غزہ پر فوجی کنٹرول، گریٹر اسرائیل کا دوسرا پڑاؤ

رشید پروین
سوپورکشمیر

گریٹر اسرائیل کے سفر میں اسرائیل کا دوسرا پڑاؤ آچکا ہے، اور اپنی منصوبہ بندی کے مطابق اسرائیل کی سیاسی کابینہ اور سیکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ اعلان بہت سارے ممالک کے لیے غیر متوقع بھی ہوسکتا ہے لیکن مشرقِ وسطیٰ اور خصوصاً اسرائیل پر نظر رکھنے والوں کے لیے اس اعلان میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں، کیونکہ وہ سمجھتے اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ گریٹر اسرائیل کی راہ میں اسرائیلی کسی بھی دیوار اور رکاوٹ کو کسی بھی قیمت پر پھلانگنے سے گریز نہیں کریں گے۔ اگر ان کا ساتھ کوئی بھی نہ دے تب بھی وہ اپنی اس ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئیں گے، اور یہاں تو ان کے ساتھ دنیا کی بڑی طاقت، امریکہ، کے ساتھ ساتھ پردوں کے پیچھے برطانیہ (جس نے اسرائیلی عفریت کو جنم دیا تھا) اور یورپی یونین بھی ہے۔ افسوس ان پر نہیں، کیونکہ یہ الحاد پرست ممالک اور طاقتیں مسلم دنیا اور مسلمانوں سے بیر اور بغض رکھتی ہیں، لیکن افسوس تو ان نام نہاد مسلم ممالک پر ہے جو اپنے آپ کو خادمین حرمین اور اسلام کے علمبردار سمجھتے ہیں لیکن اصل میں غیر مسلموں سے بھی زیادہ اسلام اور مسلم ممالک کے حق میں سمِ قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔
اسرائیل کے حق میں یہ بات لکھ دی گئی ہے کہ انہیں تیسری بار کی سزا میں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا، یہ ان کی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔ بہرحال رائٹرز کے مطابق یہ اعلان نتن یاہو کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل پورے علاقے پر فوجی کنٹرول قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن حماس نے پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ اسرائیل کا منصوبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی، قتلِ عام اور فلسطینیوں کی بے دخلی جاری رکھنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، اور اس سلسلے میں پریس کے مطابق فلسطینی گھروں کی مسماری زور و شور سے جاری ہے۔
اسرائیل کے اس فیصلے کی اقوامِ متحدہ، برطانیہ، ترکی، مصر، آسٹریلیا، چین، اسرائیلی حزبِ اختلاف کے علاوہ اسرائیلی فوجی سربراہ نے بھی مذمت کی ہے، یا یوں کہیے کہ مذمت کا ڈرامہ رچایا ہے۔ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے اور عرب امارات بھی، جو امریکی صدر کو اپنے دوروں کے دوران اربوں کھربوں ڈالر سرمایہ کاری کے نام پر تحفے میں دیتے ہیں تاکہ ان ڈالروں سے امریکی فیکٹریوں میں غزہ پر برسانے والا بم و بارود تیار ہوتا رہے۔
او آئی سی نے اپنا اجلاس بلایا ہے، لیکن یہ او آئی سی آخر ہے کیا؟ یہ چند تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جماعت ہے جو اپنے اپنے چھوٹے سے ممالک میں بادشاہ بنے بیٹھے ہیں اور بادشاہت کو قائم رکھنے کے لیے امریکہ کے دست نگر ہیں، اس لیے امریکہ کو کروڑوں اور اربوں ڈالر تاوان کے طور پر دینے پر مجبور ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی اپنا اجلاس بلایا ہے، لیکن کاغذ سیاہ کرنے کے سوا یہ ممالک کچھ نہیں کر سکتے، کیونکہ اقوامِ متحدہ کبھی بین الاقوامی ادارہ تھا ہی نہیں۔ یہ بس بقول اقبال ’’کفن چوروں کی ایک جماعت ہے‘‘ جو اپنے اپنے مفادات کی نگہبانی کے لیے بنائی گئی تھی (یا داشتۂ پیرِ کافرنگ ہے)۔ ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ اس ادارے نے کبھی کسی ملک کے حق میں انصاف پر مبنی فیصلہ نہیں دیا، نہ کمزور اور ناتواں کی نگہبانی کی، نہ اس کے مفادات کی حفاظت کی، بلکہ محض پانچ ویٹو پاورز والے بڑے ممالک کی داشتہ بن کر اب تک قائم ہے۔
اپنی تشکیل سے لے کر اب تک یہ بڑے ممالک، خصوصاً امریکہ اور دوسرے ویٹو پاورز، اس بین الاقوامی ادارے کی عصمت دری کرتے رہے ہیں۔ واضح مثالیں، سینکڑوں المناک حادثات اور اندوہناک جنگیں ہیں جنہیں روکا جا سکتا تھا، لیکن کمزور، ناتواں اور پابہ زنجیر یہ داشتۂ افرنگ کسی کام کی نہیں۔ او آئی سی امریکی آقاؤں کا ایک غلام ٹولہ ہے جو امریکی مرضی کے بغیر سانس بھی نہیں لیتا۔ ان کی مذمت اور بیان بازی ستر برس سے جاری ہے۔
ترکی، جو مسلم دنیا کی لیڈری کے خواب دیکھ رہا تھا، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتا ہے۔ ان میں مصر بھی شامل ہے، جس نے جمہوری طور پر منتخب حکومت (اخوان المسلمون) سے چھین کر محمد مرسی کو موت کے گھاٹ اتارا۔ حالیہ دنوں السیسی نے اسرائیل کے ساتھ اب تک کا سب سے بڑا تیل اور گیس درآمد کا معاہدہ کیا ہے، جو 35 بلین ڈالر کا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ السیسی یا مصری حکومت یہ جانتی ہے کہ یہ تیل اور گیس کے ذخائر 1948 سے پہلے فلسطین کی ملکیت تھے، جن پر اسرائیل قابض ہو چکا ہے، یعنی یہ ذخائر بھی چوری کے ہیں۔ ناقدین کہہ رہے ہیں کہ یہ ذخائر فلسطین کے ہیں، اسی لیے اس معاہدے کو ’’آن لائن شرمناک معاہدہ‘‘ بھی کہا جا رہا ہے۔
اب کس ملک کے دوغلے پن کی بات کی جائے؟ کون سا اسلامی ملک فلسطین کے خلاف اسرائیل کا ساتھ نہیں دے رہا؟ یہ سارے نام نہاد اسلامی ممالک مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، کاغذ سیاہ کر رہے ہیں، لیکن اندر سے اس بات پر تالیاں بجا رہے ہیں۔ اسرائیل کے اندر بھی بہت سارے شہروں میں اس اعلان اور منصوبے کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے، اور یہ وہ یہودی ہیں جو فلسطین میں پہلے سے رہائش پذیر ہیں، جنہوں نے صدیاں مسلمانوں کے ساتھ اور ان کی نگہبانی میں گزاری ہیں۔
اصل میں گریٹر اسرائیل کا خواب صیہونیوں کا ہے، جو دنیا کے باقی ممالک سے یہاں آ کر آباد ہو چکے ہیں۔ یہی لوگ یاجوج ماجوج ہیں جنہیں کسی بھی دین سے کوئی تعلق نہیں، بس پیٹرول کے ذخائر اور عرب زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ غزہ پٹی کے مسلمان، جنہوں نے اسرائیل اور امریکہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے متحدہ ملحد پرستوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، عملی طور پر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔ یہ اپنی قربانیوں سے ایک تاریخ مرتب کر رہے ہیں۔
بہرحال بظاہر حالات فلسطینیوں کے حق میں نہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اس پٹی پر جلد قبضہ جما لے گا۔ یروشلم آج اسرائیلی قوت اور طاقت کا ہر لحاظ سے مرکز بنا ہوا ہے، اور گہرائی سے سوچا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی مرضی اور منشا کا ورلڈ آرڈر تخلیق کر چکے ہیں اور اس پر کامیابی سے سبک رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ 1948 میں صیہونی سازشوں کے نتیجے میں اسرائیل کو وجود بخشا گیا، اور وجود میں آنے سے پہلے بھی اسرائیلی ریاست کا جو خواب اور جو سبق صیہونیوں کو دیا جاتا رہا ہے وہ گریٹر اسرائیل کا قیام ہے، جس کی طرف اب صیہونیوں کا سفر بظاہر آسان لگتا ہے کیونکہ آس پاس کوئی مزاحمتی بڑی طاقت باقی نہیں رہی جو اسرائیل اور امریکہ کا راستہ روک سکے۔
ٹرمپ کی صورت میں اسرائیل کو ایک غمگسار اور رفیق ملا ہے جو کسی پردے کا قائل نہیں۔ فی الحال اس اندھی طاقت کے سامنے دنیا کی کوئی اور طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ پھر یہ کہ یروشلم کی تقدیر، جو احادیث کی روشنی میں ابھر کر سامنے آتی ہے، اس سے بھی مطابقت رکھتی ہے کیونکہ ہر حال میں اسی جگہ اور مخصوص خطے میں حق و باطل کی آخری جنگ ہونی ہے، جس میں سو میں سے ننانوے قتل ہوں گے۔ موجودہ حالات اور تیز رفتاری سے بدلتے واقعات بالکل اس منزل کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں اور یہ نوشتۂ دیوار بھی ہیں۔
یہودیوں نے توریت کی ان آیات کو دستاویز بنایا ہوا ہے جن میں ارضِ مقدس ان کو عطا کیے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا اور یہاں سب سے پہلے حضرت داؤدؑ نے سلطنت قائم کی تھی۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اہلِ یہود زیادہ انتظار نہیں کر سکتے، اس لیے فوراً اقدامات کرکے ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر میں مزید تاخیر کے روا دار نہیں، تاکہ حضرت عیسیٰؑ کی آمد کے لیے اسٹیج تیار کیا جا سکے، کیونکہ اس دور کے حالات اور طاقت کا توازن ان کی طرف ہے۔ جب ان کے رکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو وہ کیوں رکیں؟
اہلِ یہود کو قرآنِ کریم کی رو سے اب تک دو بار دینِ ابراہیمی سے انحراف کی صورت میں سزا کے طور پر یروشلم سے نکالا جا چکا ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل (آیات 4 تا 17) میں اس کی پوری تفصیل دی گئی ہے، اور اب تیسری اور آخری بار ان کی تقدیر اور فیصلہ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہے: "لیکن اگر تم نے اپنی شرائط و وراثت پامال کیں اور اپنی حرکت دہرائی تو ہم اپنی سزا کو دہرائیں گے” (بنی اسرائیل 8)۔
یروشلم کی تقدیر اس آیہ کریمہ میں صاف بیان ہو چکی ہے، اور آج کی جو استحصالی، ظالم و جابر اسرائیلی حکومت وہاں قائم ہے وہ کسی طور اللہ کے احکامات کی پابند نہیں اور نہ دینِ ابراہیمی پر قائم ہے، بلکہ ایک ایسی ریاست ہے جس کا وجود ہی سودی معاشیات، ظلم و جبر اور معصوموں کے خون سے رنگا ہوا ہے۔ آج کا یروشلم ابراہیمی دین پر استوار معاشرے سے میل نہیں کھاتا، اور ہمارے مسلم معاشرے بھی اس دین کی بنیادوں پر استوار نہیں، سوائے اس کے کہ یورپ اس پردے میں پیٹرول پر قابض ہونا چاہتا ہے۔
بنی اسرائیل اپنی انا اور خودپسندی کے خول میں پہلے بھی ہزاروں برس مقید رہے ہیں اور اب آخری دن تک اسی بھرم میں مبتلا رہیں گے کہ وہ اللہ کی برگزیدہ اور معتبر قوم ہیں، چاہے ان کے اعمال اور طرزِ معاشرت دینِ ابراہیمی کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔ ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے قلوب اور دماغ پر مہر ثبت کر دی ہے، اور ان کی دیکھا دیکھی مسلم ممالک کی بصیرت اور بصارت بھی مقفل ہو چکی ہے، تاکہ وہ بھی اس معتوب اور خودسر قوم کے ساتھ ہی اپنے انجام کو پہنچیں، جو احادیث میں ان کے لیے پہلے ہی سے واضح ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

غزہ پر فوجی کنٹرول، گریٹر اسرائیل کا دوسرا پڑاؤ

رشید پروین
سوپورکشمیر

گریٹر اسرائیل کے سفر میں اسرائیل کا دوسرا پڑاؤ آچکا ہے، اور اپنی منصوبہ بندی کے مطابق اسرائیل کی سیاسی کابینہ اور سیکیورٹی کابینہ نے غزہ شہر پر کنٹرول حاصل کرنے کی منظوری دی ہے۔ یہ اعلان بہت سارے ممالک کے لیے غیر متوقع بھی ہوسکتا ہے لیکن مشرقِ وسطیٰ اور خصوصاً اسرائیل پر نظر رکھنے والوں کے لیے اس اعلان میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں، کیونکہ وہ سمجھتے اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ گریٹر اسرائیل کی راہ میں اسرائیلی کسی بھی دیوار اور رکاوٹ کو کسی بھی قیمت پر پھلانگنے سے گریز نہیں کریں گے۔ اگر ان کا ساتھ کوئی بھی نہ دے تب بھی وہ اپنی اس ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئیں گے، اور یہاں تو ان کے ساتھ دنیا کی بڑی طاقت، امریکہ، کے ساتھ ساتھ پردوں کے پیچھے برطانیہ (جس نے اسرائیلی عفریت کو جنم دیا تھا) اور یورپی یونین بھی ہے۔ افسوس ان پر نہیں، کیونکہ یہ الحاد پرست ممالک اور طاقتیں مسلم دنیا اور مسلمانوں سے بیر اور بغض رکھتی ہیں، لیکن افسوس تو ان نام نہاد مسلم ممالک پر ہے جو اپنے آپ کو خادمین حرمین اور اسلام کے علمبردار سمجھتے ہیں لیکن اصل میں غیر مسلموں سے بھی زیادہ اسلام اور مسلم ممالک کے حق میں سمِ قاتل ثابت ہو رہے ہیں۔
اسرائیل کے حق میں یہ بات لکھ دی گئی ہے کہ انہیں تیسری بار کی سزا میں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جائے گا، یہ ان کی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے۔ بہرحال رائٹرز کے مطابق یہ اعلان نتن یاہو کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیل پورے علاقے پر فوجی کنٹرول قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ لیکن حماس نے پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے دیا تھا کہ اسرائیل کا منصوبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی، قتلِ عام اور فلسطینیوں کی بے دخلی جاری رکھنے کا منصوبہ بنا چکا ہے، اور اس سلسلے میں پریس کے مطابق فلسطینی گھروں کی مسماری زور و شور سے جاری ہے۔
اسرائیل کے اس فیصلے کی اقوامِ متحدہ، برطانیہ، ترکی، مصر، آسٹریلیا، چین، اسرائیلی حزبِ اختلاف کے علاوہ اسرائیلی فوجی سربراہ نے بھی مذمت کی ہے، یا یوں کہیے کہ مذمت کا ڈرامہ رچایا ہے۔ ان ممالک میں سعودی عرب بھی شامل ہے اور عرب امارات بھی، جو امریکی صدر کو اپنے دوروں کے دوران اربوں کھربوں ڈالر سرمایہ کاری کے نام پر تحفے میں دیتے ہیں تاکہ ان ڈالروں سے امریکی فیکٹریوں میں غزہ پر برسانے والا بم و بارود تیار ہوتا رہے۔
او آئی سی نے اپنا اجلاس بلایا ہے، لیکن یہ او آئی سی آخر ہے کیا؟ یہ چند تیل پیدا کرنے والے ممالک کی جماعت ہے جو اپنے اپنے چھوٹے سے ممالک میں بادشاہ بنے بیٹھے ہیں اور بادشاہت کو قائم رکھنے کے لیے امریکہ کے دست نگر ہیں، اس لیے امریکہ کو کروڑوں اور اربوں ڈالر تاوان کے طور پر دینے پر مجبور ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بھی اپنا اجلاس بلایا ہے، لیکن کاغذ سیاہ کرنے کے سوا یہ ممالک کچھ نہیں کر سکتے، کیونکہ اقوامِ متحدہ کبھی بین الاقوامی ادارہ تھا ہی نہیں۔ یہ بس بقول اقبال ’’کفن چوروں کی ایک جماعت ہے‘‘ جو اپنے اپنے مفادات کی نگہبانی کے لیے بنائی گئی تھی (یا داشتۂ پیرِ کافرنگ ہے)۔ ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ اس ادارے نے کبھی کسی ملک کے حق میں انصاف پر مبنی فیصلہ نہیں دیا، نہ کمزور اور ناتواں کی نگہبانی کی، نہ اس کے مفادات کی حفاظت کی، بلکہ محض پانچ ویٹو پاورز والے بڑے ممالک کی داشتہ بن کر اب تک قائم ہے۔
اپنی تشکیل سے لے کر اب تک یہ بڑے ممالک، خصوصاً امریکہ اور دوسرے ویٹو پاورز، اس بین الاقوامی ادارے کی عصمت دری کرتے رہے ہیں۔ واضح مثالیں، سینکڑوں المناک حادثات اور اندوہناک جنگیں ہیں جنہیں روکا جا سکتا تھا، لیکن کمزور، ناتواں اور پابہ زنجیر یہ داشتۂ افرنگ کسی کام کی نہیں۔ او آئی سی امریکی آقاؤں کا ایک غلام ٹولہ ہے جو امریکی مرضی کے بغیر سانس بھی نہیں لیتا۔ ان کی مذمت اور بیان بازی ستر برس سے جاری ہے۔
ترکی، جو مسلم دنیا کی لیڈری کے خواب دیکھ رہا تھا، اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھتا ہے۔ ان میں مصر بھی شامل ہے، جس نے جمہوری طور پر منتخب حکومت (اخوان المسلمون) سے چھین کر محمد مرسی کو موت کے گھاٹ اتارا۔ حالیہ دنوں السیسی نے اسرائیل کے ساتھ اب تک کا سب سے بڑا تیل اور گیس درآمد کا معاہدہ کیا ہے، جو 35 بلین ڈالر کا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ السیسی یا مصری حکومت یہ جانتی ہے کہ یہ تیل اور گیس کے ذخائر 1948 سے پہلے فلسطین کی ملکیت تھے، جن پر اسرائیل قابض ہو چکا ہے، یعنی یہ ذخائر بھی چوری کے ہیں۔ ناقدین کہہ رہے ہیں کہ یہ ذخائر فلسطین کے ہیں، اسی لیے اس معاہدے کو ’’آن لائن شرمناک معاہدہ‘‘ بھی کہا جا رہا ہے۔
اب کس ملک کے دوغلے پن کی بات کی جائے؟ کون سا اسلامی ملک فلسطین کے خلاف اسرائیل کا ساتھ نہیں دے رہا؟ یہ سارے نام نہاد اسلامی ممالک مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں، کاغذ سیاہ کر رہے ہیں، لیکن اندر سے اس بات پر تالیاں بجا رہے ہیں۔ اسرائیل کے اندر بھی بہت سارے شہروں میں اس اعلان اور منصوبے کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے، اور یہ وہ یہودی ہیں جو فلسطین میں پہلے سے رہائش پذیر ہیں، جنہوں نے صدیاں مسلمانوں کے ساتھ اور ان کی نگہبانی میں گزاری ہیں۔
اصل میں گریٹر اسرائیل کا خواب صیہونیوں کا ہے، جو دنیا کے باقی ممالک سے یہاں آ کر آباد ہو چکے ہیں۔ یہی لوگ یاجوج ماجوج ہیں جنہیں کسی بھی دین سے کوئی تعلق نہیں، بس پیٹرول کے ذخائر اور عرب زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ غزہ پٹی کے مسلمان، جنہوں نے اسرائیل اور امریکہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے متحدہ ملحد پرستوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، عملی طور پر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی۔ یہ اپنی قربانیوں سے ایک تاریخ مرتب کر رہے ہیں۔
بہرحال بظاہر حالات فلسطینیوں کے حق میں نہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اس پٹی پر جلد قبضہ جما لے گا۔ یروشلم آج اسرائیلی قوت اور طاقت کا ہر لحاظ سے مرکز بنا ہوا ہے، اور گہرائی سے سوچا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی مرضی اور منشا کا ورلڈ آرڈر تخلیق کر چکے ہیں اور اس پر کامیابی سے سبک رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ 1948 میں صیہونی سازشوں کے نتیجے میں اسرائیل کو وجود بخشا گیا، اور وجود میں آنے سے پہلے بھی اسرائیلی ریاست کا جو خواب اور جو سبق صیہونیوں کو دیا جاتا رہا ہے وہ گریٹر اسرائیل کا قیام ہے، جس کی طرف اب صیہونیوں کا سفر بظاہر آسان لگتا ہے کیونکہ آس پاس کوئی مزاحمتی بڑی طاقت باقی نہیں رہی جو اسرائیل اور امریکہ کا راستہ روک سکے۔
ٹرمپ کی صورت میں اسرائیل کو ایک غمگسار اور رفیق ملا ہے جو کسی پردے کا قائل نہیں۔ فی الحال اس اندھی طاقت کے سامنے دنیا کی کوئی اور طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ پھر یہ کہ یروشلم کی تقدیر، جو احادیث کی روشنی میں ابھر کر سامنے آتی ہے، اس سے بھی مطابقت رکھتی ہے کیونکہ ہر حال میں اسی جگہ اور مخصوص خطے میں حق و باطل کی آخری جنگ ہونی ہے، جس میں سو میں سے ننانوے قتل ہوں گے۔ موجودہ حالات اور تیز رفتاری سے بدلتے واقعات بالکل اس منزل کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں اور یہ نوشتۂ دیوار بھی ہیں۔
یہودیوں نے توریت کی ان آیات کو دستاویز بنایا ہوا ہے جن میں ارضِ مقدس ان کو عطا کیے جانے کا وعدہ کیا گیا تھا اور یہاں سب سے پہلے حضرت داؤدؑ نے سلطنت قائم کی تھی۔ حالات بتا رہے ہیں کہ اہلِ یہود زیادہ انتظار نہیں کر سکتے، اس لیے فوراً اقدامات کرکے ہیکلِ سلیمانی کی تعمیر میں مزید تاخیر کے روا دار نہیں، تاکہ حضرت عیسیٰؑ کی آمد کے لیے اسٹیج تیار کیا جا سکے، کیونکہ اس دور کے حالات اور طاقت کا توازن ان کی طرف ہے۔ جب ان کے رکنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، تو وہ کیوں رکیں؟
اہلِ یہود کو قرآنِ کریم کی رو سے اب تک دو بار دینِ ابراہیمی سے انحراف کی صورت میں سزا کے طور پر یروشلم سے نکالا جا چکا ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل (آیات 4 تا 17) میں اس کی پوری تفصیل دی گئی ہے، اور اب تیسری اور آخری بار ان کی تقدیر اور فیصلہ اس آیت کریمہ سے ظاہر ہے: "لیکن اگر تم نے اپنی شرائط و وراثت پامال کیں اور اپنی حرکت دہرائی تو ہم اپنی سزا کو دہرائیں گے” (بنی اسرائیل 8)۔
یروشلم کی تقدیر اس آیہ کریمہ میں صاف بیان ہو چکی ہے، اور آج کی جو استحصالی، ظالم و جابر اسرائیلی حکومت وہاں قائم ہے وہ کسی طور اللہ کے احکامات کی پابند نہیں اور نہ دینِ ابراہیمی پر قائم ہے، بلکہ ایک ایسی ریاست ہے جس کا وجود ہی سودی معاشیات، ظلم و جبر اور معصوموں کے خون سے رنگا ہوا ہے۔ آج کا یروشلم ابراہیمی دین پر استوار معاشرے سے میل نہیں کھاتا، اور ہمارے مسلم معاشرے بھی اس دین کی بنیادوں پر استوار نہیں، سوائے اس کے کہ یورپ اس پردے میں پیٹرول پر قابض ہونا چاہتا ہے۔
بنی اسرائیل اپنی انا اور خودپسندی کے خول میں پہلے بھی ہزاروں برس مقید رہے ہیں اور اب آخری دن تک اسی بھرم میں مبتلا رہیں گے کہ وہ اللہ کی برگزیدہ اور معتبر قوم ہیں، چاہے ان کے اعمال اور طرزِ معاشرت دینِ ابراہیمی کے مخالف ہی کیوں نہ ہوں۔ ان تمام باتوں سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اللہ نے ان کے قلوب اور دماغ پر مہر ثبت کر دی ہے، اور ان کی دیکھا دیکھی مسلم ممالک کی بصیرت اور بصارت بھی مقفل ہو چکی ہے، تاکہ وہ بھی اس معتوب اور خودسر قوم کے ساتھ ہی اپنے انجام کو پہنچیں، جو احادیث میں ان کے لیے پہلے ہی سے واضح ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں