جنگ نیوز+ کے این او
سرینگر/کشمیر کی آبی زمینوں پر اس موسم میں 6 لاکھ سے زائد مہاجر پرندے پہنچ چکے ہیں، جبکہ محکمۂ جنگلی حیات کے مطابق آئندہ ہفتوں میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ محکمے کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ یہ ابتدائی اعداد و شمار ہیں، تفصیلی پرندہ شماری (سینسَس) جلد شروع ہوگی۔ ان کے مطابق پرندوں کی بڑی تعداد ہوکرسر، وُلر، ہائگام، شالہ بگھ اور چھتلم جھیلوں میں دیکھی گئی ہے۔
ہر سال 5 سے 12 لاکھ پرندے سائبیریا، وسطی ایشیا اور شمالی یورپ سے کشمیر کا رخ کرتے ہیں، جو عموماً اکتوبر سے دسمبر کے دوران آتے ہیں اور موسمِ بہار تک قیام کرتے ہیں۔
اس سال وُلر جھیل، جو ریمسار سائٹ کے طور پر تسلیم شدہ ہے، میں اب تک چار لاکھ سے زائد پرندے پہنچ چکے ہیں۔ دیگر جھیلوں میں بھی بتدریج آمد جاری ہے۔محکمۂ جنگلی حیات نے اینٹی پوچنگ اقدامات، 24 گھنٹے نگرانی اور عوامی بیداری مہمات کو مزید مؤثر بنایا ہے، جبکہ ہوکرسر میں آبی نظام کی بحالی پر بھی کام جاری ہے تاکہ پرندوں کے لیے محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
محکمے کے مطابق، مقامی آبادی کی شمولیت سے تحفظی اقدامات کو مزید تقویت ملے گی۔ اسی سلسلے میں وُلر جھیل میں جلد ایک میگا برڈ فیسٹیول منعقد کیا جائے گا تاکہ حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی سیاحت کو فروغ دیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو اس سال کشمیر میں 10 لاکھ تک مہاجر پرندے آنے کا امکان ہے۔


