الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے نئے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکہ ایران کے خلاف اپنی جنگ اور ناکہ بندی ختم نہیں کرتا اور وسیع تر علاقائی جنگ بندی پر رضامند نہیں ہو جاتا۔
تہران میں چین کے سفیر سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں محسن رضائی نے بتایا کہ ایران کی شرائط میں منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی اور لبنان و غزہ میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سابق کمانڈر ان چیف رضائی نے کہا: "جب تک تمام شرائط پوری نہیں ہو جاتیں، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔”
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز، بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف فوجی سرگرمیاں جاری ہیں، جس سے اس اہم تجارتی بحری راستے کے جلد کھلنے کی امیدیں مزید مدہم ہو گئی ہیں۔ محسن رضائی نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے عمان کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کا واشنگٹن سے کوئی تعلق نہیں ہے، جبکہ ایران چین کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط بنانے پر زور دے رہا ہے۔


