وائرل ویڈیو سے آگے کا سوال

ایک معصوم بچے کی ویڈیوجس میں وہ وزیر تعلیم سکینہ ایتو کے بارے میں موسم گرما کی تعطیلات پر اپنی رائے دیتا ہے، سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔ ویڈیو نے تعطیلات کے معاملے سے زیادہ ایک اور اہم بحث کو جنم دیا ہے، اور وہ ہے بچوں کو سوشل میڈیا پر بطور مواد پیش کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان۔ سوال یہ نہیں کہ بچے نے کیا کہا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا کم عمر بچوں کے خیالات کو کیمرے کے سامنے لا کر لاکھوں لوگوں کے سامنے پیش کرنا صحافتی اور اخلاقی طور پر درست ہے؟
آج کا سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کی شخصیت، سوچ اور اقدار تشکیل دے رہا ہے۔ جو مواد وہ روزانہ دیکھتے ہیں، وہی ان کے اظہار، زبان، رویے اور ترجیحات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر ان کی دنیا کا بڑا حصہ شور، سنسنی، تضحیک اور وقتی شہرت پر مشتمل ہوگا تو اس کے اثرات بھی اسی نوعیت کے ہوں گے۔
ایک وقت تھا جب بچوں کی تربیت میں کتابوں کا بنیادی کردار ہوتا تھا۔ مطالعہ صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اخبارات، رسائل اور ادبی کتابیں بھی گھروں کا حصہ ہوتی تھیں۔ ٹیلی وژن پر علمی اور معلوماتی پروگرام نشر ہوتے تھے جن میں ماہرین مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔ اسکولوں میں نصابی تعلیم کے ساتھ اخلاقی اور سماجی شعور بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ یہ سب عوامل مل کر ایک متوازن ذہن کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتے تھے۔
سوشل میڈیا نے ابتدا میں علم تک رسائی کو آسان بنایا۔ دنیا بھر کے ماہرین، دانشوروں اور اداروں سے براہ راست رابطہ ممکن ہوا۔ معلومات کی رفتار بڑھی اور اظہار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس کا دوسرا رخ بھی نمایاں ہوا۔ گزشتہ چند برسوں میں کشمیر میں سنجیدہ مکالمے کی جگہ غیر ذمہ دارانہ تبصروں، شور شرابے اور سطحی مواد نے لے لی۔ سچائی سے زیادہ وائرل ہونا اہم سمجھا جانے لگا اور تحقیق سے زیادہ سنسنی کو ترجیح دی جانے لگی۔
بدقسمتی سے صحافت بھی اس رجحان سے محفوظ نہ رہ سکی۔ بعض حلقوں میں پیشہ ورانہ اصولوں، تحقیق اور ذمہ داری کے بجائے چیخ و پکار، سنسنی خیزی اور فوری شہرت کو کامیابی کا پیمانہ بنا لیا گیا۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اظہار کا موقع ضرور دیا، لیکن اظہار کی آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس ہرگز پیدا نہیں ہو سکا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کم عمر بچوں تک کو وائرل مواد کا حصہ بنایا جانے لگا، حالانکہ وہ نہ اس کے نتائج سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی اس دباؤ کا سامنا کرنے کی ذہنی پختگی رکھتے ہیں۔
بچوں کو خبروں کا موضوع بنانے اور ان سے سیاسی یا سماجی معاملات پر رائے لینے میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔ صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کم عمر بچوں کے حقوق، وقار اور مستقبل کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ چند لمحوں کی شہرت یا زیادہ ناظرین حاصل کرنے کی خواہش کسی بچے کی نجی زندگی اور نفسیاتی تحفظ سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتی۔
یہ وقت معاشرے کے لئے بھی خود احتسابی کا ہے۔ والدین، اساتذہ، صحافی اور سماجی ذرائع ابلاغ استعمال کرنے والے سبھی افراد کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بچوں میں مطالعے کی عادت کو فروغ دیں، انہیں معیاری کتابوں، مثبت گفتگو اور تعمیری سرگرمیوں سے جوڑیں اور انہیں ایسی ڈیجیٹل دنیا فراہم کریں جہاں علم، تحقیق اور تہذیب کو سنسنی اور شور پر فوقیت حاصل ہو۔
اگر ہم آنے والی نسل کو باکردار، باشعور اور ذمہ دار شہری بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف سوشل میڈیا پر اعتراض کرنے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں گھروں، اسکولوں اور معاشرے میں مطالعے کی ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، صحافت کو اس کی پیشہ ورانہ اقدار کی طرف لوٹانا ہوگا اور سب سے بڑھ کر اپنے بچوں کو محض وائرل مواد نہیں بلکہ قوم کا مستقبل سمجھنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

تازہ ترین خبریں

جموں و کشمیر میں مزید بارشوں کا امکان

سرینگر: جموں و کشمیر میں اگلے ایک ہفتے کے دوران...

شدید زلزلے میں 13 افراد جان بحق، درجنوں لاپتہ اور امدادی کارروائیاں جاری

فیضان پنجابی  جاپان کے جنوب مغربی علاقے میں آنے والے...

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

وائرل ویڈیو سے آگے کا سوال

ایک معصوم بچے کی ویڈیوجس میں وہ وزیر تعلیم سکینہ ایتو کے بارے میں موسم گرما کی تعطیلات پر اپنی رائے دیتا ہے، سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی۔ ویڈیو نے تعطیلات کے معاملے سے زیادہ ایک اور اہم بحث کو جنم دیا ہے، اور وہ ہے بچوں کو سوشل میڈیا پر بطور مواد پیش کرنے کا بڑھتا ہوا رجحان۔ سوال یہ نہیں کہ بچے نے کیا کہا، بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا کم عمر بچوں کے خیالات کو کیمرے کے سامنے لا کر لاکھوں لوگوں کے سامنے پیش کرنا صحافتی اور اخلاقی طور پر درست ہے؟
آج کا سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا بچوں کی شخصیت، سوچ اور اقدار تشکیل دے رہا ہے۔ جو مواد وہ روزانہ دیکھتے ہیں، وہی ان کے اظہار، زبان، رویے اور ترجیحات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر ان کی دنیا کا بڑا حصہ شور، سنسنی، تضحیک اور وقتی شہرت پر مشتمل ہوگا تو اس کے اثرات بھی اسی نوعیت کے ہوں گے۔
ایک وقت تھا جب بچوں کی تربیت میں کتابوں کا بنیادی کردار ہوتا تھا۔ مطالعہ صرف نصابی کتابوں تک محدود نہیں تھا بلکہ اخبارات، رسائل اور ادبی کتابیں بھی گھروں کا حصہ ہوتی تھیں۔ ٹیلی وژن پر علمی اور معلوماتی پروگرام نشر ہوتے تھے جن میں ماہرین مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے تھے۔ اسکولوں میں نصابی تعلیم کے ساتھ اخلاقی اور سماجی شعور بھی پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ یہ سب عوامل مل کر ایک متوازن ذہن کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتے تھے۔
سوشل میڈیا نے ابتدا میں علم تک رسائی کو آسان بنایا۔ دنیا بھر کے ماہرین، دانشوروں اور اداروں سے براہ راست رابطہ ممکن ہوا۔ معلومات کی رفتار بڑھی اور اظہار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ لیکن وقت کے ساتھ اس کا دوسرا رخ بھی نمایاں ہوا۔ گزشتہ چند برسوں میں کشمیر میں سنجیدہ مکالمے کی جگہ غیر ذمہ دارانہ تبصروں، شور شرابے اور سطحی مواد نے لے لی۔ سچائی سے زیادہ وائرل ہونا اہم سمجھا جانے لگا اور تحقیق سے زیادہ سنسنی کو ترجیح دی جانے لگی۔
بدقسمتی سے صحافت بھی اس رجحان سے محفوظ نہ رہ سکی۔ بعض حلقوں میں پیشہ ورانہ اصولوں، تحقیق اور ذمہ داری کے بجائے چیخ و پکار، سنسنی خیزی اور فوری شہرت کو کامیابی کا پیمانہ بنا لیا گیا۔ سوشل میڈیا نے ہر شخص کو اظہار کا موقع ضرور دیا، لیکن اظہار کی آزادی کے ساتھ ذمہ داری کا احساس ہرگز پیدا نہیں ہو سکا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کم عمر بچوں تک کو وائرل مواد کا حصہ بنایا جانے لگا، حالانکہ وہ نہ اس کے نتائج سے واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی اس دباؤ کا سامنا کرنے کی ذہنی پختگی رکھتے ہیں۔
بچوں کو خبروں کا موضوع بنانے اور ان سے سیاسی یا سماجی معاملات پر رائے لینے میں غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔ صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کم عمر بچوں کے حقوق، وقار اور مستقبل کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ چند لمحوں کی شہرت یا زیادہ ناظرین حاصل کرنے کی خواہش کسی بچے کی نجی زندگی اور نفسیاتی تحفظ سے زیادہ اہم نہیں ہو سکتی۔
یہ وقت معاشرے کے لئے بھی خود احتسابی کا ہے۔ والدین، اساتذہ، صحافی اور سماجی ذرائع ابلاغ استعمال کرنے والے سبھی افراد کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بچوں میں مطالعے کی عادت کو فروغ دیں، انہیں معیاری کتابوں، مثبت گفتگو اور تعمیری سرگرمیوں سے جوڑیں اور انہیں ایسی ڈیجیٹل دنیا فراہم کریں جہاں علم، تحقیق اور تہذیب کو سنسنی اور شور پر فوقیت حاصل ہو۔
اگر ہم آنے والی نسل کو باکردار، باشعور اور ذمہ دار شہری بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف سوشل میڈیا پر اعتراض کرنے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں گھروں، اسکولوں اور معاشرے میں مطالعے کی ثقافت کو دوبارہ زندہ کرنا ہوگا، صحافت کو اس کی پیشہ ورانہ اقدار کی طرف لوٹانا ہوگا اور سب سے بڑھ کر اپنے بچوں کو محض وائرل مواد نہیں بلکہ قوم کا مستقبل سمجھنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں