جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی/ خلیجِ اومان میں تجارتی آئل ٹینکر "سیٹے بیلو” پر حملے کے بعد بھارت نے نئی دہلی میں تعینات امریکی ناظم الامور جیسن میکس کو طلب کر کے سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ حملے کے نتیجے میں جہاز پر سوار 24 بھارتی عملے کے ارکان میں سے 21 کو بچا لیا گیا، جبکہ 3 تاحال لاپتہ ہیں۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں تجارتی جہازوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا انتہائی تشویش ناک ہے۔ وزارت نے بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں آزاد اور بلا رکاوٹ بحری نقل و حرکت کی بحالی اور کشیدگی میں فوری کمی کا مطالبہ کیا۔ بھارتی سفارت خانہ عمانی حکام کے ساتھ مل کر لاپتہ ملاحوں کی تلاش میں مصروف ہے۔ اطلاعات کے مطابق ٹینکر خلیجِ اومان میں حملے کا نشانہ بنا، جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی اور امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں۔
یہ تین روز کے اندر دوسرا واقعہ ہے جس میں بھارتی عملے کے حامل ایک جہاز کو خطے میں حملے کا سامنا کرنا پڑا، جس سے مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی بحری تجارت کے حوالے سے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔


