جنگ نیوز
سرینگر/ حکومتِ جموں و کشمیر نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں سائبر سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانے اور سائبر جرائم سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لئے جموں و کشمیر سائبر کرائم کوآرڈی نیشن سینٹر (JK4C) کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ یہ ادارہ DGP جموں و کشمیر کی مجموعی نگرانی اور انتظامی کنٹرول میں ایک خودمختار تنظیم کے طور پر کام کرے گا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق JK4C پورے جموں و کشمیر میں سائبر جرائم کی روک تھام، نگرانی، تحقیقات اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے لئے مرکزی ادارے کی حیثیت سے کام کرے گا۔ یہ ادارہ وزارتِ داخلہ، حکومتِ ہند کے Indian Cyber Crime Coordination Centre (I4C) کے ساتھ قریبی تال میل رکھتے ہوئے قومی سائبر سلامتی کے نظام سے مربوط رہے گا۔
حکم نامے کے مطابق JK4C کی سربراہی IGP رینک کا ایک افسر کرے گا، جو ادارے کے CEO کی حیثیت سے فرائض انجام دے گا۔
حکومت نے تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کرتے ہوئے سائبر جرائم سے متعلق تمام معاملات کو جموں و کشمیر پولیس کے کرائم ونگ سے علیحدہ کر کے مکمل طور پر JK4C کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس کے علاوہ، موجودہ دو CICEs اور 23 ضلعی سائبر پولیس اسٹیشنوں کو بھی JK4C کا حصہ بنایا گیا ہے تاکہ سائبر جرائم سے نمٹنے کے لئے ایک مربوط اور مؤثر ادارہ جاتی نظام قائم کیا جا سکے۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ JK4C کے لئے مطلوبہ نئی اسامیوں کی تخلیق کی کارروائی ضابطہ کار کے مطابق الگ سے عمل میں لائی جائے گی۔ مستقل تقرریوں تک Police Headquarters کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ موجودہ نفری میں سے DySP رینک اور اس سے کم درجے کے پولیس اہلکار تعینات کرے تاکہ مرکز بلا تاخیر فعال بنایا جا سکے۔
حکومت نے JK4C کے تنظیمی ڈھانچے، مجوزہ عملے، عملی طریقۂ کار، مختلف شعبہ جات کے ورک فلو اور ان کی ذمہ داریوں کی بھی منظوری دی ہے۔
حکومت کے مطابق JK4C کے قیام سے سائبر خطرات سے نمٹنے کی استعداد میں اضافہ، مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، سائبر جرائم کی تحقیقات میں تیزی اور شہریوں کو آن لائن جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے ادارہ جاتی نظام کو مزید مضبوطی حاصل ہوگی۔


