کشمیر میں سیاحت کی بحالی کیسے ممکن

جاوید احمد مغل
ایڈریس خورہامہ لولاب

وادی کشمیر اپنے حسن کے بعث دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ یہاں کے اونچے اونچے پہاڑ ، سرسبز جنگلات ، ہرے بھرے میدان ، صاف و شفاف جھلیں ، بہتے ہوئے پانی کے دریا پوری دنیا میں مشہور ہیں ۔ یعنی وادی کا ذرا ذرا اپنی مثال آپ ہے ۔ ہر سال ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں کی تعداد میں سیاح یہاں کی سیر پر آتے ہیں اور یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہیں۔
سیاحت کو جموں و کشمیر کی معیشت کے لئے ریڈھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے ۔ اس سے یہاں کے لاکھوں پڑھے لکھے بےروزگار نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے ۔ جن میں ہوٹل مالکان ، دوکاندار ، ڈرائیور ، شکارا والے ، گھوڑے والے یہاں تک کہ سڑکوں کے کناروں پر ریڈھی لگانے والوں کو بھی روزگار میسر ہوتا ہے ۔ پچھلے چار پانچ سالوں کے دوران ریکاڑ توڑ سیلانیوں نے وادی کی سیر کی ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2024 میں 34.48 لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے جن میں 43000 ہزار غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں نے وادی کی سیر کی ۔ یہ سب سرکار کی انتھک کوششوں سے ہی ممکن ہو پایا ۔ سال 2022 میں جموں کشمیر سرکار نے سیاحت کے فروغ کے لئے وادی کے باڈر علاقوں کو سیاحوں کے لئے کھولنے کا فیصلہ کیا ۔ جس کا باڈر علاقوں کی سیاحت پر کافی مثبت اثر پڑا ۔ اس سے نہ صرف باڈر علاقوں کے لوگوں کو روزگار ملا بلکہ سیاحوں نے ایسے علاقوں کو دریافت کیا جو دنیا کی نظروں سے اوجھل تھے ۔ گرمی کے ایام میں نہ صرف وادی کے بلکہ ملک اور بیرون ملک سے آئے ہوئے سیاحوں نے بھی ان خوبصورت جگہوں سیر کی ۔
رواں برس اپریل مہینے کی 22 تاریخ کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ایک خوبصورت اور مشہور سیاحتی مقام پہلگام کے بیسرن میں ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا ۔ جس میں دہشت گردوں نے 26 معصوم لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ یہ خبر سنتے ہی وادی کے لوگوں نے اپنے گھروں سے نکل کر اپنے مہمانوں پر ہوئے حملے کی کڑے الفاظوں میں مذمت کی اور قاتلوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا سرکار سے مطالبہ کیا ۔ کشمیریوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا کہ کشمیر دہشت گردی کے خلاف ہے اور کشمیری قوم ایک امن پرست قوم ہے ۔ یہ کشمیر کی سیاحت کا وہ کالا دن تھا جس یہ نے یہاں کی سیر پر آئے ہوئے سیلانیوں کو کشمیر بغیر سیر کے نکلنے پر مجبور کیا ۔ جس کی وجہ سے اس صنعت سے جڑے لوگوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ، کیونکہ یہ ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ تھا ۔
اب کشمیر میں سیاحت کو دوبارہ پٹڑی پر لانے کے لئے ہم سب پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اس میں سب سے زیادہ اہم رول سرکار کا بنتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلٰی عمر عبداللہ نے سیاحتی مقام پہلگام اور گلمرگ میں اپنی کابینہ کی دو الگ الگ میٹنگوں کا انعقاد کیا ۔ جس میں سیاحت کے حوالے سے بات چیت کی گئی اور سرکار نے سیاحوں کو یقین دیا کہ وہ سیاحوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے ۔ وزیر اعلٰی کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے مل کر چننے ہوئے ممبران کو ملک کی مختلف ریاستوں میں بیجھے تاکہ وہ وہاں کی سرکار اور لوگوں سے بات کرے اور اس بات پر انھیں قائل کرے کہ وہ کشمیر کی سیر پر آئے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ سیاحوں کی حفاظت کے لئے سیاحتی جگہوں پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کرے تاکہ سیاح ان جگہوں پر اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکے ۔
میڈیا جس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔ کو بھی اس مشکل وقت میں اپنا مثبت رول ادا کرنا ہوگا ۔ جس طرح آکاشونی کیندر سرینگر کے شعبہ خبر نے 22 اپریل کے بعد یہاں رکے ہوئے سیاحوں سے روزانہ کی بنیاد پر بات کی اور ان کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچایا ۔
سالانہ شری امرناتھ جی یاترا امسال 3 جولائی سے شروع ہو رہی ہے ۔ جو کشمیر کے لئے ایک سنہری موقع ہے ۔ جس میں کشمیری کو ایک بار پھر اپنی مہمانوازی اور حسن اخلاق پیش کرنے کا موقع نصیب ہو رہا ہے ۔ لہٰذا یاتیروں کا پر جوش انداز میں استقبال کیا جانا چاہیے اور ان کی سہولت کے لئے ہر چیز مناسب داموں میں دستیاب رکھی جائے تاکہ انھیں کسی بھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ یہاں سے خوشی خوشی اپنے گھر واپس پہنچے ۔ امید ہے کہ شری امرناتھ جی یاترا سے کشمیر کی سیاحت کو فروغ ملے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

کشمیر میں سیاحت کی بحالی کیسے ممکن

جاوید احمد مغل
ایڈریس خورہامہ لولاب

وادی کشمیر اپنے حسن کے بعث دنیا بھر میں مشہور ہے ۔ یہاں کے اونچے اونچے پہاڑ ، سرسبز جنگلات ، ہرے بھرے میدان ، صاف و شفاف جھلیں ، بہتے ہوئے پانی کے دریا پوری دنیا میں مشہور ہیں ۔ یعنی وادی کا ذرا ذرا اپنی مثال آپ ہے ۔ ہر سال ملک اور بیرون ملک سے لاکھوں کی تعداد میں سیاح یہاں کی سیر پر آتے ہیں اور یہاں کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہیں۔
سیاحت کو جموں و کشمیر کی معیشت کے لئے ریڈھ کی ہڈی تصور کیا جاتا ہے ۔ اس سے یہاں کے لاکھوں پڑھے لکھے بےروزگار نوجوانوں کو روزگار ملتا ہے ۔ جن میں ہوٹل مالکان ، دوکاندار ، ڈرائیور ، شکارا والے ، گھوڑے والے یہاں تک کہ سڑکوں کے کناروں پر ریڈھی لگانے والوں کو بھی روزگار میسر ہوتا ہے ۔ پچھلے چار پانچ سالوں کے دوران ریکاڑ توڑ سیلانیوں نے وادی کی سیر کی ۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق سال 2024 میں 34.48 لاکھ سے زیادہ سیاحوں نے جن میں 43000 ہزار غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں نے وادی کی سیر کی ۔ یہ سب سرکار کی انتھک کوششوں سے ہی ممکن ہو پایا ۔ سال 2022 میں جموں کشمیر سرکار نے سیاحت کے فروغ کے لئے وادی کے باڈر علاقوں کو سیاحوں کے لئے کھولنے کا فیصلہ کیا ۔ جس کا باڈر علاقوں کی سیاحت پر کافی مثبت اثر پڑا ۔ اس سے نہ صرف باڈر علاقوں کے لوگوں کو روزگار ملا بلکہ سیاحوں نے ایسے علاقوں کو دریافت کیا جو دنیا کی نظروں سے اوجھل تھے ۔ گرمی کے ایام میں نہ صرف وادی کے بلکہ ملک اور بیرون ملک سے آئے ہوئے سیاحوں نے بھی ان خوبصورت جگہوں سیر کی ۔
رواں برس اپریل مہینے کی 22 تاریخ کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے ایک خوبصورت اور مشہور سیاحتی مقام پہلگام کے بیسرن میں ایک دلخراش واقعہ رونما ہوا ۔ جس میں دہشت گردوں نے 26 معصوم لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ یہ خبر سنتے ہی وادی کے لوگوں نے اپنے گھروں سے نکل کر اپنے مہمانوں پر ہوئے حملے کی کڑے الفاظوں میں مذمت کی اور قاتلوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کرنے کا سرکار سے مطالبہ کیا ۔ کشمیریوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کو یہ پیغام دیا کہ کشمیر دہشت گردی کے خلاف ہے اور کشمیری قوم ایک امن پرست قوم ہے ۔ یہ کشمیر کی سیاحت کا وہ کالا دن تھا جس یہ نے یہاں کی سیر پر آئے ہوئے سیلانیوں کو کشمیر بغیر سیر کے نکلنے پر مجبور کیا ۔ جس کی وجہ سے اس صنعت سے جڑے لوگوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا ، کیونکہ یہ ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ تھا ۔
اب کشمیر میں سیاحت کو دوبارہ پٹڑی پر لانے کے لئے ہم سب پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اس میں سب سے زیادہ اہم رول سرکار کا بنتا ہے ۔ حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلٰی عمر عبداللہ نے سیاحتی مقام پہلگام اور گلمرگ میں اپنی کابینہ کی دو الگ الگ میٹنگوں کا انعقاد کیا ۔ جس میں سیاحت کے حوالے سے بات چیت کی گئی اور سرکار نے سیاحوں کو یقین دیا کہ وہ سیاحوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے ۔ وزیر اعلٰی کو چاہیے کہ وہ اپوزیشن جماعتوں سے مل کر چننے ہوئے ممبران کو ملک کی مختلف ریاستوں میں بیجھے تاکہ وہ وہاں کی سرکار اور لوگوں سے بات کرے اور اس بات پر انھیں قائل کرے کہ وہ کشمیر کی سیر پر آئے۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ سیاحوں کی حفاظت کے لئے سیاحتی جگہوں پر سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کرے تاکہ سیاح ان جگہوں پر اپنے آپ کو محفوظ سمجھ سکے ۔
میڈیا جس کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے ۔ کو بھی اس مشکل وقت میں اپنا مثبت رول ادا کرنا ہوگا ۔ جس طرح آکاشونی کیندر سرینگر کے شعبہ خبر نے 22 اپریل کے بعد یہاں رکے ہوئے سیاحوں سے روزانہ کی بنیاد پر بات کی اور ان کے پیغام کو پوری دنیا تک پہنچایا ۔
سالانہ شری امرناتھ جی یاترا امسال 3 جولائی سے شروع ہو رہی ہے ۔ جو کشمیر کے لئے ایک سنہری موقع ہے ۔ جس میں کشمیری کو ایک بار پھر اپنی مہمانوازی اور حسن اخلاق پیش کرنے کا موقع نصیب ہو رہا ہے ۔ لہٰذا یاتیروں کا پر جوش انداز میں استقبال کیا جانا چاہیے اور ان کی سہولت کے لئے ہر چیز مناسب داموں میں دستیاب رکھی جائے تاکہ انھیں کسی بھی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ یہاں سے خوشی خوشی اپنے گھر واپس پہنچے ۔ امید ہے کہ شری امرناتھ جی یاترا سے کشمیر کی سیاحت کو فروغ ملے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں