ایک لڑکی تھی
تحریر: سیما شکور (حیدرآباد)
ایک لڑکی تھی
جو ……
پھولوں سے باتیں کرتی تھی
سرخ گلابوں کی پتیاں ……
کتابوں میں رکھتی تھی
کینوس پہ ……
خوبصورت رنگ بکھیر کر ……
اُن میں کہیں کھو جاتی تھی
سوچوں میں گم رہتی تھی
مہکے ، میٹھے سے ……
گیت سنتی تھی
خوابوں کی حسین وادیوں میں ……
کھوئی رہتی تھی
ایک اُمنگ تھی وہ ……
ایک زندگی تھی وہ
دنیا میں امن چاہتی تھی وہ
وہ خوبصورت لفظوں سے ……
قرطاس بھگو دیتی تھی
نہ سنگھار سے واسطہ تھا
نہ سجنے سنورنے سے غرض
پھر یوں ہوا ……
کتابیں بکھر گئیں
قلم ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے
سارے خواب بکھر گئے ! ……
سارے خواب بکھر گئے ! ……
٭٭٭


