بلال بشیر بٹ
سرینگر/ جنگ نیوز/سرینگر کی سڑکیں اب حادثات کی راہداری بن چکی ہیں۔ حالیہ دنوں میں عمرآباد میں ایک معمر جوڑا سڑک پار کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہوا، اس سے ایک دن قبل رعناواری میں ایک اسکولی طالب علم زندگی کی بازی ہار گیا، اور اس سے پہلے مئی اور جون میں صورہ میں ایک طالبہ اور ایک ضعیف خاتون اپنی جانیں کھو بیٹھیں۔ یہ سب الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک ہی المیے کی بار بار دہرانے والی داستان ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہماری سڑکیں پیدل چلنے والوں کے لیے ڈھالی ہی نہیں گئیں۔ زیبرا کراسنگ اور پیدل سگنل ناپید ہیں، فٹ اوور برج خواب ہی رہ گئے، اور بائی پاس جیسی مصروف شاہراہوں پر عام لوگ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سڑک پار کرنے پر مجبور ہیں۔ رہی سہی کسر بڑے یو ٹرن بند کرنے کے فیصلوں نے پوری کردی ہے، جس سے ڈرائیور میلوں کا فاصلہ طے کرنے پر مجبور ہیں اور اکثر خطرناک شارٹ کٹس اختیار کرتے ہیں۔
اعداد و شمار تصویر کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔ صرف 2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں جموں و کشمیر میں 417 اموات اور لگ بھگ 3900 زخمی سڑک حادثات میں درج ہوئے،یعنی اوسطاً ہر دن تین جانیں ضائع ہوئیں۔ پچھلے سال کی کُل ہلاکتیں 893 اور زخمیوں کی تعداد 8400 سے زائد رہی۔ یہ اعداد محض اعداد نہیں بلکہ ان میں بچے، والدین اور بزرگ شامل ہیں جن کی موت روکی جا سکتی تھی۔
سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ حکام کی بے حسی مسلسل جاری ہے۔ سالہا سال سے حادثہ خیز مقامات جیسے بمنہ بائی پاس اور صورہ کی نشاندہی کی جاتی ہے لیکن زیبرا کراسنگ نہیں بنتی، فٹ اوور برج قائم نہیں ہوتے، اور ٹریفک سگنل غیر فعال ہی رہتے ہیں۔
یو ٹرن بند کرنے کا جواز ’’ٹریفک مینجمنٹ‘‘ بتایا جاتا ہے، لیکن اس کے نتائج الٹے ثابت ہوئے ہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت سمجھے کہ سڑکوں کی حفاظت کوئی تجریدی ہدف نہیں بلکہ انسانی جانوں کا سوال ہے۔ زیبرا کراسنگ بنانا معمولی خرچ کا کام ہے، مگر اس کے نہ ہونے سے قیمتی زندگیاں ضائع ہو رہی ہیں۔ یو ٹرن کھولنا، رفتار قابو کرنے کے اقدامات اور پیدل ڈھانچہ قائم کرنا آسائش نہیں بلکہ فوری ضرورت ہے۔
سرینگر کی ہر نئی موت محض ایک حادثہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی غفلت کا ثبوت ہے۔ اگر یہ بے اعتنائی جاری رہی تو شہر اپنے بچوں اور بزرگوں کو یوں ہی دفناتا رہے گا۔ فیصلہ حکومت کے ہاتھ میں ہے: یا اب قدم اٹھائے، یا پھر سرینگر کی سڑکوں کو موت کے جال کے طور پر قبول کر لے۔


