جنگی کارروائیوں میں رازداری اور حکمت عملی اپنی جگہ اہم ہوتی ہے، لیکن اس کے نام پر عوام سے حقائق چھپانا کسی بھی جمہوری حکومت کے لئے مناسب نہیں۔ آپریشن سندھور کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرنے والے چھ فوجیوں کی شہادت کا باضابطہ اعتراف ایک سال سے زائد عرصے بعد کیا جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ وہ سپاہی تھے جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں اور ان کی قربانی کو بروقت قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے تھا۔
پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آپریشن سندھور انجام دیا۔ حکومت نے اس کارروائی کو بڑی کامیابی قرار دیا، مگر اس دوران ہونے والے نقصانات کے بارے میں مکمل معلومات دینے سے گریز کیا۔ حالانکہ کسی بھی فوجی آپریشن میں جانی نقصان ایک حقیقت ہوتا ہے اور اس کا اعتراف نہ تو کمزوری کی علامت ہے اور نہ ہی قومی سلامتی کے خلاف۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا پارلیمنٹ میں یہ بیان کہ "کوئی بھارتی فوجی نقصان کا شکار نہیں ہوا” بعد میں وضاحتوں کا محتاج بن گیا۔ اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بیان صرف فضائیہ کے پائلٹوں کے حوالے سے تھا، لیکن ایسے حساس معاملات میں غیر واضح بیانات حکومت کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور عوام کو درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا جمہوری ذمہ داری ہے۔
یقیناً فوجی حکمت عملی، ہتھیاروں اور آپریشنل تفصیلات کو خفیہ رکھنا ضروری ہے، لیکن شہداء کی قربانیوں کا اعتراف اور جنگی کارروائیوں کے انسانی پہلو سے عوام کو آگاہ کرنا قومی احتساب کا حصہ ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جہاں قومی سلامتی اور شفافیت کے درمیان متوازن رویہ اختیار کیا جائے۔ شہداء کی قربانیوں کا احترام صرف اعزازات سے نہیں بلکہ سچائی، دیانت داری اور بروقت اعتراف سے بھی ہوتا ہے۔
قومی سلامتی اور عوامی احتساب
قومی سلامتی اور عوامی احتساب
جنگی کارروائیوں میں رازداری اور حکمت عملی اپنی جگہ اہم ہوتی ہے، لیکن اس کے نام پر عوام سے حقائق چھپانا کسی بھی جمہوری حکومت کے لئے مناسب نہیں۔ آپریشن سندھور کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرنے والے چھ فوجیوں کی شہادت کا باضابطہ اعتراف ایک سال سے زائد عرصے بعد کیا جانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ وہ سپاہی تھے جنہوں نے وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں اور ان کی قربانی کو بروقت قومی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے تھا۔
پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد بھارت نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آپریشن سندھور انجام دیا۔ حکومت نے اس کارروائی کو بڑی کامیابی قرار دیا، مگر اس دوران ہونے والے نقصانات کے بارے میں مکمل معلومات دینے سے گریز کیا۔ حالانکہ کسی بھی فوجی آپریشن میں جانی نقصان ایک حقیقت ہوتا ہے اور اس کا اعتراف نہ تو کمزوری کی علامت ہے اور نہ ہی قومی سلامتی کے خلاف۔
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا پارلیمنٹ میں یہ بیان کہ "کوئی بھارتی فوجی نقصان کا شکار نہیں ہوا” بعد میں وضاحتوں کا محتاج بن گیا۔ اگرچہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ بیان صرف فضائیہ کے پائلٹوں کے حوالے سے تھا، لیکن ایسے حساس معاملات میں غیر واضح بیانات حکومت کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ اور عوام کو درست اور مکمل معلومات فراہم کرنا جمہوری ذمہ داری ہے۔
یقیناً فوجی حکمت عملی، ہتھیاروں اور آپریشنل تفصیلات کو خفیہ رکھنا ضروری ہے، لیکن شہداء کی قربانیوں کا اعتراف اور جنگی کارروائیوں کے انسانی پہلو سے عوام کو آگاہ کرنا قومی احتساب کا حصہ ہے۔ ایک مضبوط جمہوریت وہی ہوتی ہے جہاں قومی سلامتی اور شفافیت کے درمیان متوازن رویہ اختیار کیا جائے۔ شہداء کی قربانیوں کا احترام صرف اعزازات سے نہیں بلکہ سچائی، دیانت داری اور بروقت اعتراف سے بھی ہوتا ہے۔


