ایمرجنسی کے سیاہ دن: ایک ہمیشہ یاد رہنے والاسبق

ارجن رام میگھوال
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف (آزادانہ چارج)
اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور،
حکومتِ ہند

پچاس سال پہلے، 25 جون 1975 کو، بھارت نے اپنی جمہوریت کے سب سے تاریک لمحے کا مشاہدہ کیا، جب وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایک آمرانہ اقدام کے طور پر قومی ایمرجنسی نافذ کر دی، جس نے قوم کے آئینی ڈھانچے پر گہرا اور نہ مٹنے والا زخم لگا یا۔ اس کے بعد آنے والے 21 مہینے ایسے تھے جنہوں نے بنیادی طور پر ہندوستانیوں کی جمہوریت، حکومت اور آئینی ورثے کے بارے میں ان کی سوچ بدل دی۔یہ صورتحال اس منحوس صبح پر منتج ہوئی جب جمہوریت کی ماں، طاقت کی ہوس میں مبتلا حکومت کے مایوس کن اور منفی اقدام کی وجہ سے شرمندہ ہوئی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ سنایا جس میں اندرا گاندھی کو 1971 کے لوک سبھا انتخابات میں انتخابی بے ضابطگیوں کا قصور وار قرار دیا اور انہیں عہدے پر رہنے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ استعفیٰ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے، 25 جون 1975 کو انہوں نے ایک ایسا فیصلہ سنایا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ انھوں نے بغیر کابینہ کی رضامندی کے اور لیٹر ہیڈ کی بجائے سادہ کاغذ پر صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمد کو آئین کے آرٹیکل 352 کے تحت "داخلی خلفشار” کی بنیاد پر قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کی سفارش کی۔ کابینہ کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ اقدام حکومت کے آئینی اور مستحکم نظام کو ایک زبردست دھچکا تھا۔ یہ سخت اور ظالمانہ معاملہ اگلی صبح 26 جون 1975 کو صبح 6 بجے ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں زیر غور آیا۔
یہ اقدام ہر معنیٰ میں مکمل آمریت کی شروعات تھی۔ شہریوں کو دی گئی آئینی آزادی راتوں رات ختم ہو گئی۔ آر ٹیکل 19 کے تحت اظہارِ رائے، اجتماع اور نقل و حرکت کی آزادی بیک جنبش قلم معطل کر دی گئی۔ آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور ذاتی آزادی کا تحفظ ایک بالکل بے معنی چیز بن گیا اور سب سے بدترین بات یہ تھی کہ شہریوں کو آرٹیکل 32 کے تحت عدالتوں تک رسائی سے محروم کر دیا گیا، جسے بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے آئین کا’دل و جان‘ قرار دیا تھا۔ایمرجنسی کے ابتدائی شکار وہ اپوزیشن رہنما ہوئے جنہوں نے حکومت کو چیلنج کرنے کی ہمت کی۔ ہزاروں افراد کو سخت قانون ’مینٹی ننس آف انٹرنل سیکورٹی ایکٹ‘ (ایم آئی ایس اے) اور ’ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ‘ (ڈی آئی آر) کے تحت قید کر دیا گیا، لیکن بعد میں ہر شہری کو بھارت کی جمہوری تاریخ کے اس تاریک اور بے رحم باب کے زخم سہنے پڑے۔
اس دور میں ریاست کے انتظامی، قانون ساز اور عدالتی اداروں پر بے مثال حملہ ہوا۔ ایمرجنسی کے دوران اندرا گاندھی حکومت کے آمرانہ اقدامات آج بھی قوم کی اجتماعی یادداشت کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ میرے 92 سالہ دادا، جو گائے پالنے کی اپنی روزمرہ کی سرگرمی میں مصروف تھے، اتفاقاً اپنی انگلی زخمی کر بیٹھے اور علاج کے لیے انہیں بیکانیر کے پی بی ایم اسپتال لے جایا گیا۔داخلے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہاں کا معالج جو سنجے گاندھی کے زیر اثرآبادی کنٹرول کی پالیسیوں کے تحت طے شدہ نس بندی کے اہداف پورے کرنے کے دباؤ میں تھا ، نے ان کی جبری نس بندی کے لیے مجبور کرنے کا بھیانک منصوبہ بنا رکھا تھا۔ اس غیر انسانی اور زبردستی والے ماحول کو محسوس کرتے ہوئے، میرے دادا نے فوراً اسپتال چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنی چوٹ کا علاج کرائے بغیر ہی وہاں سے نکل گئے۔وہ اسپتال، جہاں صحت خدمات فراہم کی جانی تھیں، ایک صدمے اور خوفناک تجربے کا مرکز بن گیا تھا۔ دادا کی جان بخشی ممکن ہوئی، لیکن اس واقعے نے پورے معاشرے پر گہرا زخم چھوڑا۔ بدقسمتی سے، دادا کے برخلاف 1975 سے 77 کے دوران ایک کروڑ سے زائد افراد کی جبراً نس بندی کرائی گئی، جو بھارت کی جمہوری تاریخ کے سب سے سیاہ بابوں میں سے ایک ہے۔
اس دور میں انتظامی مشینری کا واضح طور پر ایک خاندان کے مفادات کے تحفظ کے لیے بے دریغ استعمال دیکھا گیا۔ اس کی ایک نمایاں مثال 24 مارچ 1976 کو سنجے گاندھی کا بیکانیر کا دورہ تھا، جہاں انہوں نے ایک یوتھ ریلی سے خطاب کیا۔ حالانکہ ان کے پاس کوئی آئینی عہدہ نہیں تھا اور وہ ریاست کے مہمان بھی نہیں تھے، پھر بھی ان کے دورے کے لیے سرکاری وسائل کا بھر پور استعمال کیا گیا، جو پروٹوکول کی خلاف ورزی اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔اس وقت میں پوسٹل اینڈ ٹیلی گراف ڈیپارٹمنٹ میں ٹیلی فون آپریٹر تھا اور مجھے خاص طور پر یہ بات ناگوار لگی کہ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ ریلی کے اسٹیج کے نیچے عارضی ٹیلی فون کنکشن نصب کیا جائے جو عام طور پر صرف وزیر اعظم کے سرکاری دوروں کے دوران لگایا جاتا تھا۔ یہ واقعہ نہ صرف سنجے گاندھی کے ناجائز اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ کس طرح ریاستی مشینری کو آئینی اصولوں کی بجائے ذاتی اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے مجبور کیا گیا۔
جب عام شہریوں سے ان کے بنیادی حقوق چھین لیے گئے تھے، ایسے نمائشی مظاہرے جس کی فنڈنگ سرکاری پیسے سے کی گئی تھی،آئینی اصولوں کی کھلی توہین کی علامت تھے۔ ایسے واقعات بھارت کے سب سے ہنگامہ خیز جمہوری بحران کی اخلاقی گراوٹ اور آمرانہ تکبرکی کامل تصویر تھے۔
ایمرجنسی کے دوران آئینی ترامیم کی رجعت پسندانہ نوعیت نے جمہوری روح کو شدید نقصان پہنچایا اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن کو بگاڑ دیا۔ 38ویں آئینی ترمیم نے ایمرجنسی کے اعلان کو عدالتوں کے دائرہ اختیار سے خارج کر دیا اور صدر و گورنر کے آرڈیننس جاری کرنے کے اختیارات میں اضافہ کر دیا۔ اس کے بعد 10 اگست 1975 کو نافذ کی جانے والی 39ویں آئینی ترمیم نے عدالتوں کو وزیراعظم، صدر، نائب صدر اور لوک سبھا اسپیکر جیسے اعلیٰ آئینی عہدوں سے متعلق انتخابی تنازعات کی سماعت سے روک دیا۔ یہ واضح کوشش تھی کہ اندرا گاندھی کو الہ آباد ہائی کورٹ کے منفی فیصلے کے بعد عدالتی جواب دہی سے بچایا جا سکے۔عدلیہ کی آزادی کو منظم طریقے سے کمزور کیا گیا۔ اس کی سب سے نمایاں مثال مشہور کیس اے ڈی ایم جبل پور بمقابلہ شیو کانت شکلا ہے، جس میں سپریم کورٹ نے ایمرجنسی کے دوران بنیادی حقوق کی معطلی کو تسلیم کیا۔ واحد مخالف رائے رکھنے والےجسٹس ایچ آر کھنہ جنھوں نے بہادری سے فرد کی آزادی کو مقدم رکھا، کو چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدے پر تقرری سے محروم کر دیا گیا، حالانکہ وہ سب سے سینئر جج تھے، جو عدالتی وقار پر براہِ راست حملہ تھا۔
آمرانہ کنٹرول کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 42ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی، جس نے متعدد معاملات کے علاوہ لوک سبھا کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر چھ سال کر دی، جس سے جمہوری مینڈیٹ کی قدر کم ہوئی اور بغیر نئے انتخابی جواز کے قانون سازی کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ اس ترمیم نے دستور کے ابتدائیہ (پری ایمبل) میں تین نئے الفاظ شامل کیے: سوشلسٹ، سیکولر، اور انٹیگریٹی۔اس ایمرجنسی کے دوران حکومت نے پارلیمنٹ میں بحث، جانچ پڑتال اور ترمیم کے معمول کے عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے 48 آرڈیننس نافذ کیے۔ ایمرجنسی کے بعد قائم ہونے والے شاہ کمیشن نے ان سیاہ مہینوں میں وسیع پیمانے پر حراستوں، غریبوں کی جبری نس بندی اور طاقت کے منظم غلط استعمال کی خوفناک تصویر پیش کی۔
صحافت، جو جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، اس آمرانہ حکومت کے تحت منظم طریقے سے دبائی گئی۔ صحافیوں کو اپوزیشن رہنماؤں کی ہمدردانہ کوریج کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ مہاتما گاندھی کے قائم کردہ موقر نوجیون پریس کے پریس کو ضبط کر لیا گیا، جو آزادی کی تحریک کی وراثت پر ایک علامتی حملہ تھا۔ایک بے مثال اقدام میں، چار بڑی نیوز ایجنسیوں پریس ٹرسٹ آف انڈیا، یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا، ہندوستان سماچار اور سماچار بھارتی کو جبراً ملا کر ایک تنظیم ’سماچار‘ بنائی گئی۔
ایمرجنسی کے پچاس سال بعد، کانگریس کی دوہری پالیسی بے نقاب ہو چکی ہے۔ ایک طرف وہ ’سمویدھان بچاؤ یاترا‘ کے نام پر غلط معلومات کا پروپیگنڈہ کرتی رہی اور دوسری طرف وہ اپنے آباؤ اجداد کی جانب سے آئین کی توہین پر خاموش ہے۔جناب راجیو گاندھی نے 23 جولائی 1985 کو لوک سبھا میں فخر سے کہا تھا، "ایمرجنسی میں کچھ غلط نہیں ہے”۔ آمرانہ عمل پر فخر کا یہ اظہار ظاہر کرتا ہے کہ کانگریس کے لیے خاندان اور اقتدار سب سے بڑی ترجیح ہے۔
ہمارے وزیراعظم جناب نریندر مودی، جو اس وقت 25 سال کے نوجوان تھے، نے بہادری سے اس آمریت کے خلاف منفرد انداز میں مزاحمت کی۔ شناخت چھپانے کے لیے انہوں نے کئی بھیس بدل کر زیر زمین ملاقاتیں کیں اور ایمرجنسی کے خلاف ادبیات و پرنٹس کی اشاعت کے لیے جدوجہد کی۔جب آر ایس ایس کو زیر زمین جانے پر مجبور کیا گیا، تو مودی جی نے کانگریس حکومت کی آمریت کے خلاف جمہوری مزاحمت کو برقرار رکھنے کے لیے دن رات محنت کی اور نئی قائم شدہ گجرات لوک سنگھرش سمیتی کے جنرل سکریٹری کے طور پر کام کیا۔
ماضی کے زخموں کو تسلیم کرتے ہوئے، مودی حکومت نے 11 جولائی 2024 کو گزیٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے 25 جون کو ‘سمویدھان ہتیا دیوس” کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ یہ دن ایمرجنسی کے دوران آئینی اقدار کے ساتھ کی گئی خیانت کی سنجیدہ یاد دہانی ہے۔یہ شہریوں پر زور دیتا ہے کہ وہ جمہوریت کے ہوشیار محافظ بنیں،یہ ہمیں ہماری سخت جدوجہد سے حاصل شدہ آزادیوں کی قیمت اور اہمیت کی یاد دلاتا ہے تاکہ ہم تاریخ کے ان تاریک ابواب سے سبق حاصل کریں۔
ایمرجنسی کے پچاس سال مکمل ہونے کے بعد بھی یہ ہمیں مسلسل یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت کے لیے مستقل طور پرچوکس رہنا ضروری ہے۔ ہمارا آئین نسل در نسل کی قربانیوں، حکمت، امیدوں اور امنگوں کا مظہر ہے۔ جیسے جیسے بھارت 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی سمت بڑھ رہا ہے، وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہمیں اپنی ذمہ داری کو دہرانا ہوگا کہ ہم اس آئین کی حرمت کی حفاظت کریں اور شہریوں کے عزم سے طاقت حاصل کرتے ہوئے ایک متحرک اور ترقی یافتہ جمہوری ملک تعمیر کریں۔
rr

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

ایمرجنسی کے سیاہ دن: ایک ہمیشہ یاد رہنے والاسبق

ارجن رام میگھوال
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف (آزادانہ چارج)
اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور،
حکومتِ ہند

پچاس سال پہلے، 25 جون 1975 کو، بھارت نے اپنی جمہوریت کے سب سے تاریک لمحے کا مشاہدہ کیا، جب وزیر اعظم اندرا گاندھی نے ایک آمرانہ اقدام کے طور پر قومی ایمرجنسی نافذ کر دی، جس نے قوم کے آئینی ڈھانچے پر گہرا اور نہ مٹنے والا زخم لگا یا۔ اس کے بعد آنے والے 21 مہینے ایسے تھے جنہوں نے بنیادی طور پر ہندوستانیوں کی جمہوریت، حکومت اور آئینی ورثے کے بارے میں ان کی سوچ بدل دی۔یہ صورتحال اس منحوس صبح پر منتج ہوئی جب جمہوریت کی ماں، طاقت کی ہوس میں مبتلا حکومت کے مایوس کن اور منفی اقدام کی وجہ سے شرمندہ ہوئی۔
الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ سنایا جس میں اندرا گاندھی کو 1971 کے لوک سبھا انتخابات میں انتخابی بے ضابطگیوں کا قصور وار قرار دیا اور انہیں عہدے پر رہنے کے لیے نااہل قرار دے دیا۔ استعفیٰ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کرتے ہوئے، 25 جون 1975 کو انہوں نے ایک ایسا فیصلہ سنایا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ انھوں نے بغیر کابینہ کی رضامندی کے اور لیٹر ہیڈ کی بجائے سادہ کاغذ پر صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمد کو آئین کے آرٹیکل 352 کے تحت "داخلی خلفشار” کی بنیاد پر قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کی سفارش کی۔ کابینہ کو نظر انداز کرتے ہوئے یہ اقدام حکومت کے آئینی اور مستحکم نظام کو ایک زبردست دھچکا تھا۔ یہ سخت اور ظالمانہ معاملہ اگلی صبح 26 جون 1975 کو صبح 6 بجے ہونے والی کابینہ کی میٹنگ میں زیر غور آیا۔
یہ اقدام ہر معنیٰ میں مکمل آمریت کی شروعات تھی۔ شہریوں کو دی گئی آئینی آزادی راتوں رات ختم ہو گئی۔ آر ٹیکل 19 کے تحت اظہارِ رائے، اجتماع اور نقل و حرکت کی آزادی بیک جنبش قلم معطل کر دی گئی۔ آرٹیکل 21 کے تحت زندگی اور ذاتی آزادی کا تحفظ ایک بالکل بے معنی چیز بن گیا اور سب سے بدترین بات یہ تھی کہ شہریوں کو آرٹیکل 32 کے تحت عدالتوں تک رسائی سے محروم کر دیا گیا، جسے بابا صاحب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے آئین کا’دل و جان‘ قرار دیا تھا۔ایمرجنسی کے ابتدائی شکار وہ اپوزیشن رہنما ہوئے جنہوں نے حکومت کو چیلنج کرنے کی ہمت کی۔ ہزاروں افراد کو سخت قانون ’مینٹی ننس آف انٹرنل سیکورٹی ایکٹ‘ (ایم آئی ایس اے) اور ’ڈیفنس آف انڈیا ایکٹ‘ (ڈی آئی آر) کے تحت قید کر دیا گیا، لیکن بعد میں ہر شہری کو بھارت کی جمہوری تاریخ کے اس تاریک اور بے رحم باب کے زخم سہنے پڑے۔
اس دور میں ریاست کے انتظامی، قانون ساز اور عدالتی اداروں پر بے مثال حملہ ہوا۔ ایمرجنسی کے دوران اندرا گاندھی حکومت کے آمرانہ اقدامات آج بھی قوم کی اجتماعی یادداشت کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ میرے 92 سالہ دادا، جو گائے پالنے کی اپنی روزمرہ کی سرگرمی میں مصروف تھے، اتفاقاً اپنی انگلی زخمی کر بیٹھے اور علاج کے لیے انہیں بیکانیر کے پی بی ایم اسپتال لے جایا گیا۔داخلے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ وہاں کا معالج جو سنجے گاندھی کے زیر اثرآبادی کنٹرول کی پالیسیوں کے تحت طے شدہ نس بندی کے اہداف پورے کرنے کے دباؤ میں تھا ، نے ان کی جبری نس بندی کے لیے مجبور کرنے کا بھیانک منصوبہ بنا رکھا تھا۔ اس غیر انسانی اور زبردستی والے ماحول کو محسوس کرتے ہوئے، میرے دادا نے فوراً اسپتال چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنی چوٹ کا علاج کرائے بغیر ہی وہاں سے نکل گئے۔وہ اسپتال، جہاں صحت خدمات فراہم کی جانی تھیں، ایک صدمے اور خوفناک تجربے کا مرکز بن گیا تھا۔ دادا کی جان بخشی ممکن ہوئی، لیکن اس واقعے نے پورے معاشرے پر گہرا زخم چھوڑا۔ بدقسمتی سے، دادا کے برخلاف 1975 سے 77 کے دوران ایک کروڑ سے زائد افراد کی جبراً نس بندی کرائی گئی، جو بھارت کی جمہوری تاریخ کے سب سے سیاہ بابوں میں سے ایک ہے۔
اس دور میں انتظامی مشینری کا واضح طور پر ایک خاندان کے مفادات کے تحفظ کے لیے بے دریغ استعمال دیکھا گیا۔ اس کی ایک نمایاں مثال 24 مارچ 1976 کو سنجے گاندھی کا بیکانیر کا دورہ تھا، جہاں انہوں نے ایک یوتھ ریلی سے خطاب کیا۔ حالانکہ ان کے پاس کوئی آئینی عہدہ نہیں تھا اور وہ ریاست کے مہمان بھی نہیں تھے، پھر بھی ان کے دورے کے لیے سرکاری وسائل کا بھر پور استعمال کیا گیا، جو پروٹوکول کی خلاف ورزی اور عوامی فنڈز کے غلط استعمال پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔اس وقت میں پوسٹل اینڈ ٹیلی گراف ڈیپارٹمنٹ میں ٹیلی فون آپریٹر تھا اور مجھے خاص طور پر یہ بات ناگوار لگی کہ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی کہ ریلی کے اسٹیج کے نیچے عارضی ٹیلی فون کنکشن نصب کیا جائے جو عام طور پر صرف وزیر اعظم کے سرکاری دوروں کے دوران لگایا جاتا تھا۔ یہ واقعہ نہ صرف سنجے گاندھی کے ناجائز اثر و رسوخ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ کس طرح ریاستی مشینری کو آئینی اصولوں کی بجائے ذاتی اور سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے مجبور کیا گیا۔
جب عام شہریوں سے ان کے بنیادی حقوق چھین لیے گئے تھے، ایسے نمائشی مظاہرے جس کی فنڈنگ سرکاری پیسے سے کی گئی تھی،آئینی اصولوں کی کھلی توہین کی علامت تھے۔ ایسے واقعات بھارت کے سب سے ہنگامہ خیز جمہوری بحران کی اخلاقی گراوٹ اور آمرانہ تکبرکی کامل تصویر تھے۔
ایمرجنسی کے دوران آئینی ترامیم کی رجعت پسندانہ نوعیت نے جمہوری روح کو شدید نقصان پہنچایا اور ریاستی اداروں کے درمیان توازن کو بگاڑ دیا۔ 38ویں آئینی ترمیم نے ایمرجنسی کے اعلان کو عدالتوں کے دائرہ اختیار سے خارج کر دیا اور صدر و گورنر کے آرڈیننس جاری کرنے کے اختیارات میں اضافہ کر دیا۔ اس کے بعد 10 اگست 1975 کو نافذ کی جانے والی 39ویں آئینی ترمیم نے عدالتوں کو وزیراعظم، صدر، نائب صدر اور لوک سبھا اسپیکر جیسے اعلیٰ آئینی عہدوں سے متعلق انتخابی تنازعات کی سماعت سے روک دیا۔ یہ واضح کوشش تھی کہ اندرا گاندھی کو الہ آباد ہائی کورٹ کے منفی فیصلے کے بعد عدالتی جواب دہی سے بچایا جا سکے۔عدلیہ کی آزادی کو منظم طریقے سے کمزور کیا گیا۔ اس کی سب سے نمایاں مثال مشہور کیس اے ڈی ایم جبل پور بمقابلہ شیو کانت شکلا ہے، جس میں سپریم کورٹ نے ایمرجنسی کے دوران بنیادی حقوق کی معطلی کو تسلیم کیا۔ واحد مخالف رائے رکھنے والےجسٹس ایچ آر کھنہ جنھوں نے بہادری سے فرد کی آزادی کو مقدم رکھا، کو چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدے پر تقرری سے محروم کر دیا گیا، حالانکہ وہ سب سے سینئر جج تھے، جو عدالتی وقار پر براہِ راست حملہ تھا۔
آمرانہ کنٹرول کو مزید مستحکم کرنے کے لیے 42ویں آئینی ترمیم منظور کی گئی، جس نے متعدد معاملات کے علاوہ لوک سبھا کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر چھ سال کر دی، جس سے جمہوری مینڈیٹ کی قدر کم ہوئی اور بغیر نئے انتخابی جواز کے قانون سازی کی طاقت میں اضافہ ہوا۔ اس ترمیم نے دستور کے ابتدائیہ (پری ایمبل) میں تین نئے الفاظ شامل کیے: سوشلسٹ، سیکولر، اور انٹیگریٹی۔اس ایمرجنسی کے دوران حکومت نے پارلیمنٹ میں بحث، جانچ پڑتال اور ترمیم کے معمول کے عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے 48 آرڈیننس نافذ کیے۔ ایمرجنسی کے بعد قائم ہونے والے شاہ کمیشن نے ان سیاہ مہینوں میں وسیع پیمانے پر حراستوں، غریبوں کی جبری نس بندی اور طاقت کے منظم غلط استعمال کی خوفناک تصویر پیش کی۔
صحافت، جو جمہوریت کا چوتھا ستون ہے، اس آمرانہ حکومت کے تحت منظم طریقے سے دبائی گئی۔ صحافیوں کو اپوزیشن رہنماؤں کی ہمدردانہ کوریج کرنے پر گرفتار کیا گیا۔ مہاتما گاندھی کے قائم کردہ موقر نوجیون پریس کے پریس کو ضبط کر لیا گیا، جو آزادی کی تحریک کی وراثت پر ایک علامتی حملہ تھا۔ایک بے مثال اقدام میں، چار بڑی نیوز ایجنسیوں پریس ٹرسٹ آف انڈیا، یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا، ہندوستان سماچار اور سماچار بھارتی کو جبراً ملا کر ایک تنظیم ’سماچار‘ بنائی گئی۔
ایمرجنسی کے پچاس سال بعد، کانگریس کی دوہری پالیسی بے نقاب ہو چکی ہے۔ ایک طرف وہ ’سمویدھان بچاؤ یاترا‘ کے نام پر غلط معلومات کا پروپیگنڈہ کرتی رہی اور دوسری طرف وہ اپنے آباؤ اجداد کی جانب سے آئین کی توہین پر خاموش ہے۔جناب راجیو گاندھی نے 23 جولائی 1985 کو لوک سبھا میں فخر سے کہا تھا، "ایمرجنسی میں کچھ غلط نہیں ہے”۔ آمرانہ عمل پر فخر کا یہ اظہار ظاہر کرتا ہے کہ کانگریس کے لیے خاندان اور اقتدار سب سے بڑی ترجیح ہے۔
ہمارے وزیراعظم جناب نریندر مودی، جو اس وقت 25 سال کے نوجوان تھے، نے بہادری سے اس آمریت کے خلاف منفرد انداز میں مزاحمت کی۔ شناخت چھپانے کے لیے انہوں نے کئی بھیس بدل کر زیر زمین ملاقاتیں کیں اور ایمرجنسی کے خلاف ادبیات و پرنٹس کی اشاعت کے لیے جدوجہد کی۔جب آر ایس ایس کو زیر زمین جانے پر مجبور کیا گیا، تو مودی جی نے کانگریس حکومت کی آمریت کے خلاف جمہوری مزاحمت کو برقرار رکھنے کے لیے دن رات محنت کی اور نئی قائم شدہ گجرات لوک سنگھرش سمیتی کے جنرل سکریٹری کے طور پر کام کیا۔
ماضی کے زخموں کو تسلیم کرتے ہوئے، مودی حکومت نے 11 جولائی 2024 کو گزیٹ نوٹیفیکیشن کے ذریعے 25 جون کو ‘سمویدھان ہتیا دیوس” کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ یہ دن ایمرجنسی کے دوران آئینی اقدار کے ساتھ کی گئی خیانت کی سنجیدہ یاد دہانی ہے۔یہ شہریوں پر زور دیتا ہے کہ وہ جمہوریت کے ہوشیار محافظ بنیں،یہ ہمیں ہماری سخت جدوجہد سے حاصل شدہ آزادیوں کی قیمت اور اہمیت کی یاد دلاتا ہے تاکہ ہم تاریخ کے ان تاریک ابواب سے سبق حاصل کریں۔
ایمرجنسی کے پچاس سال مکمل ہونے کے بعد بھی یہ ہمیں مسلسل یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت کے لیے مستقل طور پرچوکس رہنا ضروری ہے۔ ہمارا آئین نسل در نسل کی قربانیوں، حکمت، امیدوں اور امنگوں کا مظہر ہے۔ جیسے جیسے بھارت 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی سمت بڑھ رہا ہے، وزیراعظم مودی کی قیادت میں ہمیں اپنی ذمہ داری کو دہرانا ہوگا کہ ہم اس آئین کی حرمت کی حفاظت کریں اور شہریوں کے عزم سے طاقت حاصل کرتے ہوئے ایک متحرک اور ترقی یافتہ جمہوری ملک تعمیر کریں۔
rr

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں