔حضرت اسماعیل ؑ نے والدِ محترم کی بات سن کر کہا اے میرے والدِ محترم اللہ نے آپ کو حکم دیاہے اس میں جلدی کیجیے انشااللہ آپ مجھے صابروں میں پائیں گے۔دیر نہ کیجیے ایسا نہ ہو کہ ا بلیس لعین وسوسہ ڈال کے ہمیں صحیح راستے سے بھٹکا دے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس وقت فرمایااس لعین کو پتھر مارو۔تب باپ اور بیٹے نے اس لعین پر پتھر پھینکے۔ اس سے پہلے شیطان لعین حضر ت ہاجرہ ؓ کو بہکانے بھی گیا تھا ۔وہاں بھی اس نے پتھر کھائے اور اب یہ حاجیوں پر سنت ہے کہ حج کے دنوں میں اس جگہ جاکر شیطان کو پتھر ماریں۔
حضرت ا براہیم ؑ اور حضرت اسماعیلؑ اس جگہ پر جا پہنچے اب جس کو منیٰ کہتے ہیں اور جہاں تمام حاجی صاحبان اپنے اپنے جانوروں کی قربانی کرتے ہیں ۔وہاں پہنچ کر عظیم والد نے سعادت مند بیٹے سے پوچھا…اب تمہاری کیا صلاح ہے؟ فرمانبردار بیٹا بولا خدا کا شکر ہے کہ آپ نے مجھے اللہ کی راہ میں قربان ہوتے ہوئے خواب میں دیکھ لیا۔اب جس طرح بھی ممکن ہو حکم الٰہی بجا لائیے۔دونوں باپ بیٹے حکم خداوندی بجا لانے کے لیے تیار ہوگئے۔حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے لخت جگر کو زمین پر ماتھے کے بل بچھا ڑا تاکہ بیٹے کا منہ سامنے نظر نہ آئے اور محبت جوش میں نہ آئے۔بیٹے نے بھی ادب و احترام سے تین گزارشات اپنے والد صاحب کی خدمت میں رکھیں ۔پہلی یہ کہ رسی سے میرے ہاتھ پاؤں باندھ دیجیے ایسا نہ ہو کہ میں بیجا مداخلت کرتا نظرآوں۔دوسری یہ کہ میرا منہ دوسری طرف کر دیجیے تاکہ میں آپ کی طرف دیکھ کر آپ کے ارادے کو پست نہ کردوں ۔اور تیسری یہ کہ جب آپ گھر تشریف لے جائیں تو میری والدہ محترمہ کو میری طرف سے سلام عرض کر دیں۔اور میرے کپڑے ان کو دیں ۔یہ باتیں سن کر جب حضرت ابراہیم ؑ نے رسی سے اپنے فرزند کے ہاتھ پاؤں باندھ کر آستین سے چھری نکالی اور ان کا منہ بھی دوسری طرف پھیر دیا۔تو فرزند ارجمند نے یکا یک کہا ’’ابّا جان میرے ہاتھ پاوّں کھول دیجیے ۔رسی تو ان کو باندھی جاتی ہے جو بھا گنے والے ہوتے ہیں۔میں بھاگنے والا نہیں ہوں۔میں اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے والا ہوں ۔‘‘پھر چشم فلک نے دیکھا کہ باپ کا ہاتھ تو نہیں کانپا مگر چھری کند ہوگئی۔اسی جگہ اللہ کے حکم سے ایک دنبہ لایا گیا جسے حضرت ابراہیمؑ نے قربان کردیا۔اور پھر جملہ مسلمانوں کے لیے یہ سنت ٹھہری کہ وہ اس دن کو روزِ عید کی طرح مناتے ہیں۔اپنی حلال کی کمائی میں سے اپنی حیثیت کے مطابق قربانی کرتے ہیں اور اللہ کی رضا کے مطابق مناسک حج ادا کرتے ہیں ۔ہر سال مکّہ معظمہ اور مدینہ منوّرہ میں تیس چالیس لاکھ حجاج کرام دنیا کے کونے کونے سے وہاں کھینچے چلے آتے ہیں ان سب کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔کوئی مفاد وابستہ نہیں ہوتا ۔کوئی زور زبردستی بھی نہیں ہوتی ۔ایک ایمان،ایک یقین اور ایک اعتقاد ان کو وہاں لے جاتا ہے۔سب لوگ مناسک حج ادا کرکے قربانی کا فریضہ باقاعدگی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ایک سال یا ایک دن کی بات نہیں تقریباً پندرہ سو سالوں سے سنت ابراہیمی ادا کی جارہی ہے اور تا قیامت تک ہوتی رہے گی۔ہر سال جب ہم یہ مناظر مختلف ٹی وی چینلوں پر دیکھتے ہیں تو دل کے اندر ایمان ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے۔
چنانچہ قربانی کی یہی سنت حضرتِ ابراہیم علیہم السلام کا اسوہ قرار دے کر بعد میں آنے والی امتوں پر لازم قرار دے دی گئی اور اسی سنت کو حضورِ اقدس صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنایا اور اپنی امت کے لیے اسے لازمی سنت قرار دیا- حدیثِ پاک میں آتا ہے: ایک مرتبہ صحابہ کرام نے آپ سے عرض کیا: اے الله کے رسول صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ یہ تمہارے والد گرامی سیدنا ابراہیم علیہم السلام کی سنت ہے- تو صحابہ کرام نے عرض کیا کہ ان قربانیوں سے کیا حاصل ہوگا؟ تو آپ( صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا! ایک ایک بال کے بدلے نیکی ملے گی- ترمذی شریف میں حضرتِ سیدنا عبد الله ابنِ عمر فرماتے ہیں: نبی کریم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ طیبہ میں دس سال اقامت پذیر رہے اور آپ ہرسال قربانی دیتے رہے بعض روایات ایسی ملتی ہیں کہ حضورِ اکرم صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم نے گاہے گاہے دو قربانیاں دیں- ایک اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے اور دوسری اپنی امت کے ان غرباء کی طرف سے جو قربانی دینا تو چاہتے ہیں مگر بوجہ ناداری و افلاس اس سنت کو پورا کرنے سے قاصر ہوں گے- اب یہی وہ سنت رسول الله صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم ہے جسے عالم اسلام کے مسلمان بڑے جذبہ وشوق، ولولے اور احترام و اکرام کے ساتھ ہرسال ادا کرتے ہیں- قربانی کی اصل روح خود قرآن مجید میں یوں بیان کی گئی:
الله تک تمہاری قربانیوں کا گوشت پوست اور خون تو نہیں پہنچتا بلکہ اس کے ہاں تمہارا دلی جذبہ اور تقویٰ پہنچتا ہے-
عید آتی ہے گزر جاتی ہے۔مگر کیا ہم نے گھڑی بھر کو رک کر سوچا ہے کہ ان سب صدیوں کے دوران کیا ہم آداب فرزندی کی بھی تکمیل کررہے ہیں یا نہیں۔ اصول پدری سے بھی آگاہی ہیں کہ نہیں ۔ کرنے کو بہت کام تھے کہنے کو مسلمان تھے مگر اصل ایمان اوڑھتے ہوئے احساس کم تری کیوں۔۔؟آج دنیا میں مسلمانوں کو بد ترین ثابت کرنے کی کوششیں ہورہی ہیںتوکیوں۔۔؟اسلام کے دامن پر دہشت گردی اور انتہا پسندی کا دھبہ لگا یا جارہا ہے تو کیوں ۔۔؟ اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ ہم سے نئ نسلوں کی تربیت میں کہیں کوتاہی ہوگئ ہے۔کتب کی کرامت درسگاہوں سے رخصت ہوئی۔آج ہر کوئی اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال رہا ہے۔دنیا ہے کہ پل پل بدل رہی ہے اور مسلمان ہیں کہ ابھی تک مسالک کے جھگڑوں میں پڑے ہوئے ہیں۔کوئی رک کر اتنا نہیں سوچتا کہ آداب فرزندی کس کی ذمہ داری ہے؟ آج ہماری نئ نسلوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کی اشد ضرورت ہے۔تربیت کے لیے پہلے والدین پھر اساتذہ ہوتے ہیں لیکن زیادہ تر والدین اپنی اولاد کو دنیا کی سب آسائشیں دینے میں کوشاں رہتے ہیں انہیں تربیت دینے کی فرصت ہی نہیں ملتی ۔زیادہ تر اساتذہ اپنے شاگردوں کو اول درجے میں پاس کروانا چاہتے ہیں اور انہیں اعلیٰ ڈگری یافتہ بنانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں ۔انہیں تزکیہ نفس کی طرف لانے کا دھیان ہی نہیں آتا اور ڈگری یافتہ نسلیں بہترین ملازمت کے حصول کے لیے دروازے تلاش کرتی رہتی ہیں ۔علامہ اقبال نے کیا موتی بکھیرے ہیں ؎
نہ ہو طغیان مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی
کہ میری زندگی کیا ہے یہی طغیانِ مشتاقی!
وہاں خانہ کعبہ کے اندر حجاج کرام ا پنے رب کو پکار رہے ہیں اور چلا چلا کر کہہ رہے ہیں ۔لبیک اللھُم لبیک ۔۔۔لبیک ۔۔۔وہ ہمیں حاضر ہونی کی تو فیق خود عطاکرتا ہے۔خود بلا بھیجتا ہے اور خود ہمارا والہانہ پن دیکھتا ہے۔ خدائے تعالی ہمیں بھی کعبہ شریف کی زیارت کے لئے بلائے۔
زززز


