G7کا بکھرتا ہوا اتحاد

کینیڈا کے شہر کینانسکس میں منعقدہ G7سربراہی اجلاس، جہاں اس گروپ کی پچاسویں سالگرہ منائی گئی، ایک مضبوط اور متفقہ عالمی قیادت کی بجائے بے سمت، غیر مؤثر اور تقسیم شدہ اتحاد کا عکس پیش کر گیا۔ دنیا کے سب سے بااثر ممالک اس وقت روس-یوکرین جنگ، اسرائیل-ایران کشیدگی، اور غزہ پر اسرائیلی بمباری جیسے سنگین عالمی مسائل پر یکسو موقف اختیار کرنے میں مکمل ناکام نظر آئے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے اسرائیل کے حق میں جانبداری دکھاتے ہوئے جنگ بندی سے متعلق بیان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، اور ایران مخالف بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کی۔ ان کی روس اور چین کو "G-9” میں شامل کرنے کی تجویز نے مزید اضطراب پیدا کیا، جس پر یوکرین جیسے مہمان ملک نے شدید ناراضی ظاہر کی۔
بھارت، جسے اجلاس میں آخری لمحات میں مدعو کیا گیا، چاہتا تھا کہ دہشت گردی پر مشترکہ موقف سامنے آئے، مگر اس پر بھی اتفاق نہ ہو سکا۔ نتیجتاً صرف چیئر کا خلاصہ جاری ہوا، جس میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، جنگلات اور معدنی وسائل جیسے نسبتاً غیر متنازع موضوعات شامل کیے گئے۔
نتیجہ: قیادت کا بحران
جی-7 اب وہ اتحاد نہیں رہا جو عالمی قیادت کا دعویٰ رکھتا تھا۔ داخلی اختلافات، امریکی پالیسیوں کی غیر یقینی کیفیت، اور قومی مفادات کے ٹکراؤ نے اس پلیٹ فارم کو کمزور کر دیا ہے۔ دنیا کو اب ایک نئے، زیادہ شمولیتی اور انصاف پر مبنی عالمی نظم کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

G7کا بکھرتا ہوا اتحاد

کینیڈا کے شہر کینانسکس میں منعقدہ G7سربراہی اجلاس، جہاں اس گروپ کی پچاسویں سالگرہ منائی گئی، ایک مضبوط اور متفقہ عالمی قیادت کی بجائے بے سمت، غیر مؤثر اور تقسیم شدہ اتحاد کا عکس پیش کر گیا۔ دنیا کے سب سے بااثر ممالک اس وقت روس-یوکرین جنگ، اسرائیل-ایران کشیدگی، اور غزہ پر اسرائیلی بمباری جیسے سنگین عالمی مسائل پر یکسو موقف اختیار کرنے میں مکمل ناکام نظر آئے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ نے اسرائیل کے حق میں جانبداری دکھاتے ہوئے جنگ بندی سے متعلق بیان پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا، اور ایران مخالف بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کی۔ ان کی روس اور چین کو "G-9” میں شامل کرنے کی تجویز نے مزید اضطراب پیدا کیا، جس پر یوکرین جیسے مہمان ملک نے شدید ناراضی ظاہر کی۔
بھارت، جسے اجلاس میں آخری لمحات میں مدعو کیا گیا، چاہتا تھا کہ دہشت گردی پر مشترکہ موقف سامنے آئے، مگر اس پر بھی اتفاق نہ ہو سکا۔ نتیجتاً صرف چیئر کا خلاصہ جاری ہوا، جس میں مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، جنگلات اور معدنی وسائل جیسے نسبتاً غیر متنازع موضوعات شامل کیے گئے۔
نتیجہ: قیادت کا بحران
جی-7 اب وہ اتحاد نہیں رہا جو عالمی قیادت کا دعویٰ رکھتا تھا۔ داخلی اختلافات، امریکی پالیسیوں کی غیر یقینی کیفیت، اور قومی مفادات کے ٹکراؤ نے اس پلیٹ فارم کو کمزور کر دیا ہے۔ دنیا کو اب ایک نئے، زیادہ شمولیتی اور انصاف پر مبنی عالمی نظم کی ضرورت ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں