نئی قومی تعلیمی پالیسی اور اساتذہ کی ذمہ داری

عاشق حسین ڈار

استاد کے پیشے کو پیغمبرانہ پیشہ کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ایک عظیم اور حساس پیشہ ہے۔ تعلیم ایک ایسا نور ہے جو انسان کو کبھی بھی تنہا اور بے سہارا نہیں چھوڑتا ہے۔غرض ہم آنے والے زمانے میں غزا کے بغیر زندہ تو رہ سکتے ہیں لیکن تعلیم کے بغیر ایک پل بھی نہیں۔
چونکہ استاد ایک معلم ہی نہیں بلکہ ایک کردار ساز بھی ہے جو بچے کو زندگی کے اصولوں کی پٹری سے گرنے نہیں دیتا ۔ طالب علم اور استاد کا رشتہ ماں باپ کے رشتے سے بھی زیادہ مضبوط اور محکم ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ والدین بچے کی جسمانی تربیت کرتے ہیں جبکہ استاد اپنی علمی اور عملی تجربات کی بنیاد پر بچے کا روحانی پاسدار ہوتا ہے۔ استاد کا رتبہ یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جس کسی نے بھی مجھے ایک لفظ سکھایا اس کو حق ہے کہ وہ مجھے غلام بنائے یا آزاد کردے۔
نئ قومی تعلیمی پالیسی ٢٠٢٠ ایک استاد کو PARADIGM SHIFT کو اپنانےکے لئے تیار کر ر ہی ہے۔ کیونکہ اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ موجودہ دور کے challanges کو دیکھ کر صرف پڑھنا لکھنا کافی نہیں ہوگا بلکہ ان challanges کو ایک بچہ آنے والے زمانےمیں کس طریقے سے قابو کر پائے یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔قومی تعلیمی پالسی ٢٠٢٠ میں بھی اس بات پہ کافی زور ہے کہ ایک طالب علم کو کس طریقے سے ہنر مند(Skilled) بنایا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کتنے وسائل موجود ہیں جن کی مدد سے یہ یقینی بنایا جائے کہ ہمارے اسکولوں میں ہنر مندی کا بول بالا ہو۔ استاد کو یہ سرگرمیاں انجام دینے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ اچھا خاصا اسکولی بنیادی ڈھانچہ۔انسانی وسائل سے لیکر اسکولی عمارتوں تک جس کا سرکاری اسکولوں میں اچھا خاصا فقدان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان دشواریوں کے باوجود بھی سرکاری اسکولوں میں کام کر رہے ہ اساتذہ جس لگن اور تن دہی سے کام کر رہے ہیں اس کے لئے اساتذہ صاحبان واقعی تعریفوں کے مستحق ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی ٢٠٢٠ اس چیز پہ بھی زور دے رہی ہے کہ استاد کے طریقے کار میں تبدیلی لانے کی اہم ضرورت ہے کیونکہ جب ہمارے اساتذہ ہنر مند ہونگے تبھی ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ کل ہمارے بچے ہنر مندی کے میدان کو عبور کرپائیں گے۔یہ پالسی ہم سے یہ توقع رکھتی ہے کہ ہم بچوں کی مجموعی ترقی (Holistic Development)کو یقینی بنائے۔
نئ قومی تعلیمی پالسی ہم سے یہ توقع رکھتی ہے کہ ہم طلبہ و طالبات کو تنقیدی سوچ، سائنسی مزاج،ہنر مندی کا فن اور بہترین پیشہ ور بنانے میں اپنا اہم رول ادا کریں۔ کھیل کھیل میں تعلیم کی سرگرمیوں کو انجام دینا ایک تجربہ کار استاد کی خوبی ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے دی جارہی تربیتی پروگرام برائے اساتذہ قابل ستائش قدم ہے جس سے ایک استاد تعلیم کے نئے نئے طریقہ کار سے باخبر رہتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی سطح پر ان تربیتی کورسس کو کس حد تک عملایا جارہا ہے یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔
ایک بہترین ہنر مند استاد کی یہ خوبی اور ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کو پڑھنے لکھنے کے میدان میں آگے لے جاتا ہے بلکہ سماجی ذمہ داریوں کے فن سے بھی آراستہ کرتا ہے۔ غرض موجودہ دور میں استاد کے لئے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نہ صرف ایک بچے کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرے بلکہ آنے والے کل کے لئے اُس کو اِس طریقے سے تیار کرے کہ وہ آنے والے دور میں اپنے پیروں پر کھڑا ہو پائے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

نئی قومی تعلیمی پالیسی اور اساتذہ کی ذمہ داری

عاشق حسین ڈار

استاد کے پیشے کو پیغمبرانہ پیشہ کہا گیا ہے۔ کیونکہ یہ ایک عظیم اور حساس پیشہ ہے۔ تعلیم ایک ایسا نور ہے جو انسان کو کبھی بھی تنہا اور بے سہارا نہیں چھوڑتا ہے۔غرض ہم آنے والے زمانے میں غزا کے بغیر زندہ تو رہ سکتے ہیں لیکن تعلیم کے بغیر ایک پل بھی نہیں۔
چونکہ استاد ایک معلم ہی نہیں بلکہ ایک کردار ساز بھی ہے جو بچے کو زندگی کے اصولوں کی پٹری سے گرنے نہیں دیتا ۔ طالب علم اور استاد کا رشتہ ماں باپ کے رشتے سے بھی زیادہ مضبوط اور محکم ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ والدین بچے کی جسمانی تربیت کرتے ہیں جبکہ استاد اپنی علمی اور عملی تجربات کی بنیاد پر بچے کا روحانی پاسدار ہوتا ہے۔ استاد کا رتبہ یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جس کسی نے بھی مجھے ایک لفظ سکھایا اس کو حق ہے کہ وہ مجھے غلام بنائے یا آزاد کردے۔
نئ قومی تعلیمی پالیسی ٢٠٢٠ ایک استاد کو PARADIGM SHIFT کو اپنانےکے لئے تیار کر ر ہی ہے۔ کیونکہ اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ موجودہ دور کے challanges کو دیکھ کر صرف پڑھنا لکھنا کافی نہیں ہوگا بلکہ ان challanges کو ایک بچہ آنے والے زمانےمیں کس طریقے سے قابو کر پائے یہ ایک بہت بڑا سوال ہے۔قومی تعلیمی پالسی ٢٠٢٠ میں بھی اس بات پہ کافی زور ہے کہ ایک طالب علم کو کس طریقے سے ہنر مند(Skilled) بنایا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کتنے وسائل موجود ہیں جن کی مدد سے یہ یقینی بنایا جائے کہ ہمارے اسکولوں میں ہنر مندی کا بول بالا ہو۔ استاد کو یہ سرگرمیاں انجام دینے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے کہ اچھا خاصا اسکولی بنیادی ڈھانچہ۔انسانی وسائل سے لیکر اسکولی عمارتوں تک جس کا سرکاری اسکولوں میں اچھا خاصا فقدان دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ان دشواریوں کے باوجود بھی سرکاری اسکولوں میں کام کر رہے ہ اساتذہ جس لگن اور تن دہی سے کام کر رہے ہیں اس کے لئے اساتذہ صاحبان واقعی تعریفوں کے مستحق ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی ٢٠٢٠ اس چیز پہ بھی زور دے رہی ہے کہ استاد کے طریقے کار میں تبدیلی لانے کی اہم ضرورت ہے کیونکہ جب ہمارے اساتذہ ہنر مند ہونگے تبھی ہم یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ کل ہمارے بچے ہنر مندی کے میدان کو عبور کرپائیں گے۔یہ پالسی ہم سے یہ توقع رکھتی ہے کہ ہم بچوں کی مجموعی ترقی (Holistic Development)کو یقینی بنائے۔
نئ قومی تعلیمی پالسی ہم سے یہ توقع رکھتی ہے کہ ہم طلبہ و طالبات کو تنقیدی سوچ، سائنسی مزاج،ہنر مندی کا فن اور بہترین پیشہ ور بنانے میں اپنا اہم رول ادا کریں۔ کھیل کھیل میں تعلیم کی سرگرمیوں کو انجام دینا ایک تجربہ کار استاد کی خوبی ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے دی جارہی تربیتی پروگرام برائے اساتذہ قابل ستائش قدم ہے جس سے ایک استاد تعلیم کے نئے نئے طریقہ کار سے باخبر رہتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی سطح پر ان تربیتی کورسس کو کس حد تک عملایا جارہا ہے یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔
ایک بہترین ہنر مند استاد کی یہ خوبی اور ذمہ داری ہے کہ وہ نہ صرف بچوں کو پڑھنے لکھنے کے میدان میں آگے لے جاتا ہے بلکہ سماجی ذمہ داریوں کے فن سے بھی آراستہ کرتا ہے۔ غرض موجودہ دور میں استاد کے لئے سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ نہ صرف ایک بچے کو تعلیم کے نور سے آراستہ کرے بلکہ آنے والے کل کے لئے اُس کو اِس طریقے سے تیار کرے کہ وہ آنے والے دور میں اپنے پیروں پر کھڑا ہو پائے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں