جموں کشمیر: جیل میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز پر پابندی عائد

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر: جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے جیلوں اور اصلاحی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز، تفریق یا علیحدگی کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہوئے "عادی مجرم” کی نئی تعریف متعارف کرائی ہے۔ جیل مینوئل 2022 میں کی گئی ان ترامیم کو انتظامیہ نے ایک اہم اور اصلاحی اقدام قرار دیا ہے۔
نئی ترامیم کے مطابق، کسی بھی قیدی کو کسی بھی کام یا خدمت کی تفویض میں اس کی ذات، نسل یا طبقاتی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھنا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ جیلوں میں ذات کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تفریق، علیحدگی یا درجہ بندی ناقابلِ قبول ہے۔
ترمیم شدہ مینوئل میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’قیدیوں کو کسی بھی قسم کے کام یا ڈیوٹی کی تفویض میں ان کی ذات کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔‘‘
علاوہ ازیں، ’’مینوئل اسکیوینجرز کی ملازمت کی ممانعت اور ان کی بازآبادکاری کا قانون 2013‘‘ کی دفعات کو جیلوں اور اصلاحی اداروں پر بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تحت جیلوں  کے اندر گندے نالوں یا سیپٹک ٹینکوں کی خطرناک صفائی کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔
اسی ترمیمی پالیسی میں ’’عادی مجرم‘‘ کی نئی قانونی تعریف بھی وضع کی گئی ہے۔ اس کے مطابق، کوئی بھی فرد جسے پچھلے مسلسل پانچ سال کے عرصے میں دو یا دو سے زیادہ مرتبہ مختلف مواقع پر کیے گئے جرائم کی بنیاد پر سزا ہو چکی ہو — اور وہ جرائم ایک ہی واقعہ یا لین دین کا حصہ نہ ہوں — تو اسے "عادی مجرم” شمار کیا جائے گا۔ تاہم، اگر اس سزا کو کسی اپیل یا نظرِثانی میں کالعدم قرار دیا گیا ہو، تو وہ شمار نہ ہوگی۔
ترمیم کے مطابق:
’’عادی مجرم سے مراد وہ شخص ہے جسے گزشتہ پانچ مسلسل برسوں کے دوران مختلف مواقع پر کیے گئے ایک یا ایک سے زائد جرائم میں دو سے زیادہ بار قید کی سزا سنائی گئی ہو، بشرطیکہ وہ جرائم ایک ہی واقعہ یا سلسلۂ واردات سے وابستہ نہ ہوں، اور وہ سزائیں اپیل یا نظرِثانی میں منسوخ نہ کی گئی ہوں۔‘‘
یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ پانچ سال کی مدت کے حساب میں وہ وقت شامل نہیں ہوگا جو قیدی نے سزا یا حراست کے تحت جیل میں گزارا ہو۔
’’بشرطیکہ مذکورہ بالا پانچ سال کی مدت کے تعین میں جیل میں گزارا گیا کوئی وقت، خواہ وہ سزا کے تحت ہو یا حراست کے، شمار نہیں کیا جائے گا۔‘‘
یہ ترامیم جموں و کشمیر کی جیلوں کے نظام کو زیادہ منصفانہ، انسانی اقدار پر مبنی، اور امتیازی سلوک سے پاک بنانے کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

تازہ ترین خبریں

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب بھیانک آتشزدگی میں 40 سے زیادہ دکانیں خاکستر

جنگ نیوز جموں ریلوے اسٹیشن کے قریب شیو مارکیٹ میں...

FRC کی کامیابی:وانی یارَن-وانگتھ میں جنگلاتی حقوق کے 270 دعوے منظور

جنگ نیوز کنگن/ وانی یارَن-وانگتھ، کنگن میں گرام سبھا نے...

جموں کشمیر: جیل میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز پر پابندی عائد

جنگ نیوز ڈیسک

سرینگر: جموں و کشمیر کی انتظامیہ نے جیلوں اور اصلاحی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز، تفریق یا علیحدگی کو سختی سے ممنوع قرار دیتے ہوئے "عادی مجرم” کی نئی تعریف متعارف کرائی ہے۔ جیل مینوئل 2022 میں کی گئی ان ترامیم کو انتظامیہ نے ایک اہم اور اصلاحی اقدام قرار دیا ہے۔
نئی ترامیم کے مطابق، کسی بھی قیدی کو کسی بھی کام یا خدمت کی تفویض میں اس کی ذات، نسل یا طبقاتی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک روا رکھنا مکمل طور پر ممنوع ہوگا۔ یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ جیلوں میں ذات کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تفریق، علیحدگی یا درجہ بندی ناقابلِ قبول ہے۔
ترمیم شدہ مینوئل میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’قیدیوں کو کسی بھی قسم کے کام یا ڈیوٹی کی تفویض میں ان کی ذات کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔‘‘
علاوہ ازیں، ’’مینوئل اسکیوینجرز کی ملازمت کی ممانعت اور ان کی بازآبادکاری کا قانون 2013‘‘ کی دفعات کو جیلوں اور اصلاحی اداروں پر بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے تحت جیلوں  کے اندر گندے نالوں یا سیپٹک ٹینکوں کی خطرناک صفائی کی قطعی اجازت نہیں ہوگی۔
اسی ترمیمی پالیسی میں ’’عادی مجرم‘‘ کی نئی قانونی تعریف بھی وضع کی گئی ہے۔ اس کے مطابق، کوئی بھی فرد جسے پچھلے مسلسل پانچ سال کے عرصے میں دو یا دو سے زیادہ مرتبہ مختلف مواقع پر کیے گئے جرائم کی بنیاد پر سزا ہو چکی ہو — اور وہ جرائم ایک ہی واقعہ یا لین دین کا حصہ نہ ہوں — تو اسے "عادی مجرم” شمار کیا جائے گا۔ تاہم، اگر اس سزا کو کسی اپیل یا نظرِثانی میں کالعدم قرار دیا گیا ہو، تو وہ شمار نہ ہوگی۔
ترمیم کے مطابق:
’’عادی مجرم سے مراد وہ شخص ہے جسے گزشتہ پانچ مسلسل برسوں کے دوران مختلف مواقع پر کیے گئے ایک یا ایک سے زائد جرائم میں دو سے زیادہ بار قید کی سزا سنائی گئی ہو، بشرطیکہ وہ جرائم ایک ہی واقعہ یا سلسلۂ واردات سے وابستہ نہ ہوں، اور وہ سزائیں اپیل یا نظرِثانی میں منسوخ نہ کی گئی ہوں۔‘‘
یہ بھی شرط رکھی گئی ہے کہ پانچ سال کی مدت کے حساب میں وہ وقت شامل نہیں ہوگا جو قیدی نے سزا یا حراست کے تحت جیل میں گزارا ہو۔
’’بشرطیکہ مذکورہ بالا پانچ سال کی مدت کے تعین میں جیل میں گزارا گیا کوئی وقت، خواہ وہ سزا کے تحت ہو یا حراست کے، شمار نہیں کیا جائے گا۔‘‘
یہ ترامیم جموں و کشمیر کی جیلوں کے نظام کو زیادہ منصفانہ، انسانی اقدار پر مبنی، اور امتیازی سلوک سے پاک بنانے کی جانب ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں