وسطی افریقی جمہوریہ کے مغربی حصے میں منگل کے روز سونے کی کان کا ایک حصہ منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 30 کان کن ہلاک ہو گئے اور کئی دیگر پھنس گئے۔ واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بچ جانے والے کان کنوں میں سے ایک، فلورین گاگوئنڈے نے بتایا کہ نانا-مامبرے پریفیکچر کے ابا علاقے میں منگل کی صبح کم ٹیکنالوجی والی، روایتی طریقے سے چلائی جانے والی کان دھنس گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ریسکیو ٹیم ان کان کنوں کی تلاش میں مصروف ہیں جن کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے، تاہم ان کے زندہ ملنے کے امکانات کم بتائے جا رہے ہیں۔
سب ڈویژن کے ڈپٹی میئر سلیمان بی نے بتایا کہ ریسکیو ورکرز اور مقامی لوگ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد منہدم ہونے والی کان سے 30 لاشیں نکالنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جب کہ زخمی کان کنوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ سلیمان بی نے کہا کہ ‘یہ انتہائی ہولناک ہے اور ہم فلاحی تنظیموں اور تمام نیک نیت لوگوں سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں تاکہ ان لوگوں کو گڑھے سے باہر نکالا جا سکے جو خود ایسا کرنے سے قاصر ہیں۔’
واقعے کی جو ویڈیو فوٹیج سامنے آئی ہے، اس میں افراتفری کے عالم میں امدادی کاموں میں مصروف لوگ دکھائی دے رہے ہیں۔ مٹی اور کیچڑ سے لت پت زیادہ تر نوجوان کان کن گڑھے سے لاشیں نکالتے ہوئے نظر آئے۔ کئی دوسرے کان کن اور مزدور اس بڑے علاقے میں ادھر ادھر گھبراہٹ میں بھاگتے ہوئے دیکھے گئے، جب کہ کچھ لوگ مدد کے لیے کراہ رہے تھے۔
سرکاری ترجمان ایوارسٹ نگامانا نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ حکام متاثرین تک امداد اور سہولیات پہنچانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ وسطی افریقی جمہوریہ میں چھوٹے پیمانے پر کی جانے والی روایتی کان کنی کے دوران کانوں کے منہدم ہونے کے ایسے واقعات عام ہیں، جہاں ہزاروں لوگ اس کام سے وابستہ ہیں۔ یہ کام انتہائی پرخطر ہے کیونکہ کان کنوں کے پاس عام طور پر تحفظ کے مناسب وسائل نہیں ہوتے اور یہاں اکثر ہونے والے حادثات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔


