شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس:بھارت کا مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار

جنگ نیوز ڈیسک

راجناتھ سنگھ نے ایس سی او اعلامیہ پر دستخط سے انکار کر دیا، سرحد پار دہشت گردی پر تشویش برقرار
ایس سی او سربراہی اجلاس میں بھارت نے سرحد پار دہشت گردی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، جس میں پہلگام حملے اور پاکستان کے ساتھ تنازعے کا حوالہ دیا گیا۔
جمعرات کے روز بھارتی وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق راجناتھ سنگھ نے بھارت کا نام اعلامیے میں شامل کرنے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ اس میں بھارت کی سرحد پار دہشت گردی سے متعلق تشویش کو خاطر میں نہیں لایا گیا تھا۔
ایس سی او سربراہی اجلاس میں بھارت نے خاص طور پر پہلگام حملے اور پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے سرحد پار دہشت گردی پر اپنی تشویش پیش کی۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، راجناتھ سنگھ نے اس لیے اعلامیے کی توثیق نہیں کی کیونکہ یہ بھارت کے تحفظات کو واضح طور پر تسلیم نہیں کرتا تھا۔
ذرائع کے مطابق، بھارت کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ اعلامیے میں دہشت گردی، خاص طور پر سرحد پار حملوں سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی شامل نہیں تھی۔
راجناتھ سنگھ کے انکار کے بعد ایس سی او وزرائے دفاع کا اجلاس کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔ یہ اجلاس 25 اور 26 جون کو چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں منعقد ہوا۔
اس اجلاس میں بھارت، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے دفاع نے خطے اور عالمی سطح پر امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
’دوہرا معیار ناقابل قبول ہے‘
دفاعی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے ایس سی او کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
بھارتی وزیر دفاع نے کہا، ’’دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:
’’ہمارے خطے کو اس وقت جو سب سے بڑے چیلنجز درپیش ہیں، وہ امن، سلامتی اور اعتماد کے فقدان سے متعلق ہیں۔ ان تمام مسائل کی جڑ شدت پسندی، انتہاپسندی اور دہشت گردی میں مضمر ہے۔‘‘
’’ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اجتماعی سلامتی کے لیے متحد ہو کر ان برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا،‘‘ انہوں نے زور دیا۔
راجناتھ سنگھ نے پہلگام حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کی پشت پناہی سے ہوا، جو کہ اپریل میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے پیچھے بتائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پہلگام حملے کا طریقہ کار بھارت میں لشکر طیبہ کے سابقہ حملوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ بھارت کی دہشت گردی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہمارے اقدامات سے واضح ہے۔‘‘
’’ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ ہم نے ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کے مراکز اب محفوظ نہیں رہے اور ہم انہیں نشانہ بنانے میں ہچکچاہٹ نہیں کریں گے،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام حملے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حملے کے جواب میں بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
آپریشن سندور کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ کشیدگی کا آغاز ہوا، جس نے دونوں ممالک کو ایک بار پھر آمنے سامنے لاکھڑا کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس:بھارت کا مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار

جنگ نیوز ڈیسک

راجناتھ سنگھ نے ایس سی او اعلامیہ پر دستخط سے انکار کر دیا، سرحد پار دہشت گردی پر تشویش برقرار
ایس سی او سربراہی اجلاس میں بھارت نے سرحد پار دہشت گردی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، جس میں پہلگام حملے اور پاکستان کے ساتھ تنازعے کا حوالہ دیا گیا۔
جمعرات کے روز بھارتی وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق راجناتھ سنگھ نے بھارت کا نام اعلامیے میں شامل کرنے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ اس میں بھارت کی سرحد پار دہشت گردی سے متعلق تشویش کو خاطر میں نہیں لایا گیا تھا۔
ایس سی او سربراہی اجلاس میں بھارت نے خاص طور پر پہلگام حملے اور پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے سرحد پار دہشت گردی پر اپنی تشویش پیش کی۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، راجناتھ سنگھ نے اس لیے اعلامیے کی توثیق نہیں کی کیونکہ یہ بھارت کے تحفظات کو واضح طور پر تسلیم نہیں کرتا تھا۔
ذرائع کے مطابق، بھارت کے انکار کی وجہ یہ تھی کہ اعلامیے میں دہشت گردی، خاص طور پر سرحد پار حملوں سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی شامل نہیں تھی۔
راجناتھ سنگھ کے انکار کے بعد ایس سی او وزرائے دفاع کا اجلاس کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر اختتام پذیر ہوا۔ یہ اجلاس 25 اور 26 جون کو چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں منعقد ہوا۔
اس اجلاس میں بھارت، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے وزرائے دفاع نے خطے اور عالمی سطح پر امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔
’دوہرا معیار ناقابل قبول ہے‘
دفاعی رہنماؤں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے ایس سی او کے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔
بھارتی وزیر دفاع نے کہا، ’’دہشت گردی سے نمٹنے میں دوہرے معیار کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا:
’’ہمارے خطے کو اس وقت جو سب سے بڑے چیلنجز درپیش ہیں، وہ امن، سلامتی اور اعتماد کے فقدان سے متعلق ہیں۔ ان تمام مسائل کی جڑ شدت پسندی، انتہاپسندی اور دہشت گردی میں مضمر ہے۔‘‘
’’ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اجتماعی سلامتی کے لیے متحد ہو کر ان برائیوں کا مقابلہ کرنا ہوگا،‘‘ انہوں نے زور دیا۔
راجناتھ سنگھ نے پہلگام حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ لشکر طیبہ اور اس کی ذیلی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ کی پشت پناہی سے ہوا، جو کہ اپریل میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے پیچھے بتائی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پہلگام حملے کا طریقہ کار بھارت میں لشکر طیبہ کے سابقہ حملوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ بھارت کی دہشت گردی کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی ہمارے اقدامات سے واضح ہے۔‘‘
’’ہمیں اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ ہم نے ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کے مراکز اب محفوظ نہیں رہے اور ہم انہیں نشانہ بنانے میں ہچکچاہٹ نہیں کریں گے،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔
یاد رہے کہ 22 اپریل کو پہلگام حملے میں 26 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حملے کے جواب میں بھارت نے ’آپریشن سندور‘ کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں موجود دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔
آپریشن سندور کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ کشیدگی کا آغاز ہوا، جس نے دونوں ممالک کو ایک بار پھر آمنے سامنے لاکھڑا کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں