محمد اظہر شمشاد
موجودہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایک سوال ذہن میں بار بار ابھر کر آتا ہے کہ آخر مسلمانوں کی کا ہمدرد پارٹی کون ہے؟ کون سی ایسی پارٹی ہے جس پر مسلمانوں کو آنکھ بند کر کے بھروسہ کرنا چاہیے، اور متحد ہو کر صرف انہیں ہی ووٹ دنیا چاہیے، کافی غور کے بعد بھی اس سوال کا جواب نہیں مل سکا کیوں کہ جتنی بھی بڑی سیاسی پارٹیاں ہیں انہوں نے صرف اور صرف مسلمانوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے اور برسر اقتدار آنے کے بعد کسی بے وفا محبوب کی طرح منہ موڑ لیا ہے، آزادی کے بعد سے مسلسل سیاسی شراکت داری میں مسلمان تنزلی کے شکار ہیں، ۲۰۱۱ کے مردم شُماری کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 14.02٪ ہونے کے باوجود بھی انہیں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں کبھی اتنی شراکت داری نہیں ملی جتنے کہ وہ حقدار ہیں لوک سبھا میں سب سے زیادہ مسلم اراکین 1984 میں چنے گئے جن کی تعدا 46 تھی اس کے بعد سے اب تک اتنے مسلمان کبھی لوک سبھا کے لیے نہیں چنے گئے، اندازے کے مطابق موجودہ وقت میں مسلمانوں کی آبادی 21 کروڑ سے زیادہ ہے اس کے باوجود 2024 کے پارلیمانی انتخابات میں صرف 24 اراکین لوک سبھا پہنچے جو کہ آبادی کے فیصد کے حساب سے بہت ہی کم ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلمانوں کی سیاسی تنزلی کی وجہ کیا ہے ؟
آخر مسلمان سیاست میں اتنے پچھڑے ہوئے کیوں ہیں؟ تو اس کی سب سے اہم وجہ یہ سمجھ آتی ہے کہ مسلمانوں کی ہمدرد بڑی سیاسی پارٹی کوئی نہیں ہے اور نہ ہی مسلمانوں کی کوئی اپنی مضبوط پارٹی ہے جو قومی سطح پر اثر انداز ہو سکے اور اب تک مسلمانوں نے جن بڑی پارٹیوں کو اپنا ہمدرد سمجھا انہوں نے برابر مسلمانوں کا سیاسی استحصال کیا پہلے پہل کانگریس نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے مسلمانوں کو استعمال کیا اور جھوٹی ہمدردی دکھا کر سیاسی اعتبار سے کمزور اور بے سہارا کر دیا پھر بی جے پی جیسے پارٹی پر سر اقتدار آ کر مسلمانوں کو اچھوت بنانے کی کوشش میں لگ گئی اور بہت حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئی اور ملک عزیز میں ایک ایسا ماحول قائم کر دیا کہ آج کوئی بھی ایسی بڑی سیاسی پارٹی نہیں ہے جو کھلے الفاظ میں مسلمانوں سے ہمدردی کا دعویٰ کر سکے یا اعلانیہ مسلمانوں پر ہو رہے ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھا سکے کیوں کہ انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ایک بڑی تعداد ان سے ناراض ہو کر انہیں سیاست کے میدان میں پیچھے ڈھکیل دیں گے اور پھر ان کا کوئی پرسانِ حال نہ ہوگا۔
اس لیے اگر مسلمانوں کو اپنی شناخت قائم رکھنی ہے اور قومی سطح پر اثر انداز ہونا ہے تو انہیں ایک مضبوط لائحہ عمل تیار کر کے اپنی کوئی پارٹی بنانی چاہیے، یوں تو آزادی کے بعد سے اب تک ڈھیروں مسلم پارٹیاں وجود میں آئیں جیسے انڈین مسلم یونین لیگ، مسلم مجلس، مجلس اتحاد المسلمین وغیرہ لیکن قومی سطح پر کوئی پارٹی اثر انداز نہ ہو سکی بلکہ کئی پارٹیاں تو اب اپنا وجود بھی کھو چکی ہیں اس کی کئی وجوہات ہیں جیسے آپسی اختلافات، سیکولر پارٹیوں جیسے کانگریس اور دیگر پارٹیوں پر انحصار وغیرہ جن سے ہمیں سیکھ لینا کافی ضروری ہے کہ ماضی میں ہم جو غلطی کر چکے ہیں انہیں دوبارہ نہ دہرائیں اور اب کسی بھی ایسی سازش یا دکھاوے کی ہمدردی کا شکار نہ ہوں جو ہماری شناخت کو مٹانے کا کام کرے کیوں کہ مسلمان صرف ووٹ بینک نہیں ہے اور نہ ہی کسی ہمدردی کا طلبگار بلکہ مسلمان ایک مضبوط قوم ہے جس کی ایک شاندار تاریخ رہی ہے جسے دوبارہ حاصل کرنے کے لیے مسلمان سیاسی شعور و آگہی کے ساتھ خود کی کوئی مضبوط پارٹی بنائیں یا کسی ایسی پارٹی کو مضبوط کریں جو واقعی میں مسلمانوں کا سچا ہمدرد ہو اور ان پر ہو رہے ظلم و ستم کے خلاف کھلم کھلا آواز بلند کرنے کی ہمت رکھتا ہو۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
rr

