تحریک آزادی کے گمنام شہید: شیخ بھیکھاری انصاری

عنایت اللہ ننھے

سبھی جانتے ہیں کہ 2 اکتوبر کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کا یومِ پیدائش اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کا بھی یومِ پیدائش ہے۔ تاہم 2 اکتوبر کو ایک عظیم آزادی پسند جنگجو کا یومِ پیدائش بھی ہے جسے فراموش کر دیا گیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو ان بھولے بسرے شہید سے روشناس کرایا جائے، جو جدوجہدِ آزادی کی تاریخ کے اوراق میں درج ہیں، لیکن وہ صفحہ بند ہے اور اسے پلٹ کر سامنے لانا ہوگا تاکہ آج کی نئی نسل اپنے عظیم شہید کے کارناموں سے باخبر ہو اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ آج 2 اکتوبر کو ہم اس لازوال شہید کو ان کے 206ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یاد کریں گے، جنہیں شیخ بھیکھاری انصاری کے نام سے جانا جاتا ہے اور جنہوں نے 1857 کی پہلی جنگِ آزادی میں قیادت کی تھی۔
شیخ بھیکھاری انصاری 2 اکتوبر 1819 کو ہوکٹے گاؤں، بڈھمو بلاک، رانچی ضلع، جھارکھنڈ میں ایک بنکر/انصاری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شیخ بلندو یا بلدو تھا، جن کی بہادری کے قصے آج بھی جھارکھنڈ میں سنائے جاتے ہیں۔ اس وقت انگڑا تھانے کے تحت اورگڑھ نامی ایک ریاست تھی۔ اس کے شہزادے نے ہرنی کے دودھ کی خواہش ظاہر کی۔ شیخ بلندو نے جنگل سے دودھ دینے والی ہرنی کو پکڑا، اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر شہزادے کو پیش کیا۔ ملکہ نے خوش ہو کر انہیں ایک شاہی تلوار، ایک پگڑی اور بارہ گاؤں کی جاگیر عطا کی۔
ان کا بیٹا شیخ بھیکھاری انصاری، جو 20 سال کی عمر میں چھوٹا ناگ پور کے مہاراجہ ناگونشی لال چنتامنی شرن ناتھ شاہ دیو کے دربار میں شامل ہوئے۔ چند دنوں کے اندر ہی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل پر دربار میں اپنی مضبوط گرفت قائم کر لی اور اپنی ایک الگ پہچان بنا لی۔ اس سے متاثر ہو کر بڑکا گڑھ جگناتھ پور کے بادشاہ ٹھاکر وشوناتھ شاہ دیو نے انہیں اپنا دیوان مقرر کیا اور فوج کی کمان بھی سونپ دی۔
اس وقت انگریزوں کا ظلم عروج پر تھا۔ انہوں نے بادشاہوں اور مہاراجوں کو اپنے تابع ہونے پر مجبور کر رکھا تھا۔ جب ملک میں انگریزوں کا ظلم بڑھتا گیا تو اسے روکنے کے لیے تحریکِ خلافت قائم کی گئی۔ شیخ بھیکھاری انصاری نے شاہی خاندان کے ٹکیت عمراؤں سنگھ کے ساتھ اس تحریک کی قیادت کی۔ انہوں نے عوام کو متحد کیا اور انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی۔ انگریز شیخ بھیکھاری انصاری کی بہادری سے اتنے خائف تھے کہ انہوں نے اپنے گزٹ میں انہیں "خطرناک باغی” قرار دیا۔
1857 کی جنگِ آزادی میں شیخ بھیکھاری انصاری نے جھارکھنڈ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے ساتھ سنتھال قبائل کی بھی قیادت کی۔ اس زمانے میں انگریز آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو گرفتار کر کے ناقابلِ برداشت اور غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناتے اور پھانسی پر لٹکا دیتے تھے۔ اس پس منظر میں چٹوپالو پہاڑیوں پر انگریزوں اور شیخ بھیکھاری انصاری کے درمیان ایک زبردست جنگ ہوئی۔
اس لڑائی میں پل توڑ کر انگریزوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ جب گولہ بارود ختم ہوگیا تو انقلابیوں نے پہاڑ کو توڑ کر اوپر سے پتھر پھینکنے شروع کر دیے جس سے انگریز پسپا ہو گئے۔ تاہم چالاک انگریز ایک خفیہ راستے سے ان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ 6 جنوری 1858 کو وہ گرفتار کر لیے گئے۔ انہیں تین دن تک چٹوپالو پہاڑی پر ایک برگد کے درخت سے باندھ کر رکھا گیا اور پھر 8 جنوری 1858 کو شیخ بھیکھاری انصاری اور ٹکیت عمراؤں سنگھ دونوں کو ایک ہی برگد کے درخت پر پھانسی دے دی گئی۔
ان کی لاشیں تین دن تک درخت پر لٹکی رہیں تاکہ عوام میں خوف و دہشت پھیل جائے اور آزادی کا خیال دل سے نکال دیا جائے۔ آج بھی وہ برگد کا درخت شہید استھل کے طور پر موجود ہے۔
یہ قربانی تاریخ کا ایک انمٹ باب ہے۔ شیخ بھیکھاری انصاری اور ٹکیت عمراؤں سنگھ کی شہادت نے تحریکِ آزادی کو نئی جان بخشی۔ اگرچہ آزادی ہمیں 1947 میں ملی، لیکن ان عظیم شہیدوں کی قربانیوں نے ہی قوم میں حوصلہ اور جذبہ جگایا۔
بدقسمتی سے بہار میں آج بھی ان کے نام پر کوئی یادگار، برسی یا یومِ پیدائش منایا نہیں جاتا۔ تاہم جھارکھنڈ کے کچھ علاقوں میں ان کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے رانچی میں ایک اسپتال کا نام ان دونوں شہداء کے نام پر رکھا، لیکن ایسی عظیم شخصیات کو خراجِ تحسین کے لیے یہ کافی نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے نام کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، سڑکوں، پارکوں، کالجوں اور تقریبات کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنے ان ہیروز کو پہچان سکے اور ان سے سیکھ سکے۔ قومی مفاد کو مقدم رکھ کر کام کرنا ہی ان شہداء کو حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تحریک آزادی کے گمنام شہید: شیخ بھیکھاری انصاری

عنایت اللہ ننھے

سبھی جانتے ہیں کہ 2 اکتوبر کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کا یومِ پیدائش اور سابق وزیر اعظم لال بہادر شاستری کا بھی یومِ پیدائش ہے۔ تاہم 2 اکتوبر کو ایک عظیم آزادی پسند جنگجو کا یومِ پیدائش بھی ہے جسے فراموش کر دیا گیا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو ان بھولے بسرے شہید سے روشناس کرایا جائے، جو جدوجہدِ آزادی کی تاریخ کے اوراق میں درج ہیں، لیکن وہ صفحہ بند ہے اور اسے پلٹ کر سامنے لانا ہوگا تاکہ آج کی نئی نسل اپنے عظیم شہید کے کارناموں سے باخبر ہو اور ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے ملک کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈال سکے۔ آج 2 اکتوبر کو ہم اس لازوال شہید کو ان کے 206ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے یاد کریں گے، جنہیں شیخ بھیکھاری انصاری کے نام سے جانا جاتا ہے اور جنہوں نے 1857 کی پہلی جنگِ آزادی میں قیادت کی تھی۔
شیخ بھیکھاری انصاری 2 اکتوبر 1819 کو ہوکٹے گاؤں، بڈھمو بلاک، رانچی ضلع، جھارکھنڈ میں ایک بنکر/انصاری خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام شیخ بلندو یا بلدو تھا، جن کی بہادری کے قصے آج بھی جھارکھنڈ میں سنائے جاتے ہیں۔ اس وقت انگڑا تھانے کے تحت اورگڑھ نامی ایک ریاست تھی۔ اس کے شہزادے نے ہرنی کے دودھ کی خواہش ظاہر کی۔ شیخ بلندو نے جنگل سے دودھ دینے والی ہرنی کو پکڑا، اسے اپنے کندھوں پر اٹھا کر شہزادے کو پیش کیا۔ ملکہ نے خوش ہو کر انہیں ایک شاہی تلوار، ایک پگڑی اور بارہ گاؤں کی جاگیر عطا کی۔
ان کا بیٹا شیخ بھیکھاری انصاری، جو 20 سال کی عمر میں چھوٹا ناگ پور کے مہاراجہ ناگونشی لال چنتامنی شرن ناتھ شاہ دیو کے دربار میں شامل ہوئے۔ چند دنوں کے اندر ہی انہوں نے اپنی صلاحیتوں کے بل پر دربار میں اپنی مضبوط گرفت قائم کر لی اور اپنی ایک الگ پہچان بنا لی۔ اس سے متاثر ہو کر بڑکا گڑھ جگناتھ پور کے بادشاہ ٹھاکر وشوناتھ شاہ دیو نے انہیں اپنا دیوان مقرر کیا اور فوج کی کمان بھی سونپ دی۔
اس وقت انگریزوں کا ظلم عروج پر تھا۔ انہوں نے بادشاہوں اور مہاراجوں کو اپنے تابع ہونے پر مجبور کر رکھا تھا۔ جب ملک میں انگریزوں کا ظلم بڑھتا گیا تو اسے روکنے کے لیے تحریکِ خلافت قائم کی گئی۔ شیخ بھیکھاری انصاری نے شاہی خاندان کے ٹکیت عمراؤں سنگھ کے ساتھ اس تحریک کی قیادت کی۔ انہوں نے عوام کو متحد کیا اور انگریزوں کے خلاف جنگ لڑی۔ انگریز شیخ بھیکھاری انصاری کی بہادری سے اتنے خائف تھے کہ انہوں نے اپنے گزٹ میں انہیں "خطرناک باغی” قرار دیا۔
1857 کی جنگِ آزادی میں شیخ بھیکھاری انصاری نے جھارکھنڈ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے ساتھ سنتھال قبائل کی بھی قیادت کی۔ اس زمانے میں انگریز آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو گرفتار کر کے ناقابلِ برداشت اور غیر انسانی تشدد کا نشانہ بناتے اور پھانسی پر لٹکا دیتے تھے۔ اس پس منظر میں چٹوپالو پہاڑیوں پر انگریزوں اور شیخ بھیکھاری انصاری کے درمیان ایک زبردست جنگ ہوئی۔
اس لڑائی میں پل توڑ کر انگریزوں کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ جب گولہ بارود ختم ہوگیا تو انقلابیوں نے پہاڑ کو توڑ کر اوپر سے پتھر پھینکنے شروع کر دیے جس سے انگریز پسپا ہو گئے۔ تاہم چالاک انگریز ایک خفیہ راستے سے ان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ 6 جنوری 1858 کو وہ گرفتار کر لیے گئے۔ انہیں تین دن تک چٹوپالو پہاڑی پر ایک برگد کے درخت سے باندھ کر رکھا گیا اور پھر 8 جنوری 1858 کو شیخ بھیکھاری انصاری اور ٹکیت عمراؤں سنگھ دونوں کو ایک ہی برگد کے درخت پر پھانسی دے دی گئی۔
ان کی لاشیں تین دن تک درخت پر لٹکی رہیں تاکہ عوام میں خوف و دہشت پھیل جائے اور آزادی کا خیال دل سے نکال دیا جائے۔ آج بھی وہ برگد کا درخت شہید استھل کے طور پر موجود ہے۔
یہ قربانی تاریخ کا ایک انمٹ باب ہے۔ شیخ بھیکھاری انصاری اور ٹکیت عمراؤں سنگھ کی شہادت نے تحریکِ آزادی کو نئی جان بخشی۔ اگرچہ آزادی ہمیں 1947 میں ملی، لیکن ان عظیم شہیدوں کی قربانیوں نے ہی قوم میں حوصلہ اور جذبہ جگایا۔
بدقسمتی سے بہار میں آج بھی ان کے نام پر کوئی یادگار، برسی یا یومِ پیدائش منایا نہیں جاتا۔ تاہم جھارکھنڈ کے کچھ علاقوں میں ان کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ جھارکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے رانچی میں ایک اسپتال کا نام ان دونوں شہداء کے نام پر رکھا، لیکن ایسی عظیم شخصیات کو خراجِ تحسین کے لیے یہ کافی نہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے نام کو اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا جائے، سڑکوں، پارکوں، کالجوں اور تقریبات کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے تاکہ نئی نسل اپنے ان ہیروز کو پہچان سکے اور ان سے سیکھ سکے۔ قومی مفاد کو مقدم رکھ کر کام کرنا ہی ان شہداء کو حقیقی خراجِ عقیدت ہوگا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں