
پرہلاد جوشی
مرکزی وزیر
نئی اور قابل تجدید توانائی
’وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیش قیادت میں، ہندوستان نے نہ صرف قابل تجدید توانائی کے شعبے میں اہم اہداف کا تعین کیا ، بلکہ ہم نے عزم، اختراع اور بے مثال پیمانے کے ساتھ اسےپورا بھی کیا ہے ‘
آج، ہندوستان نہ صرف دنیا کے صف اول کے صاف توانائی کے قائدین میں سے ایک ہے، بلکہ شمسی توانائی میں تیسرے نمبر پر، پن بجلی اور قابل تجدید توانائی کی صلاحیت میں چوتھے مقام پر ہے۔ 232 گیگا واٹ سے زیادہ قابل تجدید صلاحیت کی تنصیب اور 176 گیگاواٹ زیر تعمیرصلاحیت کے ساتھ، ہم نہ صرف اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں بلکہ توانائی کی منتقلی پر عالمی بحث کو بھی فعال طور پر تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ پیش رفت کوئی اتفاق نہیں ہے، یہ جرات مندانہ اصلاحات، بروقت فیصلوں اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں گزشتہ11 برسوں میں مسلسل کئے گئے واضح طویل مدتی وژن کا نتیجہ ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا ایک متحرک قابل تجدید توانائی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کا واضح وژن رہا ہے۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ کے طور پر انہوں نے صاف توانائی کے عالمی ترجیح بننے سے بہت پہلے بڑے پیمانے پر شمسی منصوبوں کا آغاز کیا۔ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد انہوں نے اس وژن کو قومی سطح پر آگے بڑھایا۔ اس کے نتیجے میں آج ہندوستان شمسی توانائی، پن بجلی اور صاف توانائی کی اختراع میں عالمی رہنما کے طور پر کھڑا ہے۔
گزشتہ سال میں ہی، ہم نے قومی گرڈ میں ریکارڈ 29 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی کا اضافہ کیا ہے۔ شمسی توانائی کی صلاحیت 2014 میں صرف 2.63 گیگا واٹ تھی،جو 2025 میں بڑھ کر 108 گیگا واٹ سے زیادہ ہو جائے گی، جو حیرت انگیز طور پر 41 گنا اضافہ ہے۔پن بجلی کی صلاحیت بھی 51 گیگاواٹ کو تجاوز گئی ہے۔ ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ان پروجیکٹوں کو ون نیشن ون گرڈ کے وژن کو پورا کرتے ہوئے اب ایک مربوط ٹرانسمیشن سسٹم کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک کیا جا رہا ہے، جہاں ہر ہندوستانی، جغرافیائی محل وقوع سے قطع نظر، قابل اعتماد بجلی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔
لیکن تبدیلی کے اس پیمانے کی تعریف کرنے کے لیے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم نے کہاں سے آغاز کیا تھا۔ 2014 میں، ہندوستان کا پاور سیکٹر گہرے بحران کا شکار تھا۔ بجلی کی قلت کی سنگین صورتحال تھی۔ 2012 میں ڈبل گرڈ کی ناکامی، جس نے سب سے پہلے 36000 میگاواٹ لوڈکے نقصان کے ساتھ شمالی علاقے کو نشانہ بنایا اور پھر شمالی، مشرقی اور شمال مشرقی گرڈز کے گرنےکا باعث بنے، جس سے 48،000 میگاواٹ بجلی متاثر ہوئی، ہماری یادوں میں ابھی تک تازہ ہے۔ ٹرانسمیشن کی انفراسٹرکچر پر بھاری دباؤ تھا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کم تھا۔ قابل تجدید توانائی کو مہنگا اور غیر معتبر سمجھا جاتا تھا۔ عالمی سطح پر بھارت کو صاف توانائی کے شعبے میں سنجیدہ کھلاڑی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا تھا اور ملک کے اندر عوام کی توقعات بھی کم تھیں۔ پالیسی کی غیر فیصلہ سازی نے بھی ہندوستان کو ’نازک پانچ‘ معیشتوں میں سے ایک قرار دیا گیا تھا ۔
یہ منظر نامہ فیصلہ کن طور پر بدل گیا ہے۔ ہندوستان توانائی کے خسارے سے توانائی میں آتم نربھرتا کی طرف بڑھ گیا ہے۔ پیچھے رہ جانے سے لے کر، اب ہم ایک مثال کے طور پر قیادت کر رہے ہیں۔
یہاں، میں مودی حکومت کے تحت گزشتہ 11 برسوں کے دوران قابل تجدید توانائی کے شعبے میں 11 تبدیلی لانےوالی اصلاحات کو اجاگر کرتا ہوں، جن میں سے ہر ایک خود کفالت، جامع ترقی اور پائیداری کے لیے ہمارے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
پہلا قدم، فیڈ ان ٹیرف سے شفاف، مارکیٹ پر مبنی بولی کے عمل کی طرف تبدیلی، ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔مسابقتی بولی اور ٹیرف کی اصلاحات کے نتیجے میں، شمسی توانائی کے ٹیرف میں 2010 میں95.10روپےفی یونٹ سے 2021 تک99.1 روپےفی یونٹ تک زبردست کمی آئی، جس نے بھارت کو عالمی سطح پر شمسی توانائی میں قیمتوں کا رہنما بنا دیا۔ یہ اصلاحات سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مستحکم کرنے کا باعث بنی اور حیاتیاتی ایندھن کے ساتھ قیمتوں کے برابر ہونے کی بنیاد فراہم کی۔
دوسرا، بین ریاستی ٹرانسمیشن سسٹم (آئی ایس ٹی ایس) چارجز میں مراعاتایک اور بڑا قابل عمل قدم ہے۔ ان چارجز کو ہٹا کر، حکومت نے پروجیکٹ ڈیولپرز کے لیے ایک بڑی رکاوٹ کو ختم کر دیا۔ یہ پالیسی 2032 تک آف شور ونڈ کے لیے اور 2030 تک سبز ہائیڈروجن کے لیے توسیع کی گئی تھی، جس نے مؤثر طور پر قابل تجدید توانائی کی تنصیب کو جغرافیائی حدودسے آزاد کر دیا اور پورے بھارت میں توانائی کے بہاؤ کو فروغ دیا۔
تیسرا، درآمدی انحصار کو کم کرنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے، حکومت نے 24000 کروڑ روپے کی ترغیب کے ساتھ سولر مینوفیکچرنگ کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیب (پی ایل آئی) اسکیم متعارف کرائی۔ اس کی وجہ سے گھریلو مینوفیکچرنگ میں تیزی آئی ہے، جو 2014 میں3.2گیگا واٹ سے بڑھ کر ماڈیولز میں 88 گیگا واٹ اور 2025 تک سیل کی صلاحیت میں 0 سے 25 گیگا واٹ تک پہنچ گئی ہے۔ ہندوستان اب صرف شمسی توانائی کی تنصیب نہیں کر رہا ہے، بلکہ اسے بنا رہا ہے۔ یہ سپلائی چین کو مضبوط کرتا ہے اور توانائی کی حفاظت کو بڑھاتا ہے۔
چوتھا، خودانحصاری کو اور مقامی مینوفیکچرنگ کو مضبوط کرنے کے لیے، حکومت نے منظور شدہ ماڈلز اور مینوفیکچررز کی فہرست (اے ایل ایم ایم)، منظور شدہ اجزاء اور مینوفیکچررز کی فہرست (اے ایل سی ایم) اور ملکی مواد کی ضروریات (ڈی سی آر) جیسے اقدامات نافذ کیے۔ان اقدامات نے معیار کی ضمانت، سپلائی چین کی ساکھ کو یقینی بنایا اور درآمد شدہ شمسی اجزاء پر انحصار کو کم کیا۔ ان اقدامات کی بدولت بھارتی مینوفیکچررز کے لیے مساوی مواقع فراہم ہوئے اور ایک پائیدار، خود انحصار اور مسابقتی شمسی توانائی کے نظام کی راہ ہموار ہوئی۔
پانچواں، وزیرِ اعظم کے وژن کے تحت، ’’پی ایم سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا‘‘ ایک انقلابی پہل بن چکی ہے، جس کا ہدف ایک کروڑ گھروں کی چھتوں پر سولر سسٹمز لگانا ہے تاکہ 30 گیگا واٹ کی غیر مرکزی صلاحیت پیدا کی جا سکے۔ اب تک تقریباً 13.75 لاکھ گھرانے اس اسکیم سے منسلک ہو چکے ہیں اور یہ منصوبہ زمینی سطح پر صاف توانائی تک رسائی کو مکمل طور پر بدل رہا ہے۔
چھٹواں، ’پی ایم-کُسُم ‘اسکیم زراعت کو شمسی توانائی سے جوڑ رہی ہے، جس سے کسان غیر مرکزی شمسی نظام کی تنصیب کر نے کے اہل ہورہے ہیں ۔ اب تک 11 لاکھ سے زائد پمپ کو شمسی توانائی سے چلنے والا بنایا جاچکا ہے،جس سے بھارت کے سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والے شعبے کو ایک ماحولیاتی حلیف میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ساتواں، بھارت اب صاف توانائی کے معاملے میں دنیا کی پیروی نہیں کر رہا، بلکہ اس کی قیادت کر رہا ہے۔2014 میں جہاں غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی آمد محدود تھی، وہیں اپریل 2020 سے ستمبر 2024 کے درمیان بھارت نے قابل تجدید توانائی (آر ای) کے شعبے میں98.19 ارب ڈالر کی ایف ڈی آئی حاصل کی، جس سے یہ شعبہ بھارت میں سب سے زیادہ ایف ڈی آئی حاصل کرنے والے شعبوں میں شامل ہو گیا ہے۔ یہ کامیابی عالمی سطح پر بھارت کے بڑھتے ہوئے مقام اور معاشی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔اس سفر میں ایک اور اہم محرک ’نیشنل گرین ہائیڈروجن مشن‘ ہے، جس کے لیے تقریباً20000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ اس کا مقصد بھارت کو صاف ایندھن کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔
آٹھواں، ٹرانسمیشن ڈھانچہ اس تبدیلی میں ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے۔بھارت کی جانب سے ’گرین اینرجی کوریڈورز‘ میں سرمایہ کاری اور2030 تک کے ٹرانسمیشن منصوبہ بندی کے روڈمیپ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ قابل تجدید توانائی کے منصوبے مؤثر اور قابل اعتماد طریقے سے نیشنل گرڈ سے منسلک ہو سکیں۔یہ مضبوط ٹرانسمیشن کا نظام بجلی کی کٹوتی کے خطرات کو کم کرتا ہےاورگرڈ کی پائیداری اور استحکام کو بھی بڑھاتا ہے۔
نواں، حکومت بھارت کی وسیع سمندری ساحلی پٹی کی بڑی صلاحیت کو بھی استعمال کر رہی ہے۔’2030 تک 37 گیگا واٹ‘ کی آف شور ونڈ منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جنہیں قابل عمل فرق کی مالی اعانت اور مضبوط سائٹ سروے کے ذریعہ تعاون کیا جارہا ہے۔ گجرات اور تمل ناڑو میں پائلٹ پراجیکٹس پہلے ہی بھارت کی اگلی قابل تجدید توانائی کی پیش قدمی کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
دسواں، رکاوٹ کے چیلنج کو تسلیم کرتے ہوئے، ہندوستان نے ہائبرڈ اور چوبیس گھنٹے بجلی پر اپنی پالیسی کے ساتھ فیصلہ کن قدم اٹھایا ہے۔ ونڈ سولر ہائبرڈ اور فرم اور ترسیل کی جاسکنے والی قابل تجدید توانائی (ایف ڈی آر ای) کو فروغ دے کر، ہندوستان چوبیس گھنٹے صاف توانائی کے حل تیار کر رہا ہے۔ 65گیگا واٹ سے زائد منصوبے زیر غور ہیں، جو گرڈ کی بھروسہ مندی کے لیے اورحیاتیاتی ایندھن پر مبنی بیس لوڈ پاور کی جگہ لینے کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
گیارہواں، قبائلی اور دور دراز علاقوں میں ہم ان گھرانوں تک پہنچ رہے ہیں جن کے پاس پہلے کبھی بجلی نہیں تھی۔خاص طور پر کمزور قبائلی گروپس کے لیے خصوصی شمسی پروگراموں کے ذریعے، اور پی ایم جن من مشن اور سی پی ایس یو اسکیم فیز2 کے تحت ہزاروں گھروں کو بجلی فراہم کی گئی ہے۔یہ صرف توانائی کے پروگرام نہیں بلکہ بااختیار بنانے اور شمولیتی ترقی کے اہم ذریعہ ہیں۔
عالمی پذیرائی اور گھریلو عزم
بھارت صرف اپنے ملک میں ترقی نہیں کر رہا ہے، بلکہ عالمی سطح پر قیادت کر رہا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں شروع کی گئی’انٹرنیشنل سولر الائنس میں 100 سے زائد ممالک شامل ہو چکے ہیں۔ ‘ون سن ون ورلڈ ون گرڈ’ کا وژن دنیا کو دکھا رہا ہے کہ شمسی توانائی کیسے ممالک کو متحد کر سکتی ہے۔ یہ پہلی بین الاقوامی اور بین حکومتی تنظیم ہے جس کا ہیڈکوارٹر بھارت میں ہے۔دنیا بھارت کو دیکھ رہی ہے اور دنیا بھارت سے سیکھ رہی ہے۔
آر ای -انویسٹ 2024 کانفرنس میں دنیا بھر کے سرمایہ کاروں نے بھارت کے صاف توانائی کے مستقبل کے لیے 32.45 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے، جو 2030 تک مکمل کی جائے گی۔ قابل تجدید توانائی کے لیے مالی معاونت کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کی رفتار بڑھانے کے لیے تمام بڑے بینکوں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک ’قومی ورکشاپ برائے مالی وسائل کی فراہمی‘ بھی منعقد کی گئی۔وزیر اعظم کی رہنمائی میں تمام وزرائےکے ساتھ باقاعدہ اجلاس بھی منعقد ہو رہے ہیں تاکہ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو تیز کیا جا سکے اور ریاستوں کے درمیان مسابقت اور اختراع کو فروغ دیا جا سکے۔
حال ہی میں 24 مئی 2025 کو منعقدہ نیتی آیوگ کی گورننگ کونسل میٹنگ میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے تمام وزارائے اعلیٰ کے ساتھ صاف توانائی کے شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر تفصیلی بات چیت کی۔ اس موقع پر ’سوریہ متر، وایومتر، اور جَل اُورجا متر‘ جیسے اقدامات کو اہم پروگرام کے طور پر اجاگر کیا گیا، جس کا مقصد مستقبل کے لیے تیار سبز افرادی قوت تیار کرنا ہے۔
وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی نے 2030 تک 500 گیگاواٹ غیر حیاتیاتی ایندھن پر مبنی توانائی کی صلاحیت کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس وقت ہمارا نصب شدہ نظام 228 گیگاواٹ پر پہنچ چکا ہے، جبکہ مزید 176 گیگاواٹ زیر تعمیر ہے اور 72 گیگاواٹ بولی کے مرحلے میں ہے۔ ہم صرف مقرکردہ راستے پر نہیں بلکہ اس سے آگے ہیں۔یہ نہ صرف ہماری بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گا، بلکہ 2032 تک متوقع طور پر دوگنی ہونے والی بجلی کی مانگ کو بھی سہارا دے گا۔
ساتھ ہی، ہم 2047 تک 1800 گیگاواٹ غیر حیاتیاتی ایندھن کی صلاحیت کے طویل مدتی ہدف کی جانب مستقل قدم بڑھا رہے ہیں۔یہ تمام سنگ میل ہمارے عزم کی بنیاد ہیں، جو وکست بھارت کی تعمیر کی طرف لے جاتے ہیں، جو صاف اور مجموعی ترقی کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے۔
نیا بھارت عالمی اُفق پر چمک رہا ہے اور وزیرِ اعظم مودی کی قیادت میں، ہم دنیا کی رہنمائی کرنے کے لیے تیار ہیں۔


