رہبر معظم کی شان میں گستاخی ناقابلِ برداشت

جنگ نیوز ڈیسک

قم/جموں کشمیر کے نوجوان دینی مبلغ اور محقق مولانا وسیم رضا قمی نے ہندوستان کے کچھ میڈیا چینلز اور اخبارات کی جانب سے ولی فقیہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کی شان میں گستاخانہ مواد کے اشاعت اور نشرکے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صیہونی لابی کی سازش کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایسی ناپاک حرکتوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ حوزہ علمیہ قم میں زیر تعلیم نوجوان کشمیری عالم دین اور محقق مولانا وسیم رضا نے جاری ایک بیان میں کہا کہ حالیہ 12 روزہ اسرائیل – ایران جنگ کے بعد دشمن اپنی شکست کو چھپانے اور اپنی بقاء کی خاطر شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اسی بوکھلاہٹ میں وہ منفی پروپیگنڈے اور جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے، جبکہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اس کے حامی بھی اس گھناؤنے منصوبے میں شریک ہیں۔ دشمن اسی نفسیاتی جنگ کی آڑ میں رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (دام ظلہ) کی شان میں گستاخی جیسے مذموم عمل کا سہارا لے رہا ہے تاکہ عوام کو حق اور قیادتِ الٰہی سے دور رکھا جا سکے۔ رہبر کی عزت ہمارے دلوں میں ایمان کا درجہ رکھتی ہے، اور ایسی حرکات ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
“دنیا اس وقت کئی سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں منشیات، دہشتگردی اور غربت سرفہرست ہیں۔ ان میں سے منشیات ایک ایسی لعنت ہے جو معاشروں کو اندر سے کھوکھلا اور قوموں کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران میں منشیات کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔”

مولانا وسیم رضا کشمیری نے مزید کہا کہ عربی زبان میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ "الفضل ما شہدت بہ الاعداء” یعنی حقیقی بزرگی یا فضیلت وہ ہے جس کی گواہی یا شہادت خود دشمن بھی دے۔ دشمن ہمیشہ عیب نکالنے کے در پہ ہوتا ہےاور خامیوں کو ذرا ذرا کر کے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور خوبیوں کو چھپانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔مقام معظم رہبری کے بارے میں بھی بہت سے مواقع آئے ہیں جبکہ دوستوں کے علاوہ خود دشمنان نے ان کی وجودی خوبیوں کا اعتراف کیا ہے۔ آپ کی معنویت، حکمت، منطق، استقامت، شجاعت، اخوت، سادگی، حق گوئی، انصاف پسندی، اخلاق اور دوراندیشی مثل آفتاب روشن ہے۔

نوجوان عالم دین نے کہا کہ آزادی بیان کے نام پر کسی کو توہین مذہب کرنے یا مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔صحافت جمہوریت کا چھوتھا ستون اور قوم کی بہبود و بیداری کا پیشہ ہے ، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آج کل اس شعبہ سے وابستہ ایک بڑی تعداد نفرت پھیلانے، ایک دوسرے کو تقسیم کرنے اور توہین کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ فرضی اور جھوٹی رپوٹیں نشر کرکے یہ لوگ ملک اور اس پیشے کو بدنام کررہے ہیں۔ ہم مذکورہ ٹی وی چینلز اور اخبارات سے ایسی نامناسب حرکتوں پر معافی کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کسی کو بھی دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا حق حاصل نہیں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ آئندہ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کیونکہ مقام معظم ہبری اور مرجعیت دینی کی شان میں ذرہ برابر توہین یا کی جانے والی کسی بھی گستاخی کو صرف ایک فرد یا ملک پر حملہ نہیں بلکہ امت کے شعور، قیادت اور نظریے پر حملہ سمجھا جائے گا۔
آخر پر مولانا وسیم رضا قمی نے جموں و کشمیر کے لوگوں خصوصا جوانان سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر سطح پر امن اور بین المذاہب ہم آہنگی برقرار رکھیں اور اس شرمناک سازش کیخلاف اپنی آواز بلند کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

رہبر معظم کی شان میں گستاخی ناقابلِ برداشت

جنگ نیوز ڈیسک

قم/جموں کشمیر کے نوجوان دینی مبلغ اور محقق مولانا وسیم رضا قمی نے ہندوستان کے کچھ میڈیا چینلز اور اخبارات کی جانب سے ولی فقیہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای مدظلہ العالی کی شان میں گستاخانہ مواد کے اشاعت اور نشرکے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے صیہونی لابی کی سازش کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ ایسی ناپاک حرکتوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ حوزہ علمیہ قم میں زیر تعلیم نوجوان کشمیری عالم دین اور محقق مولانا وسیم رضا نے جاری ایک بیان میں کہا کہ حالیہ 12 روزہ اسرائیل – ایران جنگ کے بعد دشمن اپنی شکست کو چھپانے اور اپنی بقاء کی خاطر شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ اسی بوکھلاہٹ میں وہ منفی پروپیگنڈے اور جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے، جبکہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اس کے حامی بھی اس گھناؤنے منصوبے میں شریک ہیں۔ دشمن اسی نفسیاتی جنگ کی آڑ میں رہبرِ انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہ ای (دام ظلہ) کی شان میں گستاخی جیسے مذموم عمل کا سہارا لے رہا ہے تاکہ عوام کو حق اور قیادتِ الٰہی سے دور رکھا جا سکے۔ رہبر کی عزت ہمارے دلوں میں ایمان کا درجہ رکھتی ہے، اور ایسی حرکات ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
“دنیا اس وقت کئی سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، جن میں منشیات، دہشتگردی اور غربت سرفہرست ہیں۔ ان میں سے منشیات ایک ایسی لعنت ہے جو معاشروں کو اندر سے کھوکھلا اور قوموں کو تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران میں منشیات کے خلاف سخت قوانین نافذ ہیں جن میں سزائے موت بھی شامل ہے۔”

مولانا وسیم رضا کشمیری نے مزید کہا کہ عربی زبان میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ "الفضل ما شہدت بہ الاعداء” یعنی حقیقی بزرگی یا فضیلت وہ ہے جس کی گواہی یا شہادت خود دشمن بھی دے۔ دشمن ہمیشہ عیب نکالنے کے در پہ ہوتا ہےاور خامیوں کو ذرا ذرا کر کے بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے اور خوبیوں کو چھپانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔مقام معظم رہبری کے بارے میں بھی بہت سے مواقع آئے ہیں جبکہ دوستوں کے علاوہ خود دشمنان نے ان کی وجودی خوبیوں کا اعتراف کیا ہے۔ آپ کی معنویت، حکمت، منطق، استقامت، شجاعت، اخوت، سادگی، حق گوئی، انصاف پسندی، اخلاق اور دوراندیشی مثل آفتاب روشن ہے۔

نوجوان عالم دین نے کہا کہ آزادی بیان کے نام پر کسی کو توہین مذہب کرنے یا مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔صحافت جمہوریت کا چھوتھا ستون اور قوم کی بہبود و بیداری کا پیشہ ہے ، لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آج کل اس شعبہ سے وابستہ ایک بڑی تعداد نفرت پھیلانے، ایک دوسرے کو تقسیم کرنے اور توہین کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ فرضی اور جھوٹی رپوٹیں نشر کرکے یہ لوگ ملک اور اس پیشے کو بدنام کررہے ہیں۔ ہم مذکورہ ٹی وی چینلز اور اخبارات سے ایسی نامناسب حرکتوں پر معافی کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کسی کو بھی دوسروں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا حق حاصل نہیں ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ آئندہ اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کیونکہ مقام معظم ہبری اور مرجعیت دینی کی شان میں ذرہ برابر توہین یا کی جانے والی کسی بھی گستاخی کو صرف ایک فرد یا ملک پر حملہ نہیں بلکہ امت کے شعور، قیادت اور نظریے پر حملہ سمجھا جائے گا۔
آخر پر مولانا وسیم رضا قمی نے جموں و کشمیر کے لوگوں خصوصا جوانان سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر سطح پر امن اور بین المذاہب ہم آہنگی برقرار رکھیں اور اس شرمناک سازش کیخلاف اپنی آواز بلند کریں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں