محمدانصارندوی
زندگی کے تمام رشتوں میں اگر کوئی رشتہ سب سے پاکیزہ، سب سے نرم، اور سب سے مقدس ہے تو وہ ’’ماں‘‘ کا رشتہ ہے۔ دنیا میں محبت کے بے شمار رنگ ہیں، لیکن ماں کی محبت وہ واحد رنگ ہے جو وقت، حالات، غم و خوشی، دولت و غربت، اور فاصلوں سے کبھی ماند نہیں پڑتا۔ ماں کی آنکھوں میں جو دعا چھپی ہوتی ہے، وہ کائنات کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
دنیا میں آنے کے لمحے سے لے کر آخری سانس تک انسان کی زندگی پر سب سے زیادہ اثر ڈالنے والی ہستی ماں ہوتی ہے۔ جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو وہ کچھ نہیں جانتا۔ اس کی دنیا ماں کے لمس سے شروع ہوتی ہے، اور ماں کی آغوش میں مکمل ہوتی ہے۔ ماں کا ہاتھ وہ پہلا سایہ ہے جس کے نیچے بچہ امن محسوس کرتا ہے۔ اس کے ہونٹوں سے نکلنے والی پہلی مسکراہٹ ماں کی گود میں ہی جنم لیتی ہے۔
جب رات کی تاریکی پھیلتی ہے اور نیندیں سب کی آنکھوں میں اتر آتی ہیں، تب ایک ہستی جاگتی ہے — وہ ہے ماں۔ وہ بچے کے ہلکے سے کراہنے پر چونک اٹھتی ہے۔ اس کے وجود کا سکون بچے کے سکون سے بندھا ہوتا ہے۔ خود بھوکی رہ کر اسے کھلاتی ہے، خود پیاسی رہ کر اس کے لب تر کرتی ہے۔ وہ اپنی زندگی کے رنگ بچے کی مسکراہٹ پر قربان کر دیتی ہے۔
وقت گزرتا ہے، بچہ بڑا ہوتا ہے، مگر ماں کی فکر کم نہیں ہوتی۔ اسکول کا پہلا دن ہو یا امتحان کا پہلا پیپر، ماں کی دعائیں ہمیشہ پیش پیش رہتی ہیں۔ بچے کے قدم ڈگمگاتے ہیں، مگر ماں کی محبت اسے سنبھال لیتی ہے۔ وہ اپنے بیٹے کی ہر کامیابی پر نازاں ہوتی ہے، مگر کبھی اس کی تعریف اپنی زبان سے نہیں نکالتی، بس خاموشی سے دعا میں شکریہ ادا کرتی ہے۔
یہی وہ خاموش ہستی ہے جو ساری زندگی اپنی ذات کو مٹا کر اولاد کو روشنی دیتی ہے۔ مگر افسوس، اکثر بچے جب جوان ہو جاتے ہیں، تو دنیا کی رنگینیوں میں گم ہو کر ماں کی قربانیوں کو بھول جاتے ہیں۔ وہ ماں جو ان کے بچپن کا سہارا تھی، بڑھاپے میں تنہا رہ جاتی ہے۔ایسا ہی کچھ ’’احمد‘‘ کے ساتھ ہوا۔
احمد ایک ذہین، محنتی اور خوددار نوجوان تھا۔ اس نے گاؤں سے شہر کا رخ کیا، اعلیٰ تعلیم حاصل کی، نوکری پائی، شہرت ملی، اور آہستہ آہستہ زندگی کے رنگوں میں کھو گیا۔ ماں ہر روز صبح فجر کے بعد اس کے لیے دعا کرتی، اس کی پرانی تصویریں دیکھ کر مسکراتی، اور شام کو دروازے پر نظریں جمائے اس کی راہ دیکھتی۔ مگر احمد کے پاس وقت نہیں تھا۔
ایک دن محلے کی ایک عورت نے پوچھا، “بہن زینت! کب آئے گا تمہارا احمد؟” ماں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، “وہ آئے گا ضرور… بس ذرا وقت ملے تو۔”
یہ جملہ اس کے ہونٹوں پر تھا، مگر دل کے اندر ایک خاموش کرب چھپا ہوا تھا۔ ماں کو بخار رہنے لگا، سانسیں کمزور ہونے لگیں۔ ڈاکٹر نے احمد کو پیغام بھیجا، مگر شہر کے شور میں وہ پیغام کہیں دب گیا۔ادھر گاؤں میں چاندنی رات میں ماں چھت پر بیٹھ کر آسمان کو دیکھتی، ستاروں سے باتیں کرتی اور کہتی:“میرے بیٹے کے ستارے ہمیشہ روشن رہیں۔” کچھ دنوں بعد احمد کو اطلاع ملی — ’’ماں بیمار ہے، حالت نازک ہے۔‘‘ احمد کی دنیا بدل گئی۔ اسے لگا جیسے سب کچھ بیکار ہے۔ اس کے بنک بیلنس، اس کے خواب، اس کی کامیابیاں سب ریت کے ذرے بن کر بکھر گئے۔ وہ تیزی سے گاؤں کی طرف روانہ ہوا۔
گھر پہنچتے ہی اس نے دیکھا، دروازے کے قریب وہی چٹائی بچھی تھی جہاں کبھی ماں بیٹھی تسبیح پڑھا کرتی تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں قرآنِ مجید کھلا تھا، اور دیوار پر احمد کی بچپن کی تصویر لگی تھی۔ احمد کے قدم کانپ گئے۔
کمرے میں ماں لیٹی تھی زرد چہرہ، کمزور جسم، مگر آنکھوں میں روشنی اب بھی تھی۔ “امی!” احمد نے پکارا۔ماں نے کمزور آنکھیں کھولیں، لبوں پر مسکراہٹ آئی، “میرے بیٹے… تو آ گیا!” احمد گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا، آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔“امی، میں آپ کو بہت یاد کرتا رہا، مگر وقت نے موقع نہیں دیا…”
ماں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا، “بیٹا، وقت نے نہیں، تُو نے موقع نہیں دیا۔ مگر میں ناراض نہیں ہوں۔ ماں ناراض ہو بھی کیسے سکتی ہے؟”
احمد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ اس نے کہا، “امی، مجھے معاف کر دیجیے، میں نے آپ کو اکیلا چھوڑ دیا۔” ماں نے دھیرے سے کہا، “بیٹا، جب تُو پیدا ہوا تھا، میں نے خدا سے یہی مانگا تھا کہ تو کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے۔ آج تُو میرے سامنے ہے، یہی کافی ہے۔” یہ کہہ کر ماں نے اپنے لب ہلائے، کوئی دعا پڑھ رہی تھی۔ پھر اس کی سانسیں مدھم ہونے لگیں۔ احمد نے گھبرا کر کہا، “امی! آنکھیں کھولیے، میں واپس آ گیا ہوں۔” ماں نے مدھم لہجے میں کہا، “میں نے خدا سے کہا تھا، مجھے اتنی مہلت دے کہ میں اپنے بیٹے کو ایک بار دیکھ لوں… اس نے میری دعا قبول کر لی۔” احمد ماں کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ باہر مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔ “اللہ اکبر…” ماں کے لبوں پر ہلکی مسکراہٹ ابھری، اور اس کے ساتھ ہی اس کی پلکیں بند ہو گئیں۔ کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ احمد نے ماں کے قدموں کو چوم لیا۔ اس کے آنسو زمین میں جذب ہو گئے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا، جیسے خدا سے بات کر رہا ہو۔
“پروردگار! میں دیر سے آیا، مگر اب کبھی اس احساس سے دور نہیں جاؤں گا۔ ماں میری نہیں رہی، مگر اس کی دعا ابھی بھی میرے ساتھ ہے۔” دن گزرتے گئے۔ احمد شہر واپس نہیں گیا۔ اس نے گاؤں میں ایک اسکول کھولا ’’مدرسہ مکتبِ ماں‘‘۔ اس کے دروازے پر لکھا تھا: “یہ درسگاہ ایک ماں کی یاد میں ہے، جس نے مجھے زندگی کا پہلا سبق سکھایا — انسان بننے کا سبق۔” ہر صبح وہ اسکول کے بچوں کو پڑھاتے ہوئے محسوس کرتا کہ ماں اب بھی اس کے آس پاس ہے، اس کی دعاؤں میں، اس کے لہجے میں، اس کی مسکراہٹ میں۔
ماں چلی گئی تھی، مگر اس کی محبت امر ہو چکی تھی۔
وہ محبت جو لفظوں سے نہیں، احساس سے جیتی ہے۔
وہ دعا جو زمین سے نہیں، آسمان سے جڑتی ہے۔
اور وہ روشنی جو دل سے نکل کر نسلوں کو منور کرتی ہے۔ ماں کی عظمت کا مفہوم یہی ہے کہ انسان کے پاس اگر سب کچھ ہو مگر ماں نہ ہو تو وہ خالی ہے، اور اگر کچھ بھی نہ ہو مگر ماں کا سایہ موجود ہو، تو وہ دنیا کا سب سے امیر انسان ہے۔
زز


