صبر و حکمت کے بغیرمسلمانوں کی کامیابی ممکن نہیں

ابراہیم آتش
 مسلمان آج جس دور سے گذر رہے ہیںشاید یہ چنگیزخاں اور ہلاکو خاں کے بعد کا بدترین دور کہا جا سکتا ہے جتنا ظلم اس دور میں ہو ا تھا اس سے زیادہ ظلم آج کے دور میں مسلمانوں پر ہو رہا ہے اور اس ظلم کے خلاف عالمی سطح پر مسلمانوں نے کوئی اجتماعی لائحہ عمل پیش نہیں کر سکا جس پر مسلمان متحد ہو کر عمل کر سکیں اس کا حل الگ الگ طریقے سے الگ الگ ذہن کے لوگ پیش کر رہے ہیںکوئی کہہ رہا ہے جس طرح صحابہؓ کا ایمان تھا اسی طرح کے ایمان سے کامیابی ممکن ہے مسلمانوں کو ایمان کی طاقت بنانا ہے کو ئی کہہ رہا ہے مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہودنیا کی کسی قوم میں اتنی ہمت نہیں ہوگی کہ مسلمانوں پر نظر ڈالے ۔کوئی کہہ رہا ہے مسلمان سنت سے دور ہو گئے ہیں کوئی کہہ رہا ہے مسلمان سیاسی طاقت کے ذریعہ ہی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ اور بھی کئی حل پیش کئے جا رہے ہیںبہرے حال ان تمام نکات پر جو لوگ کہہ رہے ہیںصحابہؓ کے جیسے ایمان بنانے کی بعد ہی کا میابی مل سکتی ہے کیا ممکن ہے ایسا ایمان بنے کیونکہ اللہ تعالی نے صحابہؓ کے ساتھ خاص معاملہ فرمایا تھا اللہ تعالی ان کے ساتھ راضی تھا ہاں تمام مسلمانوں کو ضرور صحابہؓ کے جیسا ایمان بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ صحابہؓ کے بعد کا زمانہ اموی دور اور عباسیہ  دور اسلامی دور کے عروج کا دور کہا جا سکتا ہے ۔ مسلمانوں کی حکومتیں عرب کی سر زمین سے نکل  کر یورپ , آفریقہ اور ایشیاء تک پھیل گئی تھیں اس دور کو نہ صرف اسلامی دور کا بلکہ دنیا کے عروج کا دور بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ مسلمانوں کی جہاں جہاں بھی حکومتیں قائم ہوئیں تھیں ان ملکوں میں ہر میدان میں ترقی حاصل ہوئی تھی اس زمانے میں فن تعمیر سب سے بڑا شعبہ مانا جاتا تھا لوگوں کی کثیر تعداد کو اس سے روز گار کے مواقع حاصل ہوتے تھے اور آج بھی ان ممالک میں اسلامی دور کی عالیشان عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں اس دور میں مسلمان تعلیم یافتہ تھے اس وقت کے مسلمان تمام شعبوں میں آگے تھے ہر میدان پر چھائے ہوئے تھے کردار کے اعتبار سے وہ اونچے کردار کے مالک تھے وہ مخلص تھے وہ رحم دل تھے صبر والے تھے حکمت والے تھے اللہ سے ڈرنے والے تھے دوسری قوموں کو دینے والے تھے۔
   دوسری بات اتحاد کی کی جاتی ہے اتحاد تو ہماری روز مرہ کی زندگی میںہم دیکھ رہے ہیں دینی اجتماعات میں لاکھوں مسلمانوں کا جم غفیر اس اتحاد کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جمعہ کی نمازوں میںمسجدوں میں کھچا کھچ مسلمانوں کا مجمع اس بات کا ثبو ت ہے اور جب ہمارے لیڈر اور علماء کسی بات پر آواز اٹھاتے ہیں توتمام مسلمان ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کے ساتھ ہو جاتے ہیںاگر اتحاد اسی کا نام ہے تو اتحاد مکمل طورقائم ہے پھر اتحاد کے باوجود ہماری کامیابی کوسوں دور ہے ہم متحد ہونے کے باوجود کیوں ذلیل ہو رہے ہیںیا تو ہم نے اتحاد کے مفہوم کو نہیں سمجھا اصل میں ہم جس کو اتحاد سمجھ رہے ہیںدراصل وہ بھیڑ ہے اتحاد وہ ہے جو عملی زندگی میں لایا جائے ہم سے ہمارے پڑوسی کو نقصان نہ ہو مسلمان مسلمان کے تکلیف میں کام آئے ہمارے تعلقات رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے بہتر ہوں ۔اتحاد وہ سامنے والے کے مقابلے میں اپنی قربانی پیش کریں ہم بولنے کی طاقت رکھنے کے با وجودخاموش رہیںاگر کوئی ادارہ یا حکومت چلا رہے ہیں تو مقررہ مدت تک تعاون کریں۔
مسلم ممالک میں اکثرایسا دیکھا گیا ہے اقتدار احاصل کرنے کیلئے اپوزیشن کے تمام لوگ متحد ہو کر برسر اقتدار کے ساتھ جنگ چھیڑ دیتے ہیں اور اقتدار پر آ جاتیں ہیں اقتدار میں آنے کے بعد ان کے خلا ف جو اپوزیشن ہے وہی سلسلہ قائم رکھتے ہیں نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ وہ ملک ترقی سے ہاتھ دھو  بیٹتھا ہے ۔
   کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مسلمان اللہ کے رسول ﷺ کی سنت سے دور ہو گئے ہیں جس کی وجہہ سے مسلمان دنیا میں ذلیل ہو رہے ہیںکیا ان کی نظر میں سنت کا مفہوم یہی سمجھا جا رہا ہے جیسے داڑھی سر پر ٹوپی ٹخنے سے اوپر پائجامہ پہننا مسجد میں داخل ہوتے وقت سیدھا قدم پہلے داخل کرنا مسواک کرنا تو یہ تمام عام سنتیں ہیں اور ہمیںہر جگہ نظر آ رہی ہیں ملک کے ہزاروں مدرسوں میں اس پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور وہاں سے فارغ طلباء ان پر عمل کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام سنت میں داخل ہیں ان سے بھی بڑی اور اہم سنتیں ہیں جس پر کوئی دھیان نہیں دیتا جیسے صبر اور حکمت اللہ تعالی کا ارشاد ہے اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے مسلمانوں میں اگر صبر کا مادہ پیدا ہو جائے تو دنیا کی سب سے  طاقتور قوم بن جائے گی ۔
اللہ کے رسول ﷺ کی ز ندگی میں ہم کو بے شمار واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں آپ کا مکہ سے ہجرت کر نے کا معاملہ ہو یا طائف میں زخمی  ہونے کا  یا صلح حدیبیہ کا معاملہ ہو یہ سب صبر کی بے حد عمدہ مثالیں ہیں جس طرح صبر ایک اعلی ترین سنت ہے اسی طرح حکمت بھی بہت اہم سنت ہے حکمت کے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں ہے اور داعی کے اعتبار سے حکمت بہت اہم سنت ہے حضورﷺ کے دور کا ایک واقعہ ہے کعبہ   کی عمارت کسی  وجہہ سے منہدم ہوگئی اس کے بعد قریش کے لوگوں نے اس کی نئی تعمیر کی اس دوران یہ مسئلہ پیش آیا کہ حجر اسود کون اٹھائے گا اور اس کو اسی جگہ کون نصب کرے گا یہ چونکہ فضیلت کا معاملہ تھا ہر ایک یہ چاہے گا وہی اس کو اٹھا کر نصب کرے اورا س شرف کا مالک بنے اس سوال پر قریش کے لوگوں میں کئی دن تک جھگڑا جاری رہا آخر کار ایک تجویز یہ پیش کی گئی کے کل صبح جو شخص سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہوگا وہی اس مسئلہ کا فیصلہ کرے گا تمام لوگوں نے اس فیصلے کو قبول کر لیا ۔اگلی صبح جب لوگ دوبارہ کعبہ میں آئے تو دیکھاکعبہ میں داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص رسولﷺہیںہر ایک نے بیک زبان میں کہا محمد الامین ہیں ہم  ان کے فیصلے پر راضی ہیں رسول ﷺ نے لوگوں سے کہا ایک چادر لے آئولوگ چادر لے آئے تو آپ نے اس کو زمین پر پھیلا دیا اور اس کے اوپر حجر اسود کو اٹھا کر رکھاپھر آپ نے لوگوں سے کہا تم سب لوگ چادر کے کناروں کو پکڑواور اس کو اٹھا کر کعبہ کی دیوار کے پاس لے چلوانھوں نے ایسا ہی کیا پھر آپ نے حجر اسود کو چادر سے اٹھا یا اور اس کوکعبہ کی دیوار پر نصب کر دیا ایک حکیمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ایک کو اس میں شریک کر لیا ۔
   طائف کے قبیلے کا وفد 9ہجری کو مدینہ آیا رسول ﷺ ان کو اسلام کی تعلیمات بتائیںوہ اسلام قبول کرنے پر راضی ہو گئے مگر انھوں نے اپنی طرف سے بہت سی شرطیں ر کھی اس میں یہ بھی تھا وہ صدقہ نہیں دیں گے اور جہاد نہیں کریں گے اس کے باوجود رسول ﷺنے ان سے بعیت لے کر ان کو اسلام میں داخل کر لیا کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو ان کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا یہ لوگ جب اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد وہ صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے آپ نے ان کے حال کے بجائے مستقبل کی نظر سے دیکھا اور بات صحیح ثابت ہوئی قبیلے کے لوگ جلد ہی پورے طور سے اسلام کے عامل بن گئے انھوں اسلام کی تمام تعلیمات پر عمل کیا اور اس کو اپنی سعادت سمجھا ۔
    اللہ تعالی نے قرآن کی جو آیتیں ہماری لئے اتاری ہیں یہ سب حکمت سے خالی نہیں ہیں لوگوں کو اگر پہلے ہی شراب زنا اور سود کو چھوڑنے کو کہا جااتا تو بہت نا گوار گذرتااور مزاج قبول کرنے کو تیار نہ ہوتا اس لئے پہلے ایمان کے متعلق آیتیں نازل ہوئیں۔
    آخری بات جو لوگ سیاست کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیںوہ بہت بڑے دھوکے میں ہیں علاقہ کے اعتبار سے کچھ جگہوں پر سیاسی طاقت حاصل کی جا سکتی ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے جمہوریت میں سب سے بڑی طاقت ووٹوں کی ہوتی ہے جس کوسب سے زیادہ ووٹ ملیں گے وہی بادشاہ کہلاتا ہے اگر ہمارے ووٹوں کا ہم تجزیہ کریں ملک کے جملہ ووٹوں کا اٹھارہ فیصد ووٹ ہیں اور تمام متحد ہو کرایک پارٹی بنا کر ووٹ ڈالیں تو بھی الیکشن میں جیتنا ممکن نہیں ہے اس کے باوجود آج بھی لوگ یہی کہہ رہے ہیں ہم متحد ہوں گے تو ہماری حکومت بنے گی یہ صرف مسلمانوں کو جذبات میں لاکر ان سے کھلواڑ کرنا ہے اور اپنا مفاد حاصل کرنا ہے مجموعی طور پر مسلمانوں کو اس سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے اتحاد کرنے والے لوگ جب الیکشن آتا ہے اتحاد کو بھول جاتے ہیں اور اپنے مفاد کے لئے مختلف سیاسی پارٹیوں سے جڑ جاتے ہیں اگر مسلمان جذباتی سیاست سے ہٹ کرح

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

چھ ٹیمیں، ایک ٹرافی: کشمیر سپر لیگ سیزن 2 تیار

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ خیبر سیمنٹ کشمیر سپر لیگ...

سوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں تین روزہ قومی کھیل مہم کا آغاز

جنگ نیوز ڈیسک قومی مہم "کھیلے گا بھارت، جیتے گا...

سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے شعبۂ جسمانی تعلیم نے فٹ بال مقابلہ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک گاندربل/سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUKashmir) کے شعبۂ...

NITسری نگر میں قومی یومِ کھیل کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی...

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

تازہ ترین خبریں

چھ ٹیمیں، ایک ٹرافی: کشمیر سپر لیگ سیزن 2 تیار

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ خیبر سیمنٹ کشمیر سپر لیگ...

سوالکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ میں تین روزہ قومی کھیل مہم کا آغاز

جنگ نیوز ڈیسک قومی مہم "کھیلے گا بھارت، جیتے گا...

سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیرکے شعبۂ جسمانی تعلیم نے فٹ بال مقابلہ جیت لیا

  جنگ نیوز ڈیسک گاندربل/سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر (CUKashmir) کے شعبۂ...

NITسری نگر میں قومی یومِ کھیل کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی...

استعفیٰ آ جائے گا، لیکن پہلے احتساب ہونا چاہیے: روح اللہ کا ڈاکٹر فاروق سے خطاب

  سرینگر: سرینگر کے رکنِ لوک سبھا آغا سید روح اللہ...

صبر و حکمت کے بغیرمسلمانوں کی کامیابی ممکن نہیں

ابراہیم آتش
 مسلمان آج جس دور سے گذر رہے ہیںشاید یہ چنگیزخاں اور ہلاکو خاں کے بعد کا بدترین دور کہا جا سکتا ہے جتنا ظلم اس دور میں ہو ا تھا اس سے زیادہ ظلم آج کے دور میں مسلمانوں پر ہو رہا ہے اور اس ظلم کے خلاف عالمی سطح پر مسلمانوں نے کوئی اجتماعی لائحہ عمل پیش نہیں کر سکا جس پر مسلمان متحد ہو کر عمل کر سکیں اس کا حل الگ الگ طریقے سے الگ الگ ذہن کے لوگ پیش کر رہے ہیںکوئی کہہ رہا ہے جس طرح صحابہؓ کا ایمان تھا اسی طرح کے ایمان سے کامیابی ممکن ہے مسلمانوں کو ایمان کی طاقت بنانا ہے کو ئی کہہ رہا ہے مسلمانوں میں اتحاد پیدا ہودنیا کی کسی قوم میں اتنی ہمت نہیں ہوگی کہ مسلمانوں پر نظر ڈالے ۔کوئی کہہ رہا ہے مسلمان سنت سے دور ہو گئے ہیں کوئی کہہ رہا ہے مسلمان سیاسی طاقت کے ذریعہ ہی کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ۔اس کے علاوہ اور بھی کئی حل پیش کئے جا رہے ہیںبہرے حال ان تمام نکات پر جو لوگ کہہ رہے ہیںصحابہؓ کے جیسے ایمان بنانے کی بعد ہی کا میابی مل سکتی ہے کیا ممکن ہے ایسا ایمان بنے کیونکہ اللہ تعالی نے صحابہؓ کے ساتھ خاص معاملہ فرمایا تھا اللہ تعالی ان کے ساتھ راضی تھا ہاں تمام مسلمانوں کو ضرور صحابہؓ کے جیسا ایمان بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ صحابہؓ کے بعد کا زمانہ اموی دور اور عباسیہ  دور اسلامی دور کے عروج کا دور کہا جا سکتا ہے ۔ مسلمانوں کی حکومتیں عرب کی سر زمین سے نکل  کر یورپ , آفریقہ اور ایشیاء تک پھیل گئی تھیں اس دور کو نہ صرف اسلامی دور کا بلکہ دنیا کے عروج کا دور بھی کہا جا سکتا ہے کیونکہ مسلمانوں کی جہاں جہاں بھی حکومتیں قائم ہوئیں تھیں ان ملکوں میں ہر میدان میں ترقی حاصل ہوئی تھی اس زمانے میں فن تعمیر سب سے بڑا شعبہ مانا جاتا تھا لوگوں کی کثیر تعداد کو اس سے روز گار کے مواقع حاصل ہوتے تھے اور آج بھی ان ممالک میں اسلامی دور کی عالیشان عمارتیں دیکھی جا سکتی ہیں اس دور میں مسلمان تعلیم یافتہ تھے اس وقت کے مسلمان تمام شعبوں میں آگے تھے ہر میدان پر چھائے ہوئے تھے کردار کے اعتبار سے وہ اونچے کردار کے مالک تھے وہ مخلص تھے وہ رحم دل تھے صبر والے تھے حکمت والے تھے اللہ سے ڈرنے والے تھے دوسری قوموں کو دینے والے تھے۔
   دوسری بات اتحاد کی کی جاتی ہے اتحاد تو ہماری روز مرہ کی زندگی میںہم دیکھ رہے ہیں دینی اجتماعات میں لاکھوں مسلمانوں کا جم غفیر اس اتحاد کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جمعہ کی نمازوں میںمسجدوں میں کھچا کھچ مسلمانوں کا مجمع اس بات کا ثبو ت ہے اور جب ہمارے لیڈر اور علماء کسی بات پر آواز اٹھاتے ہیں توتمام مسلمان ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ان کے ساتھ ہو جاتے ہیںاگر اتحاد اسی کا نام ہے تو اتحاد مکمل طورقائم ہے پھر اتحاد کے باوجود ہماری کامیابی کوسوں دور ہے ہم متحد ہونے کے باوجود کیوں ذلیل ہو رہے ہیںیا تو ہم نے اتحاد کے مفہوم کو نہیں سمجھا اصل میں ہم جس کو اتحاد سمجھ رہے ہیںدراصل وہ بھیڑ ہے اتحاد وہ ہے جو عملی زندگی میں لایا جائے ہم سے ہمارے پڑوسی کو نقصان نہ ہو مسلمان مسلمان کے تکلیف میں کام آئے ہمارے تعلقات رشتہ داروں اور پڑوسیوں سے بہتر ہوں ۔اتحاد وہ سامنے والے کے مقابلے میں اپنی قربانی پیش کریں ہم بولنے کی طاقت رکھنے کے با وجودخاموش رہیںاگر کوئی ادارہ یا حکومت چلا رہے ہیں تو مقررہ مدت تک تعاون کریں۔
مسلم ممالک میں اکثرایسا دیکھا گیا ہے اقتدار احاصل کرنے کیلئے اپوزیشن کے تمام لوگ متحد ہو کر برسر اقتدار کے ساتھ جنگ چھیڑ دیتے ہیں اور اقتدار پر آ جاتیں ہیں اقتدار میں آنے کے بعد ان کے خلا ف جو اپوزیشن ہے وہی سلسلہ قائم رکھتے ہیں نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ وہ ملک ترقی سے ہاتھ دھو  بیٹتھا ہے ۔
   کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ مسلمان اللہ کے رسول ﷺ کی سنت سے دور ہو گئے ہیں جس کی وجہہ سے مسلمان دنیا میں ذلیل ہو رہے ہیںکیا ان کی نظر میں سنت کا مفہوم یہی سمجھا جا رہا ہے جیسے داڑھی سر پر ٹوپی ٹخنے سے اوپر پائجامہ پہننا مسجد میں داخل ہوتے وقت سیدھا قدم پہلے داخل کرنا مسواک کرنا تو یہ تمام عام سنتیں ہیں اور ہمیںہر جگہ نظر آ رہی ہیں ملک کے ہزاروں مدرسوں میں اس پر خاص توجہ دی جاتی ہے اور وہاں سے فارغ طلباء ان پر عمل کر رہے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام سنت میں داخل ہیں ان سے بھی بڑی اور اہم سنتیں ہیں جس پر کوئی دھیان نہیں دیتا جیسے صبر اور حکمت اللہ تعالی کا ارشاد ہے اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے مسلمانوں میں اگر صبر کا مادہ پیدا ہو جائے تو دنیا کی سب سے  طاقتور قوم بن جائے گی ۔
اللہ کے رسول ﷺ کی ز ندگی میں ہم کو بے شمار واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں آپ کا مکہ سے ہجرت کر نے کا معاملہ ہو یا طائف میں زخمی  ہونے کا  یا صلح حدیبیہ کا معاملہ ہو یہ سب صبر کی بے حد عمدہ مثالیں ہیں جس طرح صبر ایک اعلی ترین سنت ہے اسی طرح حکمت بھی بہت اہم سنت ہے حکمت کے بغیر کوئی کامیابی ممکن نہیں ہے اور داعی کے اعتبار سے حکمت بہت اہم سنت ہے حضورﷺ کے دور کا ایک واقعہ ہے کعبہ   کی عمارت کسی  وجہہ سے منہدم ہوگئی اس کے بعد قریش کے لوگوں نے اس کی نئی تعمیر کی اس دوران یہ مسئلہ پیش آیا کہ حجر اسود کون اٹھائے گا اور اس کو اسی جگہ کون نصب کرے گا یہ چونکہ فضیلت کا معاملہ تھا ہر ایک یہ چاہے گا وہی اس کو اٹھا کر نصب کرے اورا س شرف کا مالک بنے اس سوال پر قریش کے لوگوں میں کئی دن تک جھگڑا جاری رہا آخر کار ایک تجویز یہ پیش کی گئی کے کل صبح جو شخص سب سے پہلے کعبہ میں داخل ہوگا وہی اس مسئلہ کا فیصلہ کرے گا تمام لوگوں نے اس فیصلے کو قبول کر لیا ۔اگلی صبح جب لوگ دوبارہ کعبہ میں آئے تو دیکھاکعبہ میں داخل ہونے والے سب سے پہلے شخص رسولﷺہیںہر ایک نے بیک زبان میں کہا محمد الامین ہیں ہم  ان کے فیصلے پر راضی ہیں رسول ﷺ نے لوگوں سے کہا ایک چادر لے آئولوگ چادر لے آئے تو آپ نے اس کو زمین پر پھیلا دیا اور اس کے اوپر حجر اسود کو اٹھا کر رکھاپھر آپ نے لوگوں سے کہا تم سب لوگ چادر کے کناروں کو پکڑواور اس کو اٹھا کر کعبہ کی دیوار کے پاس لے چلوانھوں نے ایسا ہی کیا پھر آپ نے حجر اسود کو چادر سے اٹھا یا اور اس کوکعبہ کی دیوار پر نصب کر دیا ایک حکیمانہ انداز اختیار کرتے ہوئے ہر ایک کو اس میں شریک کر لیا ۔
   طائف کے قبیلے کا وفد 9ہجری کو مدینہ آیا رسول ﷺ ان کو اسلام کی تعلیمات بتائیںوہ اسلام قبول کرنے پر راضی ہو گئے مگر انھوں نے اپنی طرف سے بہت سی شرطیں ر کھی اس میں یہ بھی تھا وہ صدقہ نہیں دیں گے اور جہاد نہیں کریں گے اس کے باوجود رسول ﷺنے ان سے بعیت لے کر ان کو اسلام میں داخل کر لیا کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو ان کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا یہ لوگ جب اسلام قبول کر لیں گے تو اس کے بعد وہ صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے آپ نے ان کے حال کے بجائے مستقبل کی نظر سے دیکھا اور بات صحیح ثابت ہوئی قبیلے کے لوگ جلد ہی پورے طور سے اسلام کے عامل بن گئے انھوں اسلام کی تمام تعلیمات پر عمل کیا اور اس کو اپنی سعادت سمجھا ۔
    اللہ تعالی نے قرآن کی جو آیتیں ہماری لئے اتاری ہیں یہ سب حکمت سے خالی نہیں ہیں لوگوں کو اگر پہلے ہی شراب زنا اور سود کو چھوڑنے کو کہا جااتا تو بہت نا گوار گذرتااور مزاج قبول کرنے کو تیار نہ ہوتا اس لئے پہلے ایمان کے متعلق آیتیں نازل ہوئیں۔
    آخری بات جو لوگ سیاست کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیںوہ بہت بڑے دھوکے میں ہیں علاقہ کے اعتبار سے کچھ جگہوں پر سیاسی طاقت حاصل کی جا سکتی ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے جمہوریت میں سب سے بڑی طاقت ووٹوں کی ہوتی ہے جس کوسب سے زیادہ ووٹ ملیں گے وہی بادشاہ کہلاتا ہے اگر ہمارے ووٹوں کا ہم تجزیہ کریں ملک کے جملہ ووٹوں کا اٹھارہ فیصد ووٹ ہیں اور تمام متحد ہو کرایک پارٹی بنا کر ووٹ ڈالیں تو بھی الیکشن میں جیتنا ممکن نہیں ہے اس کے باوجود آج بھی لوگ یہی کہہ رہے ہیں ہم متحد ہوں گے تو ہماری حکومت بنے گی یہ صرف مسلمانوں کو جذبات میں لاکر ان سے کھلواڑ کرنا ہے اور اپنا مفاد حاصل کرنا ہے مجموعی طور پر مسلمانوں کو اس سے کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے اتحاد کرنے والے لوگ جب الیکشن آتا ہے اتحاد کو بھول جاتے ہیں اور اپنے مفاد کے لئے مختلف سیاسی پارٹیوں سے جڑ جاتے ہیں اگر مسلمان جذباتی سیاست سے ہٹ کرح

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں