امریکی حمایت یافتہ’ ٹارگیٹ کلنگ‘ اور ایران


سراج نقوی

جمعہ کی صبح اسرائیل نے جس طرح ایرانی کے دفاعی ٹھکانوں اور ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت کو نشانہ بنایا اسے امریکی حمایت یافتہ ’ٹارگیٹ کلنگ‘ کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔اسرائیل کے اس حملے نے مشرقی وسطیٰ میں قیام امن کے امکانات کو ایک مرتبہ پھر سبوتاژ کر دیا ہے۔اس لیے کہ ایران نے اسرائیل کے اس حملے کا جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ صہیونی ریاست اور امریکہ کو اس کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس حملے کے تعلق سے اپنا منافقانہ موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ،’انھیں اسرائیل کے منصوبوں کا پہلے سے علم تھا ، لیکن امریکہ نے اسرائیلی فوج کے آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔‘ٹرمپ کو یہ امید بھی ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مزاکرات جاری رکھیگا۔
ٹرمپ کی مذکورہ وضاحت ایک فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔اس لیے کہ اسرائیلی حملے سے ایک روز قبل یعنی بدھ کے دن ہی امریکہ نے عراق میں اپنے سفارتخانے کو جزوی طور پر خالی کیا ہے۔ہر چند کہ امریکہ نے اس قدم کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی ،لیکن بی بی سی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر رکی بات چیت اس کا ایک سبب ہو سکتی ہے۔امریکہ نے مشرقی وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں سے بھی فوجیوں کے کنبوں کو واپس آنے کے لیے کچھ دن پہلے ہی کہہ دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ ایران پر اسرائیل کے حملے کے مدنظر مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی کو ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کم کر رہا ہے،اور یہ عمل ہی امریکہ کے اسرائیل کی ایران کے خلاف ٹارگیٹ کلنگ میں راست طور پر ملوث ہونے کا ثبوت ہے۔ایران پر اسرائیل کے ممکنہ حملے کے تعلق سے ‘وال اسٹریٹ جنرل‘ میں شائع ایک رپورٹ میں کچھ دن قبل دعویٰ کیا گیا تھا کہ’ اگر ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق امریکی تجویز کو قبول نہیں کرتا ہے تو اسرائیل ایران پر حملے کے لیے تیار ہے۔‘اس کے باوجود اگر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اسرائیلی حملے کے تعلق سے یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اس حملے میں شامل نہیں ہیں،تو یہ دنیا اور ایران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ شائد امریکہ یا صدر ٹرمپ اس غلط فہمی کے شکار ہیں کہ اس طرح کے ہتھکنڈے ایران کو اس کے سامنے جھکنے اور ایٹمی پروگرام سے دست بردار ہونے کے لیے مجبور کر دینگے ۔لیکن جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر اسرائیل اس پر حملہ کرتا ہے تو وہ جوابی کارروائی میں صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میںامریکی فوجی اڈّوں کو بھی نشانہ بنائیگا۔تازہ حملے کے بعد بھی ایران نے صاف کہا ہے کہ ،’اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑیگی۔‘‘ ایران کا یہ موقف اس لیے درست ہے کہ اگر اسرائیل آج تک غزہ کے بے قصو ر بچّوں، بوڑھوں اور خواتین کی نسل کشی میںملوث ہے،اگر نیتن یاہو عالمی عدالت کے ذریعہ جنگی مجرم ٹھہرائے جانے کے باوجود غزہ کے شہریوں کے قتل و غارتگری اور انھیں بھوک سے تڑپا تڑپا کر مار دینے سے باز نہیں آیا ہے تو اس کی ذمہ داری جتنی اسرائیل یا نیتن یاہو کی ہے اس سے کچھ زیادہ امریکہ کی ہے،اس لیے کہ اسرائیل کو تمام ترمظالم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے اسلحہ اور دیگر وسائل امریکہ ہی فراہم کرتا رہا ہے اور ٹرمپ نے بھی غزہ کی بربادی کے باوجود یہ سلسلہ جاری رکھا ہے۔اس لیے ایران کے ذریعہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو بھی نشانے پر لینا درست ہی ہے۔
بہرحال امریکہ کے پالتو ’ٹارگیٹ کِلر‘ اسرائیل نے ایران پر ’پیشگی حملہ‘ کرکے اس خطّے کو جنگ میں جھونک دیا ہے۔ اسرائیل کی صہیونی دہشت گرد حکومت نے ایران پر کیے گئے حملے کو ،’’اسرائیل کے وجود پر ایران کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک ٹارگیٹڈفوجی مہم‘‘قرار دیا ہے ،اور اعلان کیا ہے کہ ’’یہ مہم اس وقت تک جاری رہیگی،جب تک ضروری ہوگا۔‘‘اسرائیل کے وزیر دفاع نے ان حملوں کے لیے وہی بیہودہ دلیل پیش کی ہے جو اسرائیل ایسی کارروائیوں پر پہلے بھی دیتا رہا ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے قبول کیا کہ اسرائیل نے ایران پر پیشگی حملے کیے ہیں اور ان کا مقصد ایران کو اسرائیل سے پیدا خطرات کو کم کرنا ہے۔ماضی میںعراق میں صدام حسین کے دور میں اعراق کے ایٹمی
پلانٹ پر حملہ کرنے سے لیکر دیگر پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے اسرائیل یہی دلیل پیش کرتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی بے غیرت مسلم ملک کی غیرت اتفاق سے جاگ جائے اور وہ بھی اسی دلیل کا سہارا لیکر اسرائیل پر حملہ کر دے تو کیا دنیا ،خصوصاً امریکہ اور یوروپ اسے تسلیم کر لینگے؟کیا ایرا ن کی طرف سے اسی دلیل کا سہارا لیکر اسرائیل کو نشانہ بنایا جاتا تو عالمی برادری اسی طرح خاموش رہتی جس طرح اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ہے؟
اسرائیل شائد یہ مانتا ہے کہ ایران پر اس کے حملے اور وہاں کی اعلیٰ فوجی قیادت و سائینسدانوں کو قتل کرکے وہ ایران کو کمزور کر دیگا،لیکن یہ بات طے ہے کہ اس طرح کے حملے ایران کو مزید طاقت فراہم کرنے کا بالواسطہ سبب بنینگے۔ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد شاہ ایران کے دور کے اعلیٰ فوجی افسران کو انقلابی افواج نے راہ سے ہٹا یا تھا تو یہ امید کی جا رہی تھی کہ ایران اس سے کمزور ہوگا،لیکن ایسا نہیں ہوا۔اس کے بعد امریکہ کی سازشوں سے ایران اور اعراق کے درمیان جنگ چھڑی جو امریکہ کی اعراق کو درپردہ حمایت کے سبب ۸ سال تک چلی،لیکن ایران اس کے باوجود کمزور نہیں ہوا۔
اس کے بعد ایران پر امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں جو تقریباً نصف صدی سے جاری ہیں،اور ان میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے،لیکن اس کے نتیجے مین ایران کمزور ہوا ہے یا مزید مضبوط یہ دنیا کے سامنے ہے۔ایران سائینس و ٹکنالوجی کے شعبے میں ہی نہیں بلکہ دفاع کے شعبے میں بھی اس حد تک ترقی کر چکا ہے کہ آج امریکی اسلحہ اور اسرائیلی ٹکنالوجی و دفاعی نظام کا کامیابی سے مقابلہ کر رہا ہے۔حزب اللہ،یمن کے ہوثیوں اور خود ایران کے کچھ عرصہ قبل اسرائیل پر کیے گئے کامیاب حملوں نے یہ ثابت کر دیا ہے۔اس لیے یہ گمان کرنا کہ اسرائیل کے تازہ حملے اور ایران کے فوجی کمانڈروں و سائینسد انوں کا قتل ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کو کم کر پائیگا اور اسرائیل کو اس علاقے کا طاقتور ترین غنڈہ بنانے میں مددگار ثابت ہوگا محض خام خیالی ہی ہے۔ایران کی فوجی طاقت اسرائیل کے مقابلے میں بظاہر کم اس لیے مانی جاتی ہے کہ اس کا دفاعی بجٹ اسرائیل سے کافی کم ہے ،لیکن گزشتہ برس ایران کے ذریعہ اسرائیل پر ۱۰۰ سے زیادہ راکٹ داغے جانے کے بعد بہت سے جنگی ماہرین کو ایران کی فوجی طاقت پر تعجب ہوا تھا۔ایران کی ظاہری فوجی طاقت سے الگ بہت سے ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ ایران کی دفاعی طاقت کے کئی پہلو ایسے ہیں کہ جنھیں اس نے دنیا سے پوشیدہ رکھاہے۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو اسرائیل ایرانی حمایت یافتہ چند لاکھ حماس لڑاکوں کو تقریباً دو سال بعد بھی شکست دینے میں ناکام ہے،وہ اسرائیل اس ایران کو کیسے شکست دے پائیگا کہ جسے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ سن ۲۰۰۶ میں شکست دینے کے بعد حال ہی میں کئی مرتبہ اپنے کامیاب فوجی حملوں سے دہلا چکا ہے۔
بہرحال اس وقت مشرق وسطیٰ میں جو حالات ہیں وہ انتہائی باعث تشویش ہیں،جنگ اگر بڑھتی ہے تو اس میں کس کی جیت اور کس کی ہار ہوگی اس پر کوئی رائے دینا جلد بازی ہوگی،لیکن ایک بات تو واضح ہے کہ اسرائیل نے اپنے دفاع کے بہانے ایران پر حملہ کرکے پورے خطّے میں جنگ پھیلنے کے لیے زمین تیار کر دی ہے۔اور اگر یہ جنگ بڑھتی ہے تواس کے اثرات معاشی و سماجی اعتبار سے تمام پڑوسی مسلم ممالک کے لیے بھی نئی مصیبتیں پیدا کرنے کا سبب بنینگے اور اس کے نتیجے میں بہت کچھ ایسا ہو سکتا ہے کہ جس کے تعلق سے فی الحال کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

امریکی حمایت یافتہ’ ٹارگیٹ کلنگ‘ اور ایران


سراج نقوی

جمعہ کی صبح اسرائیل نے جس طرح ایرانی کے دفاعی ٹھکانوں اور ایران کی اعلیٰ فوجی قیادت کو نشانہ بنایا اسے امریکی حمایت یافتہ ’ٹارگیٹ کلنگ‘ کے علاوہ اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔اسرائیل کے اس حملے نے مشرقی وسطیٰ میں قیام امن کے امکانات کو ایک مرتبہ پھر سبوتاژ کر دیا ہے۔اس لیے کہ ایران نے اسرائیل کے اس حملے کا جواب دینے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ صہیونی ریاست اور امریکہ کو اس کی سزا بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس حملے کے تعلق سے اپنا منافقانہ موقف بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ،’انھیں اسرائیل کے منصوبوں کا پہلے سے علم تھا ، لیکن امریکہ نے اسرائیلی فوج کے آپریشن میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔‘ٹرمپ کو یہ امید بھی ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے امریکہ کے ساتھ مزاکرات جاری رکھیگا۔
ٹرمپ کی مذکورہ وضاحت ایک فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔اس لیے کہ اسرائیلی حملے سے ایک روز قبل یعنی بدھ کے دن ہی امریکہ نے عراق میں اپنے سفارتخانے کو جزوی طور پر خالی کیا ہے۔ہر چند کہ امریکہ نے اس قدم کی کوئی وضاحت پیش نہیں کی ،لیکن بی بی سی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ ایران کے ساتھ ایٹمی پروگرام پر رکی بات چیت اس کا ایک سبب ہو سکتی ہے۔امریکہ نے مشرقی وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں سے بھی فوجیوں کے کنبوں کو واپس آنے کے لیے کچھ دن پہلے ہی کہہ دیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ ایران پر اسرائیل کے حملے کے مدنظر مشرق وسطیٰ میں اپنی موجودگی کو ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت کم کر رہا ہے،اور یہ عمل ہی امریکہ کے اسرائیل کی ایران کے خلاف ٹارگیٹ کلنگ میں راست طور پر ملوث ہونے کا ثبوت ہے۔ایران پر اسرائیل کے ممکنہ حملے کے تعلق سے ‘وال اسٹریٹ جنرل‘ میں شائع ایک رپورٹ میں کچھ دن قبل دعویٰ کیا گیا تھا کہ’ اگر ایران اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق امریکی تجویز کو قبول نہیں کرتا ہے تو اسرائیل ایران پر حملے کے لیے تیار ہے۔‘اس کے باوجود اگر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اسرائیلی حملے کے تعلق سے یہ کہہ رہے ہیں کہ امریکہ اس حملے میں شامل نہیں ہیں،تو یہ دنیا اور ایران کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ شائد امریکہ یا صدر ٹرمپ اس غلط فہمی کے شکار ہیں کہ اس طرح کے ہتھکنڈے ایران کو اس کے سامنے جھکنے اور ایٹمی پروگرام سے دست بردار ہونے کے لیے مجبور کر دینگے ۔لیکن جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو وہ پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اگر اسرائیل اس پر حملہ کرتا ہے تو وہ جوابی کارروائی میں صرف اسرائیل ہی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میںامریکی فوجی اڈّوں کو بھی نشانہ بنائیگا۔تازہ حملے کے بعد بھی ایران نے صاف کہا ہے کہ ،’اسرائیل اور امریکہ کو ان حملوں کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑیگی۔‘‘ ایران کا یہ موقف اس لیے درست ہے کہ اگر اسرائیل آج تک غزہ کے بے قصو ر بچّوں، بوڑھوں اور خواتین کی نسل کشی میںملوث ہے،اگر نیتن یاہو عالمی عدالت کے ذریعہ جنگی مجرم ٹھہرائے جانے کے باوجود غزہ کے شہریوں کے قتل و غارتگری اور انھیں بھوک سے تڑپا تڑپا کر مار دینے سے باز نہیں آیا ہے تو اس کی ذمہ داری جتنی اسرائیل یا نیتن یاہو کی ہے اس سے کچھ زیادہ امریکہ کی ہے،اس لیے کہ اسرائیل کو تمام ترمظالم اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے اسلحہ اور دیگر وسائل امریکہ ہی فراہم کرتا رہا ہے اور ٹرمپ نے بھی غزہ کی بربادی کے باوجود یہ سلسلہ جاری رکھا ہے۔اس لیے ایران کے ذریعہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو بھی نشانے پر لینا درست ہی ہے۔
بہرحال امریکہ کے پالتو ’ٹارگیٹ کِلر‘ اسرائیل نے ایران پر ’پیشگی حملہ‘ کرکے اس خطّے کو جنگ میں جھونک دیا ہے۔ اسرائیل کی صہیونی دہشت گرد حکومت نے ایران پر کیے گئے حملے کو ،’’اسرائیل کے وجود پر ایران کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک ٹارگیٹڈفوجی مہم‘‘قرار دیا ہے ،اور اعلان کیا ہے کہ ’’یہ مہم اس وقت تک جاری رہیگی،جب تک ضروری ہوگا۔‘‘اسرائیل کے وزیر دفاع نے ان حملوں کے لیے وہی بیہودہ دلیل پیش کی ہے جو اسرائیل ایسی کارروائیوں پر پہلے بھی دیتا رہا ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے قبول کیا کہ اسرائیل نے ایران پر پیشگی حملے کیے ہیں اور ان کا مقصد ایران کو اسرائیل سے پیدا خطرات کو کم کرنا ہے۔ماضی میںعراق میں صدام حسین کے دور میں اعراق کے ایٹمی
پلانٹ پر حملہ کرنے سے لیکر دیگر پڑوسی ممالک پر حملوں کے لیے اسرائیل یہی دلیل پیش کرتا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی بے غیرت مسلم ملک کی غیرت اتفاق سے جاگ جائے اور وہ بھی اسی دلیل کا سہارا لیکر اسرائیل پر حملہ کر دے تو کیا دنیا ،خصوصاً امریکہ اور یوروپ اسے تسلیم کر لینگے؟کیا ایرا ن کی طرف سے اسی دلیل کا سہارا لیکر اسرائیل کو نشانہ بنایا جاتا تو عالمی برادری اسی طرح خاموش رہتی جس طرح اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد ہے؟
اسرائیل شائد یہ مانتا ہے کہ ایران پر اس کے حملے اور وہاں کی اعلیٰ فوجی قیادت و سائینسدانوں کو قتل کرکے وہ ایران کو کمزور کر دیگا،لیکن یہ بات طے ہے کہ اس طرح کے حملے ایران کو مزید طاقت فراہم کرنے کا بالواسطہ سبب بنینگے۔ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد شاہ ایران کے دور کے اعلیٰ فوجی افسران کو انقلابی افواج نے راہ سے ہٹا یا تھا تو یہ امید کی جا رہی تھی کہ ایران اس سے کمزور ہوگا،لیکن ایسا نہیں ہوا۔اس کے بعد امریکہ کی سازشوں سے ایران اور اعراق کے درمیان جنگ چھڑی جو امریکہ کی اعراق کو درپردہ حمایت کے سبب ۸ سال تک چلی،لیکن ایران اس کے باوجود کمزور نہیں ہوا۔
اس کے بعد ایران پر امریکہ کی طرف سے اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں جو تقریباً نصف صدی سے جاری ہیں،اور ان میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے،لیکن اس کے نتیجے مین ایران کمزور ہوا ہے یا مزید مضبوط یہ دنیا کے سامنے ہے۔ایران سائینس و ٹکنالوجی کے شعبے میں ہی نہیں بلکہ دفاع کے شعبے میں بھی اس حد تک ترقی کر چکا ہے کہ آج امریکی اسلحہ اور اسرائیلی ٹکنالوجی و دفاعی نظام کا کامیابی سے مقابلہ کر رہا ہے۔حزب اللہ،یمن کے ہوثیوں اور خود ایران کے کچھ عرصہ قبل اسرائیل پر کیے گئے کامیاب حملوں نے یہ ثابت کر دیا ہے۔اس لیے یہ گمان کرنا کہ اسرائیل کے تازہ حملے اور ایران کے فوجی کمانڈروں و سائینسد انوں کا قتل ایران کی بڑھتی ہوئی طاقت کو کم کر پائیگا اور اسرائیل کو اس علاقے کا طاقتور ترین غنڈہ بنانے میں مددگار ثابت ہوگا محض خام خیالی ہی ہے۔ایران کی فوجی طاقت اسرائیل کے مقابلے میں بظاہر کم اس لیے مانی جاتی ہے کہ اس کا دفاعی بجٹ اسرائیل سے کافی کم ہے ،لیکن گزشتہ برس ایران کے ذریعہ اسرائیل پر ۱۰۰ سے زیادہ راکٹ داغے جانے کے بعد بہت سے جنگی ماہرین کو ایران کی فوجی طاقت پر تعجب ہوا تھا۔ایران کی ظاہری فوجی طاقت سے الگ بہت سے ماہرین یہ بھی مانتے ہیں کہ ایران کی دفاعی طاقت کے کئی پہلو ایسے ہیں کہ جنھیں اس نے دنیا سے پوشیدہ رکھاہے۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو اسرائیل ایرانی حمایت یافتہ چند لاکھ حماس لڑاکوں کو تقریباً دو سال بعد بھی شکست دینے میں ناکام ہے،وہ اسرائیل اس ایران کو کیسے شکست دے پائیگا کہ جسے ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ سن ۲۰۰۶ میں شکست دینے کے بعد حال ہی میں کئی مرتبہ اپنے کامیاب فوجی حملوں سے دہلا چکا ہے۔
بہرحال اس وقت مشرق وسطیٰ میں جو حالات ہیں وہ انتہائی باعث تشویش ہیں،جنگ اگر بڑھتی ہے تو اس میں کس کی جیت اور کس کی ہار ہوگی اس پر کوئی رائے دینا جلد بازی ہوگی،لیکن ایک بات تو واضح ہے کہ اسرائیل نے اپنے دفاع کے بہانے ایران پر حملہ کرکے پورے خطّے میں جنگ پھیلنے کے لیے زمین تیار کر دی ہے۔اور اگر یہ جنگ بڑھتی ہے تواس کے اثرات معاشی و سماجی اعتبار سے تمام پڑوسی مسلم ممالک کے لیے بھی نئی مصیبتیں پیدا کرنے کا سبب بنینگے اور اس کے نتیجے میں بہت کچھ ایسا ہو سکتا ہے کہ جس کے تعلق سے فی الحال کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں