ایران میں ہلچل، مگر اقتدار کی بساط جوں کی توں

یوسف شمسی

ایران ایک بار پھر سیاسی ہلچل اور عوامی بے چینی کی زد میں ہے۔ مختلف شہروں سے احتجاجی مناظر، نعرے اور مظاہروں کی تصاویر سامنے آ رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا نے اس فضا کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ملک سے باہر، خصوصاً مغربی دنیا میں، یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اسلامی جمہوریہ ایران اپنے وجود کے کسی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے یا نہیں۔ تاہم اگر ایران کی سیاسی تاریخ اور نظام کی ساخت کو سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ قیاس آرائیاں نئی نہیں بلکہ بار بار دہرائی جانے والی کہانیاں محسوس ہوتی ہیں۔
1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران نے کئی مرتبہ اندرونی بدامنی اور عوامی احتجاج کا سامنا کیا ہے۔ کبھی یہ تحریکیں سیاسی اصلاحات کے مطالبے پر اٹھیں، کبھی معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا، اور کبھی سماجی پابندیاں فوری محرک بنیں۔ 2009 کی سبز تحریک، 2017-18 اور 2019 کے معاشی مظاہرے، اور 2022 کی شدید عوامی بے چینی—ہر مرحلے پر یہ دعوے سامنے آئے کہ ایرانی نظام اپنے آخری دن گن رہا ہے، مگر ہر بار نظام نہ صرف برقرار رہا بلکہ حالات پر قابو پانے میں بھی کامیاب ہوا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک ایسے نظام کی تشکیل تھی جس میں نظریہ، مذہبی قیادت (علما) اور ریاستی حفاظتی ڈھانچہ ایک دوسرے کے ساتھ گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ باہمی ربط اس نظام کو محض احتجاجی دباؤ سے ٹوٹنے نہیں دیتا۔ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے وہ عناصر موجود نہیں جو کسی بھی ریاستی نظام کے خاتمے کا سبب بنتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران میں احتجاجی تحریکوں کے پیچھے کوئی متحد اور قابلِ اعتبار قومی قیادت موجود نہیں۔ حزبِ اختلاف کے بیشتر نمایاں چہرے ملک سے باہر ہیں اور ایرانی معاشرے کے اندر ان کی جڑیں کمزور ہیں۔ نتیجتاً مظاہرے اگرچہ اچانک شدت اختیار کر لیتے ہیں، مگر وہ تسلسل، تنظیم اور واضح سمت سے محروم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریکیں دیرپا سیاسی دباؤ میں تبدیل نہیں ہو پاتیں۔
دوسری طرف، ایرانی ریاست کا سلامتی کا نظام اب بھی مضبوط اور منظم ہے۔ پولیس، پاسدارانِ انقلاب اور انٹیلی جنس ادارے نہ صرف باہم مربوط ہیں بلکہ ریاستی نظام کے ساتھ ان کی وفاداری بھی واضح ہے۔ کسی بھی نظام میں جب حفاظتی اداروں میں دراڑیں پڑنے لگیں تو اقتدار واقعی خطرے میں آتا ہے، مگر ایران کے معاملے میں ایسی کوئی علامت فی الحال نظر نہیں آتی۔
مغربی دنیا میں بعض حلقے ایران کا موازنہ وینزویلا سے کرتے ہیں اور یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ بیرونی دباؤ، پابندیاں یا سفارتی تنہائی حکومت کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر ایران، وینزویلا نہیں ہے۔ یہ ایک بڑا، تاریخی اور جغرافیائی طور پر نہایت اہم ملک ہے جو پورے مغربی ایشیا کے طاقت کے توازن سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی براہِ راست بیرونی مداخلت پورے خطے کو شدید کشیدگی میں دھکیل سکتی ہے، جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں ہوں گے۔
مزید یہ کہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی یا کھلی حمایت کے شبہے نے ایران کے اندر احتجاجی تحریکوں کو کمزور ہی کیا ہے۔ ریاست نے ایسی ہر صورتحال کو “غیر ملکی سازش” کے بیانیے میں بدل کر قوم پرستی کو تقویت دی ہے، جس سے حکومت کے مخالف حلقے دفاعی پوزیشن میں چلے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں چین اور روس جیسے عالمی طاقتیں بھی کسی غیر مستحکم ایران کے حق میں نہیں، اور یہ حقیقت بین الاقوامی سیاست میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ درست ہے کہ ایران کے مظاہروں میں پیش پیش نوجوان نسل ہے، جس کی 1979 کے انقلاب سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں۔ یہ نسل زیادہ آزادی، بہتر معاشی مواقع اور سماجی نرمی کی خواہاں ہے۔ مگر اس کے باوجود، وہ ایک ایسے نظام کا سامنا کر رہی ہے جس کی جڑیں محض اقتدار میں نہیں بلکہ ایک مکمل نظریاتی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔
نتیجتاً، ایران کی موجودہ صورتحال کو محض احتجاجی مناظر یا سوشل میڈیا کے شور کی بنیاد پر نظام کے خاتمے سے جوڑنا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ اگرچہ یہ احتجاج اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ایرانی معاشرہ دباؤ، بے چینی اور تبدیلی کی خواہش سے گزر رہا ہے، مگر اقتدار کی فوری تبدیلی کے امکانات فی الحال کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ایران میں اصل سوال نظام کے اچانک خاتمے کا نہیں بلکہ اس کے اندر بتدریج تبدیلی اور تطبیق کا ہے—اور یہی پہلو آنے والے وقت میں ایران کی سیاست کی اصل سمت متعین کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈت 36 سال بعد واپس آئے

سری نگر کشمیر کے مشترکہ ورثے اور بقائے باہمی کی...

موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے ایک کی موت، دو شدید زخمی 

جموں 16 جون دھنہ دوہیاں ستھارا میں منگل کی صبح...

جب سیاست خدمت نہیں، تجارت بن جائے

غلام غوث آج ہندوستان میں ماحول ایسا بن رہا ہے...

ابراہیمی معاہدہ, سفارتی پیش رفت یا نظریاتی چیلنج

جاوید جمال الدین مشرق وسطیٰ کے متعدد عرب ممالک اور...

ایران میں ہلچل، مگر اقتدار کی بساط جوں کی توں

یوسف شمسی

ایران ایک بار پھر سیاسی ہلچل اور عوامی بے چینی کی زد میں ہے۔ مختلف شہروں سے احتجاجی مناظر، نعرے اور مظاہروں کی تصاویر سامنے آ رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا نے اس فضا کو مزید تیز کر دیا ہے۔ ملک سے باہر، خصوصاً مغربی دنیا میں، یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اسلامی جمہوریہ ایران اپنے وجود کے کسی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے یا نہیں۔ تاہم اگر ایران کی سیاسی تاریخ اور نظام کی ساخت کو سنجیدگی سے دیکھا جائے تو یہ قیاس آرائیاں نئی نہیں بلکہ بار بار دہرائی جانے والی کہانیاں محسوس ہوتی ہیں۔
1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران نے کئی مرتبہ اندرونی بدامنی اور عوامی احتجاج کا سامنا کیا ہے۔ کبھی یہ تحریکیں سیاسی اصلاحات کے مطالبے پر اٹھیں، کبھی معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا، اور کبھی سماجی پابندیاں فوری محرک بنیں۔ 2009 کی سبز تحریک، 2017-18 اور 2019 کے معاشی مظاہرے، اور 2022 کی شدید عوامی بے چینی—ہر مرحلے پر یہ دعوے سامنے آئے کہ ایرانی نظام اپنے آخری دن گن رہا ہے، مگر ہر بار نظام نہ صرف برقرار رہا بلکہ حالات پر قابو پانے میں بھی کامیاب ہوا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران کا اسلامی انقلاب محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ایک ایسے نظام کی تشکیل تھی جس میں نظریہ، مذہبی قیادت (علما) اور ریاستی حفاظتی ڈھانچہ ایک دوسرے کے ساتھ گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ باہمی ربط اس نظام کو محض احتجاجی دباؤ سے ٹوٹنے نہیں دیتا۔ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کے لیے وہ عناصر موجود نہیں جو کسی بھی ریاستی نظام کے خاتمے کا سبب بنتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران میں احتجاجی تحریکوں کے پیچھے کوئی متحد اور قابلِ اعتبار قومی قیادت موجود نہیں۔ حزبِ اختلاف کے بیشتر نمایاں چہرے ملک سے باہر ہیں اور ایرانی معاشرے کے اندر ان کی جڑیں کمزور ہیں۔ نتیجتاً مظاہرے اگرچہ اچانک شدت اختیار کر لیتے ہیں، مگر وہ تسلسل، تنظیم اور واضح سمت سے محروم رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تحریکیں دیرپا سیاسی دباؤ میں تبدیل نہیں ہو پاتیں۔
دوسری طرف، ایرانی ریاست کا سلامتی کا نظام اب بھی مضبوط اور منظم ہے۔ پولیس، پاسدارانِ انقلاب اور انٹیلی جنس ادارے نہ صرف باہم مربوط ہیں بلکہ ریاستی نظام کے ساتھ ان کی وفاداری بھی واضح ہے۔ کسی بھی نظام میں جب حفاظتی اداروں میں دراڑیں پڑنے لگیں تو اقتدار واقعی خطرے میں آتا ہے، مگر ایران کے معاملے میں ایسی کوئی علامت فی الحال نظر نہیں آتی۔
مغربی دنیا میں بعض حلقے ایران کا موازنہ وینزویلا سے کرتے ہیں اور یہ تصور پیش کیا جاتا ہے کہ بیرونی دباؤ، پابندیاں یا سفارتی تنہائی حکومت کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ مگر ایران، وینزویلا نہیں ہے۔ یہ ایک بڑا، تاریخی اور جغرافیائی طور پر نہایت اہم ملک ہے جو پورے مغربی ایشیا کے طاقت کے توازن سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی براہِ راست بیرونی مداخلت پورے خطے کو شدید کشیدگی میں دھکیل سکتی ہے، جس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں ہوں گے۔
مزید یہ کہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ غیر ملکی سرپرستی یا کھلی حمایت کے شبہے نے ایران کے اندر احتجاجی تحریکوں کو کمزور ہی کیا ہے۔ ریاست نے ایسی ہر صورتحال کو “غیر ملکی سازش” کے بیانیے میں بدل کر قوم پرستی کو تقویت دی ہے، جس سے حکومت کے مخالف حلقے دفاعی پوزیشن میں چلے جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں چین اور روس جیسے عالمی طاقتیں بھی کسی غیر مستحکم ایران کے حق میں نہیں، اور یہ حقیقت بین الاقوامی سیاست میں خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ درست ہے کہ ایران کے مظاہروں میں پیش پیش نوجوان نسل ہے، جس کی 1979 کے انقلاب سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں۔ یہ نسل زیادہ آزادی، بہتر معاشی مواقع اور سماجی نرمی کی خواہاں ہے۔ مگر اس کے باوجود، وہ ایک ایسے نظام کا سامنا کر رہی ہے جس کی جڑیں محض اقتدار میں نہیں بلکہ ایک مکمل نظریاتی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں پیوست ہیں۔
نتیجتاً، ایران کی موجودہ صورتحال کو محض احتجاجی مناظر یا سوشل میڈیا کے شور کی بنیاد پر نظام کے خاتمے سے جوڑنا زمینی حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ اگرچہ یہ احتجاج اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ ایرانی معاشرہ دباؤ، بے چینی اور تبدیلی کی خواہش سے گزر رہا ہے، مگر اقتدار کی فوری تبدیلی کے امکانات فی الحال کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ایران میں اصل سوال نظام کے اچانک خاتمے کا نہیں بلکہ اس کے اندر بتدریج تبدیلی اور تطبیق کا ہے—اور یہی پہلو آنے والے وقت میں ایران کی سیاست کی اصل سمت متعین کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں