شاہ زبیر کے مجموعہ مضامین "چراغ ہدایت”پرتبصرہ

 

وانی عرفات

اردو ادب محض الفاظ کی ترتیب اور جملوں کی خوبصورتی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی شعور، سماجی سچائیوں اور داخلی احساسات کی وہ جہت ہے جس میں فرد اپنے عہد کی تصویر دیکھ سکتا ہے۔ مضمون نگار اور افسانہ نویس جب قلم اٹھاتا ہے تو اپنے عہد کے ضمیر کی ترجمانی کرتا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ ایسے تخلیق کاروں سے بھری ہے جنہوں نے لفظوں کو احساس اور سچائی کا آئینہ بنایا۔ اسی روایت میں شاہ زبیر ایک ایسے نوجوان تخلیق کار کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اپنے عہد کے مسائل کو سادہ مگر اثر انگیز انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی کتاب چراغِ ہدایت عصرِ حاضر کے سماجی و مذہبی شعور کو اجاگر کرتی ہے۔
میں جب اخبار کا مطالعہ کرتا تھا تو ایک نام بار بار سامنے آتا تھا، اور وہ تھا شاہ زبیر۔ ابتدا میں یہ محض ایک نام تھا، مگر وقت کے ساتھ ایک فکری موجودگی میں بدل گیا جو قاری کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔ اس کے مضامین میں سچائی اور دردمندی اسے ممتاز بناتی ہے۔ یہی احساس مجھے اس سے رابطہ کرنے پر آمادہ کر گیا، اور جلد ہی یہ تعلق ایک ادبی دوستی میں بدل گیا۔
بڈگام کے زگی پورہ، چرار شریف سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان آج اردو اور کشمیری ادب میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ شاہ زبیر بی اے سالِ اول کا طالب علم ہے، مگر اس کی پہچان ایک شاعر اور مضمون نگار کی حیثیت سے قائم ہو چکی ہے۔ اس کے الفاظ عمر سے زیادہ پختگی رکھتے ہیں۔ اس کا ادبی سفر آٹھویں جماعت سے شروع ہوا، اور دسویں تک اس کی تحریروں میں نمایاں نکھار آ چکا تھا۔
اس کی بڑی خوبی لسانی شعور ہے۔ اس نے ابتدا کشمیری زبان سے کی، پھر اردو کو بھی اظہار کا ذریعہ بنایا۔ اس کی تخلیقی کاوشیں وسیع ہیں: ڈیڑھ سو سے زائد نظمیں، بیس سے زیادہ افسانے، دس سے زائد ڈرامے اور متعدد مضامین۔ اس کی تحریروں میں سماج، انسانی نفسیات اور اخلاقی مسائل کا شعور نمایاں ہے۔
ادب کے ساتھ وہ دینی خدمات سے بھی وابستہ ہے۔ وہ ایک مدرسے میں قرآنِ کریم کی تعلیم دیتا ہے اور مسجد میں امام ہے۔ یہ ذمہ داریاں اس کی شخصیت میں سنجیدگی اور ذمہ داری پیدا کرتی ہیں، اور یہی توازن اس کے ادب میں بھی نظر آتا ہے۔
مالی مشکلات کے باوجود اس نے حوصلہ نہیں ہارا، اور اس کی پہلی کتاب چراغِ ہدایت شائع ہو گئی۔ یہ اس کے عزم کی عملی تعبیر ہے، اور اسے بیس سے زائد اعزازات بھی مل چکے ہیں۔
چراغِ ہدایت عصرِ حاضر کے سماجی اور مذہبی مسائل پر ایک فکر انگیز مجموعۂ مضامین ہے۔ اس میں دینی، سماجی اور اخلاقی پہلوؤں کو توازن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ خوفِ خدا، نماز، سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت جیسے موضوعات دینی شعور کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ مسلکی اختلافات پر وہ اتحاد کی بات کرتا ہے۔
سماجی مسائل جیسے احسان فراموشی، دھوکہ دہی اور سچائی کا فقدان بھی اس میں زیر بحث آئے ہیں۔ نوجوانوں کے لئے جھوٹی شہرت اور موبائل فون کے نقصانات جیسے موضوعات رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
ادبی لحاظ سے اس کا اسلوب سادہ اور مؤثر ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ کتاب معلومات کے ساتھ فکری بیداری بھی پیدا کرتی ہے۔
مجموعی طور پر چراغِ ہدایت ایک ایسی کتاب ہے جو قاری کو خود احتسابی اور مثبت تبدیلی کی طرف مائل کرتی ہے۔ شاہ زبیر نے اپنی پہلی کاوش میں ہی ثابت کیا ہے کہ سچائی اور مقصدیت کے ساتھ لکھی گئی تحریر معاشرے میں اثر ڈال سکتی ہے۔
آخر میں، میں شاہ زبیر اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ یہ چراغ ہمیشہ روشن رہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب قارئین کے دلوں میں اپنی جگہ بنائے گی۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

شاہ زبیر کے مجموعہ مضامین "چراغ ہدایت”پرتبصرہ

 

وانی عرفات

اردو ادب محض الفاظ کی ترتیب اور جملوں کی خوبصورتی کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی شعور، سماجی سچائیوں اور داخلی احساسات کی وہ جہت ہے جس میں فرد اپنے عہد کی تصویر دیکھ سکتا ہے۔ مضمون نگار اور افسانہ نویس جب قلم اٹھاتا ہے تو اپنے عہد کے ضمیر کی ترجمانی کرتا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ ایسے تخلیق کاروں سے بھری ہے جنہوں نے لفظوں کو احساس اور سچائی کا آئینہ بنایا۔ اسی روایت میں شاہ زبیر ایک ایسے نوجوان تخلیق کار کے طور پر سامنے آتے ہیں جو اپنے عہد کے مسائل کو سادہ مگر اثر انگیز انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی کتاب چراغِ ہدایت عصرِ حاضر کے سماجی و مذہبی شعور کو اجاگر کرتی ہے۔
میں جب اخبار کا مطالعہ کرتا تھا تو ایک نام بار بار سامنے آتا تھا، اور وہ تھا شاہ زبیر۔ ابتدا میں یہ محض ایک نام تھا، مگر وقت کے ساتھ ایک فکری موجودگی میں بدل گیا جو قاری کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے۔ اس کے مضامین میں سچائی اور دردمندی اسے ممتاز بناتی ہے۔ یہی احساس مجھے اس سے رابطہ کرنے پر آمادہ کر گیا، اور جلد ہی یہ تعلق ایک ادبی دوستی میں بدل گیا۔
بڈگام کے زگی پورہ، چرار شریف سے تعلق رکھنے والا یہ نوجوان آج اردو اور کشمیری ادب میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ شاہ زبیر بی اے سالِ اول کا طالب علم ہے، مگر اس کی پہچان ایک شاعر اور مضمون نگار کی حیثیت سے قائم ہو چکی ہے۔ اس کے الفاظ عمر سے زیادہ پختگی رکھتے ہیں۔ اس کا ادبی سفر آٹھویں جماعت سے شروع ہوا، اور دسویں تک اس کی تحریروں میں نمایاں نکھار آ چکا تھا۔
اس کی بڑی خوبی لسانی شعور ہے۔ اس نے ابتدا کشمیری زبان سے کی، پھر اردو کو بھی اظہار کا ذریعہ بنایا۔ اس کی تخلیقی کاوشیں وسیع ہیں: ڈیڑھ سو سے زائد نظمیں، بیس سے زیادہ افسانے، دس سے زائد ڈرامے اور متعدد مضامین۔ اس کی تحریروں میں سماج، انسانی نفسیات اور اخلاقی مسائل کا شعور نمایاں ہے۔
ادب کے ساتھ وہ دینی خدمات سے بھی وابستہ ہے۔ وہ ایک مدرسے میں قرآنِ کریم کی تعلیم دیتا ہے اور مسجد میں امام ہے۔ یہ ذمہ داریاں اس کی شخصیت میں سنجیدگی اور ذمہ داری پیدا کرتی ہیں، اور یہی توازن اس کے ادب میں بھی نظر آتا ہے۔
مالی مشکلات کے باوجود اس نے حوصلہ نہیں ہارا، اور اس کی پہلی کتاب چراغِ ہدایت شائع ہو گئی۔ یہ اس کے عزم کی عملی تعبیر ہے، اور اسے بیس سے زائد اعزازات بھی مل چکے ہیں۔
چراغِ ہدایت عصرِ حاضر کے سماجی اور مذہبی مسائل پر ایک فکر انگیز مجموعۂ مضامین ہے۔ اس میں دینی، سماجی اور اخلاقی پہلوؤں کو توازن کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ خوفِ خدا، نماز، سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آخرت جیسے موضوعات دینی شعور کو اجاگر کرتے ہیں، جبکہ مسلکی اختلافات پر وہ اتحاد کی بات کرتا ہے۔
سماجی مسائل جیسے احسان فراموشی، دھوکہ دہی اور سچائی کا فقدان بھی اس میں زیر بحث آئے ہیں۔ نوجوانوں کے لئے جھوٹی شہرت اور موبائل فون کے نقصانات جیسے موضوعات رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
ادبی لحاظ سے اس کا اسلوب سادہ اور مؤثر ہے، جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ کتاب معلومات کے ساتھ فکری بیداری بھی پیدا کرتی ہے۔
مجموعی طور پر چراغِ ہدایت ایک ایسی کتاب ہے جو قاری کو خود احتسابی اور مثبت تبدیلی کی طرف مائل کرتی ہے۔ شاہ زبیر نے اپنی پہلی کاوش میں ہی ثابت کیا ہے کہ سچائی اور مقصدیت کے ساتھ لکھی گئی تحریر معاشرے میں اثر ڈال سکتی ہے۔
آخر میں، میں شاہ زبیر اور ان کے والدین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ یہ چراغ ہمیشہ روشن رہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب قارئین کے دلوں میں اپنی جگہ بنائے گی۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں