غزل: کیسر خان قیس

کیسر خان قیس

 

محبت کی نرالی شان ہے میرا وطن دیکھو
زمیں کا دل، فلک کی جان ہے میرا وطن دیکھو
ہمالہ کی بلندی سے عیاں ہے عظمتِ ماضی
حیا و غیرتِ انسان ہے میرا وطن دیکھو
یہ گنگا اور یہ جمنا، یہ دھارے، یہ حسیں منظر
خدا کا خاص اک احسان ہے میرا وطن دیکھو
یہاں ہر رنگ کے پودے، یہاں ہر وضع کے گلشن
چمن در اصل اک گلدان ہے میرا وطن دیکھو
کہیں مندر کی گھنٹی ہے، کہیں مسجد کی ہے دستک
محبت کا حسیں دیوان ہے میرا وطن دیکھو
شہیدوں کے لہو سے ہم نے سینچی ہے یہ ہریالی
اسی مٹی پہ سب قربان ہے میرا وطن دیکھو
ترقی کی منڈیروں پر جلائے ہیں نئے دیپک
نئے ہی دور کا عنوان ہے میرا وطن دیکھو
نہ ہندو ہے نہ مسلم ہے یہاں بس ایک انساں ہے
اخوت کی یہی پہچان ہے میرا وطن دیکھو
تعصب کی ہواؤں نے جھلس ڈالی ہے گو رنگت
مگر پھر بھی بڑا ذیشان ہے میرا وطن دیکھو
یہی تہذیب کا مرکز یہی امن و اماں کا گھر
فدا ہر در پہ کیسر خان ہے ،میرا وطن دیکھو
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

غزل: کیسر خان قیس

کیسر خان قیس

 

محبت کی نرالی شان ہے میرا وطن دیکھو
زمیں کا دل، فلک کی جان ہے میرا وطن دیکھو
ہمالہ کی بلندی سے عیاں ہے عظمتِ ماضی
حیا و غیرتِ انسان ہے میرا وطن دیکھو
یہ گنگا اور یہ جمنا، یہ دھارے، یہ حسیں منظر
خدا کا خاص اک احسان ہے میرا وطن دیکھو
یہاں ہر رنگ کے پودے، یہاں ہر وضع کے گلشن
چمن در اصل اک گلدان ہے میرا وطن دیکھو
کہیں مندر کی گھنٹی ہے، کہیں مسجد کی ہے دستک
محبت کا حسیں دیوان ہے میرا وطن دیکھو
شہیدوں کے لہو سے ہم نے سینچی ہے یہ ہریالی
اسی مٹی پہ سب قربان ہے میرا وطن دیکھو
ترقی کی منڈیروں پر جلائے ہیں نئے دیپک
نئے ہی دور کا عنوان ہے میرا وطن دیکھو
نہ ہندو ہے نہ مسلم ہے یہاں بس ایک انساں ہے
اخوت کی یہی پہچان ہے میرا وطن دیکھو
تعصب کی ہواؤں نے جھلس ڈالی ہے گو رنگت
مگر پھر بھی بڑا ذیشان ہے میرا وطن دیکھو
یہی تہذیب کا مرکز یہی امن و اماں کا گھر
فدا ہر در پہ کیسر خان ہے ،میرا وطن دیکھو
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون