کشمیر میں پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کی خاموش جدوجہد

 

اُویس یاسین خان

وادیٔ کشمیر جو اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، وہاں ایک خاموش مگر سنگین بحران مسلسل جنم لے رہا ہے — اور وہ ہے پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کا استحصال۔ یہ اساتذہ جو قوم کے معمار ہیں، انتہائی کم تنخواہوں، حد سے زیادہ کام، اور مکمل نظراندازی کا شکار ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ان تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد کو باعزت پیشہ ور کے بجائے محض ایک سستا مزدور سمجھا جاتا ہے۔
زیادہ تر پرائیویٹ اسکول اساتذہ کی ماہانہ تنخواہ صرف ₹5000 سے ₹10000 کے درمیان ہوتی ہے، جو عام زندگی کے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ ان اساتذہ پر کئی مضامین پڑھانے، مختلف جماعتوں میں تدریس کرنے، مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کروانے، غیر نصابی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے، ڈسپلن برقرار رکھنے، اور یہاں تک کہ چھٹیوں میں بھی کام کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے — مگر بدلے میں نہ کوئی اضافی معاوضہ ملتا ہے، نہ ہی کوئی اعتراف۔
مزید ظلم کی بات یہ ہے کہ بعض اسکولوں میں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں دی جاتی، اور اگر کوئی استاد بیمار ہو جائے یا کسی ذاتی مسئلے کی وجہ سے غیر حاضر ہو، تو اس کی تنخواہ میں سے وہ دن کاٹ لیا جاتا ہے۔ کیا یہ کھلی ناانصافی نہیں؟ ان اداروں کا ماحول آمرانہ بن چکا ہے، جہاں اساتذہ کی نہ کوئی آواز سنی جاتی ہے، نہ ہی ان کی عزت کی جاتی ہے، اور ہر وقت نوکری جانے یا تنخواہ کٹنے کا خوف مسلط رہتا ہے۔
نہ کوئی مقررہ تنخواہ کا پیمانہ ہے، نہ نوکری کا تحفظ، نہ زچگی یا بیماری کی رخصت، اور نہ ہی طبی سہولیات یا پنشن جیسی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ ان تمام زیادتیوں کے باوجود حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ جبکہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ مناسب تنخواہیں، ترقی کے مواقع اور ملازمت کا تحفظ رکھتے ہیں، پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ ایک غیر منظم اور استحصالی نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔
اب تک نہ تو کوئی کم از کم تنخواہ کا ضابطہ نافذ ہوا ہے، نہ ہی پرائیویٹ اداروں کو ضابطے میں لانے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ یہ خاموشی صرف لاپرواہی نہیں، بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔
اگر ہم واقعی تعلیم اور اپنے بچوں کے مستقبل کی قدر کرتے ہیں، تو ہمیں پہلے ان اساتذہ کی قدر کرنی ہوگی جو انہیں تعلیم دیتے ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر تنخواہوں کا معیاری ڈھانچہ نافذ کرنا ہوگا، محنت کش قوانین کو لاگو کرنا ہوگا، اور پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کو ایک باعزت، محفوظ اور منصفانہ ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ ان کی آواز دبائی جا سکتی ہے، مگر ان کی جدوجہد سچ ہے اور اگر اسے نظرانداز کیا گیا، تو یہ ہمارے تعلیمی نظام کی بنیاد کو ہلا دے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

کشمیر میں پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کی خاموش جدوجہد

 

اُویس یاسین خان

وادیٔ کشمیر جو اپنی خوبصورتی کے لیے مشہور ہے، وہاں ایک خاموش مگر سنگین بحران مسلسل جنم لے رہا ہے — اور وہ ہے پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کا استحصال۔ یہ اساتذہ جو قوم کے معمار ہیں، انتہائی کم تنخواہوں، حد سے زیادہ کام، اور مکمل نظراندازی کا شکار ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ان تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد کو باعزت پیشہ ور کے بجائے محض ایک سستا مزدور سمجھا جاتا ہے۔
زیادہ تر پرائیویٹ اسکول اساتذہ کی ماہانہ تنخواہ صرف ₹5000 سے ₹10000 کے درمیان ہوتی ہے، جو عام زندگی کے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ ان اساتذہ پر کئی مضامین پڑھانے، مختلف جماعتوں میں تدریس کرنے، مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کروانے، غیر نصابی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے، ڈسپلن برقرار رکھنے، اور یہاں تک کہ چھٹیوں میں بھی کام کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے — مگر بدلے میں نہ کوئی اضافی معاوضہ ملتا ہے، نہ ہی کوئی اعتراف۔
مزید ظلم کی بات یہ ہے کہ بعض اسکولوں میں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں دی جاتی، اور اگر کوئی استاد بیمار ہو جائے یا کسی ذاتی مسئلے کی وجہ سے غیر حاضر ہو، تو اس کی تنخواہ میں سے وہ دن کاٹ لیا جاتا ہے۔ کیا یہ کھلی ناانصافی نہیں؟ ان اداروں کا ماحول آمرانہ بن چکا ہے، جہاں اساتذہ کی نہ کوئی آواز سنی جاتی ہے، نہ ہی ان کی عزت کی جاتی ہے، اور ہر وقت نوکری جانے یا تنخواہ کٹنے کا خوف مسلط رہتا ہے۔
نہ کوئی مقررہ تنخواہ کا پیمانہ ہے، نہ نوکری کا تحفظ، نہ زچگی یا بیماری کی رخصت، اور نہ ہی طبی سہولیات یا پنشن جیسی سہولتیں دی جاتی ہیں۔ ان تمام زیادتیوں کے باوجود حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے۔ جبکہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ مناسب تنخواہیں، ترقی کے مواقع اور ملازمت کا تحفظ رکھتے ہیں، پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ ایک غیر منظم اور استحصالی نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔
اب تک نہ تو کوئی کم از کم تنخواہ کا ضابطہ نافذ ہوا ہے، نہ ہی پرائیویٹ اداروں کو ضابطے میں لانے کے لیے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا گیا ہے۔ یہ خاموشی صرف لاپرواہی نہیں، بلکہ مجرمانہ غفلت ہے۔
اگر ہم واقعی تعلیم اور اپنے بچوں کے مستقبل کی قدر کرتے ہیں، تو ہمیں پہلے ان اساتذہ کی قدر کرنی ہوگی جو انہیں تعلیم دیتے ہیں۔ حکومت کو فوری طور پر تنخواہوں کا معیاری ڈھانچہ نافذ کرنا ہوگا، محنت کش قوانین کو لاگو کرنا ہوگا، اور پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کو ایک باعزت، محفوظ اور منصفانہ ماحول فراہم کرنا ہوگا۔ ان کی آواز دبائی جا سکتی ہے، مگر ان کی جدوجہد سچ ہے اور اگر اسے نظرانداز کیا گیا، تو یہ ہمارے تعلیمی نظام کی بنیاد کو ہلا دے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں